آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, ٹانک: شدت پسندوں نے بارود سے بھری گاڑی فوج اور پولیس کی مشترکہ چیک پوسٹ سے ٹکرا دی، 12 فوجی اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک

پاکستان میں صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ ’مانچھی خیل‘ پر شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے حملے کے نتیجے میں 12 فوجی اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک اہلکار بھی شامل ہے۔

لائیو کوریج

  1. اقوامِ متحدہ نے آبنائے ہرمز میں پھنسے تقریباً چھ ہزار ملاحوں کی واپسی کا مطالبہ کیا

    اقوامِ متحدہ نے مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں شامل ممالک سے کہا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں پھنسے ہوئے تقریباً چھ ہزار ملاحوں کے انخلا اور واپسی کے لیے تعاون کریں۔

    اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق، وولکر ترک، نے ان ہزاروں ملاحوں کی صورتحال پر فوری توجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے جو ان کے مطابق اس آبی گزرگاہ میں ’انسانی اور انسانی حقوق کے لحاظ سے ایک شدید بحران‘ کا سامنا کر رہے ہیں۔

    اس سے پہلے، ایران اور امریکہ کے درمیان دوبارہ کشیدگی شروع ہونے سے پہلے، اقوامِ متحدہ کی بحری ایجنسی نے اعلان کیا تھا کہ آبنائے ہرمز میں سینکڑوں جہازوں پر سوار کم از کم چھ ہزار ملاح پھنسے ہوئے ہیں اور جنگ بندی کے باوجود انھیں ابھی تک علاقے سے نکالنے اور وہاں سے جانے کا موقع نہیں مل سکا ہے۔

  2. بریکنگ, ٹانک: شدت پسندوں نے بارود سے بھری گاڑی فوج اور پولیس کی مشترکہ چیک پوسٹ سے ٹکرا دی، 12 فوجی اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک

    پاکستان میں صوبہ خیبرپختونخوا کے ضلع ٹانک میں پولیس اور فوج کی ایک مشترکہ چیک پوسٹ ’مانچھی خیل‘ پر شدت پسندوں کی جانب سے کیے گئے حملے کے نتیجے میں 12 فوجی اہلکاروں سمیت 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں دو پولیس اہلکار اور محکمہ جنگلات کا ایک اہلکار بھی شامل ہے۔

    پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق شدت پسندوں کی جانب سے یہ حملہ جمعرات اور جمعہ کی درمیانی شب کیا گیا جس کے دوران حملہ آوروں نے بارودی مواد سے بھری ایک گاڑی کو چیک پوسٹ کی حفاظتی دیوار سے ٹکرا دیا اور دھماکے کی شدت سے ’چیک پوسٹ کا بنیادی ڈھانچہ بُری طرح متاثر ہوا۔‘

    آئی ایس پی آر کا دعویٰ ہے کہ جمعرات کی شب حملہ آوروں نے ابتدائی طور پر چیک پوسٹ کی سکیورٹی بریچ کرنے کی کوشش کی تاہم سکیورٹی فورسز کی جانب سے اس حملے کو ناکام بنایا گیا اور اس دوران فرار ہونے والے شدت پسندوں کا تعاقب کر کے انھیں نشانہ بنایا گیا جس کے نتیجے میں 12 شدت پسند ہلاک ہوئے۔

    پاکستانی فوج کے مطابق ’حملہ آوروں نے اپنی ناکامی اور بوکھلاہٹ میں بارودی مواد سے بھری ایک گاڑی کو چیک پوسٹ کے حفاظتی احاطے کی دیوار سے ٹکرا دیا‘ جس کے نتیجے میں 12 فوجی اہلکاروں سمیت چیک پوسٹ پر موجود 15 افراد کی ہلاکت ہوئی۔

    نمائندہ بی بی سی عزیز اللہ خان کے مطابق چیک پوسٹ پر ہوئے اس حملے کے نتیجے میں مانجھی خیل چیک پوسٹ مکمل طور پر منہدم ہو گئی ہے جبکہ حملے کے فوراً بعد زخمی اہلکاروں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔

    دوسری جانب سکیورٹی خدشات کے پیش نظر ضلعی انتظامیہ نے ضلع بھر میں سیکش 144 نافذ کر دیا ہے، جبکہ شہریوں سے گھروں میں رہنے اور غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کی اپیل کی گئی ہے۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق علاقے میں کلیئرنس آپریشن جاری ہے۔ اس موقع پر اس عزم کا اظہار بھی کیا گیا کہ شدت سپندوں کے خلاف انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    یاد رہے کہ جمعہ کی دوپہر پولیس لائن ٹانک میں ہلاک ہونے والے دو پولیس اہلکاروں، کانسٹیبل بلال خان اور کانسٹیبل طلا محمد، اور محکمہ جنگلات کے فارسٹ گارڈ نور اعظم کی نمازِ جنازہ سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئی۔

    نمازِ جنازہ میں انسپکٹر جنرل آف پولیس خیبر پختونخوا ذوالفقار حمید سمیت سرکاری و سیاسی شخصیات نے شرکت کی۔

    آئی جی خیبر پختونخوا نے اس سے قبل شدت پسندوں کے اس حملے میں زخمی ہونے والے پولیس اہلکاروں کانسٹیبل عصمت اللہ، کانسٹیبل جسیم خان، کانسٹیبل داؤد خان اور کانسٹیبل پیر غلام کی عیادت کی۔

    مانجھی خیل چیک پوسٹ کہاں واقع ہے؟

    مانجھی خیل چیک پوسٹ ٹانک شہر سے لگ بھگ 15 کلومیٹر دور ٹانک، ڈیرہ اسماعیل خان روڈ پر واقع ہے۔

    خیبر پختونخوا کا جنوبی ضلع ٹانک حالیہ عرصے میں شدت پسند حملوں سے متاثرہ علاقوں میں شامل رہا ہے۔

    رواں برس کے اوائل میں، 12 جنوری 2026 کو، ٹانک کے علاقے گومل میں شدت پسندوں نے پولیس کی ایک بکتر بند گاڑی کو بارودی مواد سے نشانہ بنایا تھا جس کے نتیجے میں چھ پولیس اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔ اسی طرح رواں ماہ 13 جولائی کو ٹانک، جنڈولہ روڈ پر گڑہ حیات، ماشا جان بنگلہ کے قریب پولیس کی ایک اور بکتر بند گاڑی کو مبینہ ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا، جس میں دو پولیس اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوئے تھے۔

    جغرافیائی اعتبار سے ٹانک خیبر پختونخوا کے جنوبی حصے میں ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کا ضلع ہے۔ ٹانک شہر ڈیرہ اسماعیل خان کے شمال مغرب اور جنڈولہ کے جنوب مشرق میں واقع ہے، جبکہ ضلع کے مغرب میں جنوبی وزیرستان اور شمال مشرق کی جانب لکی مروت کا علاقہ واقع ہے۔

    جنوبی وزیرستان کے ساتھ اس کی قربت کے باعث ٹانک قبائلی علاقوں اور خیبر پختونخوا کے بندوبستی اضلاع کے درمیان ایک اہم جغرافیائی گزرگاہ بھی سمجھا جاتا ہے۔

  3. مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے نابلس میں جھڑپیں، چار فلسطینی اور ایک اسرائیلی ہلاک

    مقبوضہ مغربی کنارے میں نابلس کے جنوب مغرب میں واقع گاؤں تل کے قریب جمعے کو ہونے والی جھڑپوں میں چار فلسطینی اور ایک اسرائیلی ہلاک ہوگیا، جبکہ جھڑپوں کے آغاز کے بارے میں فلسطینی اور اسرائیلی مؤقف ایک دوسرے سے مختلف ہیں۔

    فلسطینی وزارتِ صحت نے کہا کہ چاروں فلسطینی اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے، جبکہ چار دیگر زخمی ہوئے جن میں سے تین کی حالت تشویشناک ہے۔

    وزارت کے مطابق یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب گاؤں کے رہائشیوں نے آبادکاروں کے حملے کا مقابلہ کیا۔

    وزارت نے ایک مختصر بیان میں کہا کہ آبادکاروں نے تل میں فلسطینی گھروں پر حملہ کیا اور ان پر براہِ راست گولیاں چلائیں۔ طبی ذرائع کے مطابق ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

    دوسری جانب، اسرائیلی امدادی سروسز نے بتایا کہ تل گاؤں اور حفات گلعاد نامی اسرائیلی بستی کے قریب ہونے والی جھڑپوں میں ایک اسرائیلی ہلاک ہوگیا۔

    ایک فلسطینی عینی شاہد نے بی بی سی کو بتایا کہ گاؤں کے رہائشی تقریباً 30 آبادکاروں کا مقابلہ کرنے گئے تھے جو علاقے میں فلسطینی گھروں پر حملے کر رہے تھے۔

    اس کے برعکس، اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ چند اسرائیلی شہری پیدل چل رہے تھے جن پر حملہ کیا گیا، جس کے بعد فوج نے ان کے دفاع کے لیے مداخلت کی۔

    اسرائیلی اخبار ’یسرائیل ہیوم‘ نے اسرائیلی موقف نقل کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ایک فلسطینی نے ایک بستی کے سکیورٹی اہلکار سے اسلحہ چھین لیا اور اسرائیلیوں پر فائرنگ کی۔

    بی بی سی کے لیے جھڑپوں کے آغاز کے حوالے سے دونوں موقف کی آزادانہ طور پر تصدیق کرنا ممکن نہیں ہو سکا۔

  4. اسحاق ڈار کی عباس عراقچی سے ملاقات: علاقائی امن کے لیے تعاون جاری رکھنے اور اسلام آباد مفاہمت کو آگے بڑھانے پر زور

    پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے موقع پر ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی سے ملاقات کی۔

    ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان قریبی اور دیرینہ تعلقات کا اعادہ کیا اور خطے کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔

    اسحاق ڈار نے حالیہ علاقائی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے پائیدار امن اور استحکام کے لیے مذاکرات، تحمل، کشیدگی میں کمی اور مسلسل سفارتی رابطوں کی اہمیت پر زور دیا۔

    انھوں نے جون 2026 میں اسلام آباد میں طے پانے والی مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) کے تحت حاصل ہونے والی پیش رفت کو آگے بڑھانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

    ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے علاقائی امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے پاکستان کی مسلسل سفارتی حمایت اور تعمیری کردار کو سراہا۔

    انھوں نے ایرانی ماہی گیروں اور عملے کے ارکان کی محفوظ واپسی میں پاکستان کے تعاون پر بھی شکریہ ادا کیا، جن میں وہ افراد بھی شامل تھے جو امریکی حکام کی جانب سے روکے گئے جہازوں پر سوار تھے۔

    عراقچی نے ایرانی، امریکی اور دیگر متعلقہ حکام کے ساتھ پاکستان کی قریبی رابطہ کاری کو بھی سراہا، جس کے ذریعے ان افراد کی پاکستان سے محفوظ آمدورفت اور ایران واپسی کو یقینی بنایا گیا۔

    دونوں فریقوں نے باہمی دلچسپی کے امور پر قریبی رابطے اور باقاعدہ مشاورت جاری رکھنے پر اتفاق کیا اور علاقائی امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

  5. فی الحال تیل کی مصنوعات کی فراہمی میں کمی کا مسئلہ نہیں: یورپی یونین آئل کوآرڈینیشن گروپ

    یورپی یونین کے آئل کوآرڈینیشن گروپ نے جمعے کو کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے باعث توانائی کی منڈی پر دباؤ کے باوجود فی الحال خام تیل اور ریفائن شدہ تیل کی مصنوعات کی فراہمی میں کسی کمی کا مسئلہ نظر نہیں آ رہا۔

    یہ مشاورتی گروپ، جس میں یورپی یونین کے رکن ممالک کے نمائندے شامل ہیں، تیل کے ذخائر اور سپلائی نیٹ ورک کی سلامتی کی نگرانی کرتا ہے اور بحران کے وقت مختلف ممالک کے اقدامات اور ردِعمل میں ہم آہنگی پیدا کرتا ہے۔

    موجودہ صورتحال میں تیل کی عالمی منڈی کا جائزہ لینے کے لیے یورپی یونین کے آئل کوآرڈینیشن گروپ کا اجلاس جمعرات کو منعقد ہوا تھا۔

    گروپ نے اپنے بیان میں تصدیق کی کہ ’اس وقت فراہمی کا کوئی مسئلہ موجود نہیں ہے۔ یورپ میں خام تیل اور تیل کی مصنوعات کی طلب گوداموں اور تجارتی ذخائر کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی منڈیوں میں موجود دیگر ذرائع (خلیج فارس کے علاقے کے علاوہ) سے پوری کی جا سکتی ہے۔‘

    تاہم، اس مشاورتی گروپ نے خبردار کیا کہ ’مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کا دورانیہ آنے والے ہفتوں اور مہینوں میں بڑا اثر ڈال سکتا ہے اور منڈی میں قلت پیدا ہونے کا سبب بن سکتا ہے۔‘

    برینٹ خام تیل کی قیمت گذشتہ روز ایک ماہ سے زیادہ عرصے میں پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گئی تھی، تاہم آج اس میں کمی دیکھی گئی ہے اور ابتدائی کاروباری لین دین کے دوران تقریباً 4 فیصد کمی کے بعد یہ تقریباً 96 ڈالر فی بیرل تک آ گئی ہے۔

  6. پاسدارانِ انقلاب کا بحرین میں ایمازون ڈیٹا سینٹر تباہ کرنے کا دعویٰ

    ایران کی پاسداران انقلاب فورس کا کہنا ہے کہ اس نے بحرین میں ایمازون کے ڈیٹا سینٹر کو ’تباہ‘ کر دیا ہے۔

    آئی آر جی سی کے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کی فورسز نے ’آپریشن نصر 2 کی 27ویں لہر میں، امریکی کمپنی ایمازون کے ڈیٹا سینٹر کے خلاف اپنے سابقہ ​​آپریشن کو مکمل کرتے ہوئے مرکز کی بقیہ عمارت کو نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا۔‘

    بحرینی حکام نے ابھی تک اس معاملے پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔

    آئی آر جی سی نے پہلے 21 جولائی کو کہا تھا کہ اس نے ’بحرین میں امریکی کمپنی ایمازون کے مرکزی ڈیٹا انفراسٹرکچر کو کئی کروز میزائلوں سے نشانہ بنایا ہے۔‘

    پاسداران انقلاب کے مطابق اس مرکز پر حملہ درخوین جوہری تنصیب پر امریکی حملے کے جواب میں کیا گیا۔

  7. امریکہ نے اپنے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف نافذ کر دیے

    امریکہ نے اپنے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف نافذ کر دیے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے جاری تجارتی جنگ میں جن ممالک اور علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے، جن میں برطانیہ، چین اور یورپی یونین شامل ہیں۔

    ان کی تمام اشیا پر 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ٹیرف عائد ہوگا۔ یہ تقریباً تمام امریکی درآمدات کا احاطہ کرتا ہے۔

    یہ ٹیرف جمعے کو ختم ہونے والے اسی نوعیت کے ایک سابقہ محصول کی جگہ لے رہے ہیں اور ان کی بنیاد اس دعوے پر ہے کہ اہم معاشی شراکت دار جبری مشقت کے مسئلے سے مناسب طور پر نمٹنے میں ناکام رہے ہیں۔

    لیکن امریکی تجارتی ماہر کیرولین فرائنڈ نے کہا کہ یہ اقدام ’جبری مشقت کے بارے میں نہیں ہے‘ بلکہ ٹرمپ صرف ’ٹیرف نافذ کرنے کے لیے ایک قانونی وجہ تلاش کر رہے ہیں۔‘

    امریکی سپریم کورٹ نے اس سال کے آغاز میں فیصلہ دیا تھا کہ ہنگامی اختیارات کے تحت دنیا بھر میں عائد کیے گئے کئی ٹیرف غیر قانونی طور پر نافذ کیے گئے تھے۔

    درآمدات پر 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ڈیوٹی گزشتہ ماہ وائٹ ہاؤس نے تجویز کی تھی، کیونکہ اس کے مطابق متعلقہ ممالک جبری مشقت سے نمٹنے کے لیے کافی اقدامات نہیں کر رہے تھے۔

    امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریر نے کہا ’آج کا اقدام ایک ایسے مسئلے کو درست کرنے کا آغاز کرے گا جو انسانی حقوق کی خلاف ورزی بھی ہے اور تجارت کو بگاڑنے والا عمل بھی، تاکہ ہر جگہ مزدوروں کی فلاح و بہبود بہتر ہو۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ نئی ڈیوٹیاں امریکہ کے 60 بڑے تجارتی شراکت داروں پر لاگو ہوں گی، جو امریکی درآمدات کے 99.4 فیصد حصے کا احاطہ کرتے ہیں۔

    یو سی سان ڈیاگو سکول آف گلوبل پالیسی اینڈ اسٹریٹجی کی ڈین، فرائنڈ نے بی بی سی کے ٹوڈے پروگرام کو بتایا کہ نئے ٹیرف جمعہ کو ختم ہونے والے نظام کے بدلے میں ہیں۔

    جب ان سے جبری مشقت کی وجہ کے بارے میں پوچھا گیا تو انھوں نے کہا ’میرا خیال ہے کہ وہ ٹیرف نافذ کرنے کے لیے ایک قانونی وجہ تلاش کر رہے تھے تاکہ انھیں برقرار رکھا جا سکے، کیونکہ ان کے مقاصد اس بارے میں بالکل واضح رہے ہیں‘۔

    ہنرچ فاؤنڈیشن کی تجارتی پالیسی کی ماہر ڈیبورا ایلمز نے کہا کہ نئے محصولات ظاہر کرتے ہیں کہ ٹرمپ انتظامیہ اپنی ٹیرف حکمت عملی کو آگے بڑھانے کے لیے ’پُرعزم‘ ہے۔

    انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ جن ممالک پر یہ ٹیرف لگائے گئے ہیں، ان کے لیے یہ ثابت کرنا مشکل ہوگا کہ انھوں نے جبری مشقت سے وابستہ درآمدات کو روکنے کے لیے کافی اقدامات کیے ہیں۔

    ایشیا سوسائٹی پالیسی انسٹی ٹیوٹ کی اقتصادی سلامتی کی ماہر وینڈی کٹلر نے کہا کہ ان محصولات کے نتیجے میں کاروباروں اور صارفین کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، اگرچہ مستثنیٰ قرار دی گئی متعدد اشیا کی وجہ سے اس کے اثرات کسی حد تک کم ہو سکتے ہیں۔

    انھوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر تجارتی شراکت دار نئے محصولات سے مایوس ہوں گے اور ممکنہ طور پر دوسرے ممالک کے ساتھ معاہدے کرکے ’امریکہ پر اپنا انحصار کم کرنے‘ کے طریقوں پر توجہ دیں گے۔

  8. براہ راست امریکی مداخلت نے آبنائے ہرمز کی سلامتی کو خطرے میں ڈالا: عباس عراقچی

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کرغزستان میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس میں کہا کہ ایسے میں جب اسلام آباد کی مفاہمت کی یادداشت پر دستخط ہوئے چند ہفتے ہی گزرے ہیں، امریکہ نے ایرانی انفراسٹرکچر پر حملہ کرکے یہ ظاہر کیا ہے کہ وہ اپنے وعدوں پر عمل نہیں کر رہا ہے۔

    انھوں نے یہ بھی کہا کہ ’آبنائے ہرمز میں سیکورٹی اور بحری انتظامات کو نافذ کرنے کے عمل میں امریکہ کی براہ راست مداخلت اور بحری ناکہ بندی کے دوبارہ نفاذ نے ایک بار پھر دنیا کے اہم ترین اسٹریٹجک آبی گزرگاہوں میں سے ایک کی سلامتی کو خطرے میں ڈال دیا ہے اور بین الاقوامی تجارتی جہاز رانی کے معمول کے بہاؤ میں خلل ڈالا ہے۔‘

    اجلاس میں اپنی تقریر کے ایک اور حصے میں، ایرانی وزیر خارجہ نے مزید کہا کہ اس ملک پر کسی بھی حملے میں ملوث فریقوں کی ’بین الاقوامی ذمہ داری‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔

    انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایران، ’جائز دفاع کے حق کے فریم ورک کے اندر، اس ملک کے خلاف کسی بھی جارحیت کی اصل کو اپنی مسلح افواج کے جائز ہدف کے طور پر سمجھے گا۔‘

  9. آبنائے ہرمز سے ٹینکر کی آمدورفت کم ترین سطح پر پہنچ گئی

    خبر رساں ادارے رؤٹرز نے اطلاع دی ہے کہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے آئل ٹینکرز کی تعداد کل ایک رہ گئی، جو کہ جہاز سے باخبر رہنے کے اعداد و شمار کے مطابق دو ماہ سے زیادہ عرصے میں سب سے کم تعداد ہے۔

    یہ کمی اس وقت آئی ہے جب خطے کے پانیوں میں جہاز رانی کے خطرات نے تیل کی قیمتوں کو تقریباً 100 ڈالر فی بیرل تک دھکیل دیا ہے۔

    میرین انٹیلی جنس کمپنی کیپلر کے ڈیٹا سے پتہ چلتا ہے کہ 23 ​​جولائی کو صرف ایک آئل ٹینکر آبنائے ہرمز سے گزرا تھا۔

    بدھ 22 جولائی کو وہاں سے گزرنے والے جہازوں کی تعداد بھی تین بتائی گئی۔

  10. خیبر پختونخوا میں 19 جولائی سے بارشوں اور سیلاب کے باعث 28 افراد ہلاک ہوئے ہیں: پی ڈی ایم اے

    پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ 19 جولائی سے اب تک صوبے میں تیز بارشوں اور فلیش فلڈ سے جڑے واقعات میں 28 افراد ہلاک جبکہ 29 زخمی ہو چکے ہیں۔

    پی ڈی ایم اے کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا ہے کہ مرنے والوں میں 10 مرد, 15 بچے اور تین خواتین شامل ہیں۔

    بیان کے مطابق تیز بارشوں اور فلیش فلڈ کے باعث مجموعی طور پر 47 گھروں کو نقصان پہنچا جس میں سے 10 گھر مکمل طور پر منہدم ہو گئے۔

    پی ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ یہ حادثات پشاور، نوشہرہ، خیبر، مردان، بونیر، باجوڑ، شانگلہ، صوابی، چترال، دیر، ایبٹ آباد، مانسہرہ، ہری پور، کوہستان اپر، ٹانک، تور غر اور کرم اور شمالی و جنوبی وزیرستان میں پیش آئے۔

    ادارے نے عوام سے اپیل کی ہے کہ بلا وجہ سفر سے گریز کریں، حساس سیاحتی مقامات کا رخ نہ کریں اور حکومتی اداروں کی جانب سے الرٹس پر عمل کریں۔

  11. بلوچستان میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کے قتل کے خلاف ہڑتال:’میرے فیصلوں میں آپ کو ہمیشہ قانون کی بالادستی کی پاسداری نظر آئے گی‘

    پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع مستونگ میں نامعلوم مسلح افراد کے حملے میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے گن مین کی ہلاکت اور ایڈیشنل سیشن جج طارق لاشاری کے زخمی ہونے کے خلاف کوئٹہ سمیت بلوچستان بھر میں وکلا کی جانب سے ہڑتال کی جا رہی ہے۔

    ہڑتال کے باعث کوئٹہ سمیت بلوچستان کے دیگر شہروں میں وکلا بطور احتجاج عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے جس کی وجہ سے عدالتوں کی کاروائی متائثر ہوئی۔

    وکلا نے اس واقعے کے خلاف سوگ منایا اور عدالتوں میں سیاہ پرچم بھی لگائے جبکہ سینیچر کے روز بھی ہڑتال کی کال دی گئی ہے۔

    ’میرے فیصلوں میں آپ کو ہمیشہ قانون کی بالادستی اور انصاف کے اعلیٰ تقاضوں کی پاسداری نظر آئے گی‘

    بلوچ یکجہتی کمیٹی کی سربراہ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی بہن نادیہ بلوچ ایڈووکیٹ نے سیشن جج مستونگ کے قتل پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انھیں ڈاکٹر ماہ رنگ اور بی وائی سی کے دیگر رہنماؤں کے خلاف مقدمات کے حوالے سے متعدد بار مستونگ میں عبدالحکیم کاکڑ کی عدالت میں پیش ہونے کا موقع ملا۔

    انھوں نے کہا کہ بہت سی باتیں ایسی تھیں جو وہ عبدالحمید کاکڑ کی زندگی میں نہیں کہہ سکیں۔

    نادیہ بلوچ کا کہنا ہے کہ ’میں پورے یقین سے کہہ سکتی ہوں کہ عبدالحکیم کاکڑ ایک نہایت دیانت دار، اصول پسند اور باوقار جج تھے۔ً

    ان کا کہنا تھا کہ ڈاکثر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے مقدمات کی قانونی نوعیت پر بحث کے دوران کاکڑ کہا کرتے تھے کہ ’حالات جس نہج پر بھی ہوں، میرے فیصلوں میں آپ کو ہمیشہ قانون کی بالادستی اور انصاف کے اعلیٰ تقاضوں کی پاسداری نظر آئے گی۔‘

    نادیہ بلوچ کے مطابق عبدالحکیم کاکڑ نے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بی وائی سی کی رہنما گلزادی بلوچ کی تین مقدمات میں ضمانت منظور کی جبکہ دونوں پیروں سے معذور بیبرگ بلوچ کو ایک ایف آئی آر میں ضمانت کے مرحلے پر ہی مقدمے سے بری کر دیا۔

    ان کے بقول عبدالحکیم کاکڑ کے فیصلوں سے واضح تھا کہ وہ دباؤ سے بالاتر ہو کر قانون اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کرنے پر یقین رکھتے تھے۔

    نادیہ بلوچ نے کہا جب انھوں نے عبدالحکیم کاکڑ کے قتل کی خبر دیکھی تو انھیں احساس ہوا کہ صرف ایک انسان کو نہیں مارا گیا بلکہ یہ انصاف پر بھی حملہ ہے کیونکہ وہ قانون کی حکمرانی، انصاف، آئینی حقوق اور عوام کے وقار پر یقین رکھتے تھے۔

  12. ایران کی زیباکنار میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ہیڈکوارٹر پر امریکی حملے کی تصدیق

    ایران کے صوبے گیلان کے گورنر کے سیاسی نائب علی باقری کا کہنا ہے کہ امریکہ نے زیباکنار میں پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے ہیڈکوارٹر پر حملہ کیا ہے۔

    انھوں نے بتایا کہ اس حملے میں ہیڈکوارٹر کے بعض آلات اور ساز و سامان کو نقصان پہنچا ہے۔

    علی باقری کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس حملے کے نتیجے میں تاحال کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

  13. لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی، کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ مقرر

    پاکستان فوج کے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ مقرر کر دیا گیا۔

    وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے پاکستان آرمی کے چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دیتے ہوئے انھیں کمانڈر نیشنل سٹریٹیجک کمانڈ مقرر کر دیا ہے۔

    بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیرِ اعظم نے جنرل عامر رضا کو ترقی اور نئی تقرری پر مبارک باد دیتے ہوئے اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔

    کمانڈر آف نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا عہدہ

    یاد رہے کہ گذشتہ برس 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد آرمی ایکٹ کے تحت چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم کر کے اس کے بجائے کمانڈر آف نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا عہدہ متعارف کروایا گیا۔

    آرمی ایکٹ میں ترمیم کے مطابق اس عہدے پر چیف آف ڈیفینس فورسز کی سفارش پر وزیر اعظم پاکستانی بری فوج کے ایک جنرل کو تین سال کے لیے تعینات کریں گے۔

    ترمیم کے تحت قومی مفاد میں وزیر اعظم کمانڈر آف نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کی مدت ملازمت آرمی چیف کی سفارش پر مزید تین سال کے لیے بڑھا بھی سکتے ہیں اور اس فیصلے کو عدالت میں چیلنج نہیں کی جا سکے گا۔

    اس کے علاوہ اس عہدے پر تعینات فوجی جنرل پر آرمی ایکٹ کے تحت ریٹائرمنٹ کی عمر اور دیگر ضوابط لاگو نہیں ہوں گے۔

  14. عالمی منڈی میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز کر گئی

    ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی اور خطے میں امریکی اہداف پر ایرانی حملوں کے نتیجے میں عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق جمعے کی صبح ایشیائی منڈیوں میں برینٹ نارتھ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرنے کے بعد 101 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔

    اسی دوران ابوظہبی کے مربان خام تیل کی قیمت بھی اضافہ دیکھنے میں آیا۔ جمعے کہ صبح مربان خام تیل کی قیمت 107.20 ڈالر فی بیرل ہو گئی۔

    تجزیہ کاروں کے مطابق مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور توانائی کی رسد سے متعلق خدشات کے باعث عالمی تیل منڈیوں میں قیمتوں پر دباؤ بڑھا ہے۔

  15. بحرین میں خطرے کے سائرن اور دھماکے کی آوازیں

    بحرین کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ جمعے کی صبح ملک بھر میں خطرے کے سائرن بجائے گئے تھے۔

    وزارت داخلہ کی جانب سے ایکس پر جاری ایک پیغام میں کہا گیا ہے کہ ’خطرے کا سائرن بجا دیا گیا ہے۔ تمام شہریوں اور رہائشیوں سے درخواست ہے کہ پُرسکون رہیں اور قریب ترین محفوظ مقام پر چلے جائیں۔‘

    بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک نامہ نگار نے بھی دھماکے کی آواز سننے کی خبر دی ہے۔

    اس سے قبل ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے خودکش ڈرونز کے ذریعے بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ اڈے پر امریکی فوج کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

  16. ایرانی فوج کا بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات پر ڈرون حملوں کا دعویٰ

    ایرانی فوج نے ’آپریشن تھنڈر‘ کے 24ویں مرحلے کے تحت جمعے کی صبح بحرین اور اردن میں امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا ہے۔

    ایرانی خبر رساں ادارے ارنا کے مطابق، ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے خودکش ڈرونز کے ذریعے بحرین میں واقع شیخ عیسیٰ اڈے پر امریکی فوج کی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔ ایرانی فوج کے مطابق ان حملوں میں ایندھن کے ذخائر، فوجی ساز و سامان کے گودام، ذخیرہ کرنے کی شیڈز اور امریکی فوجیوں کی رہائشی تنصیبات کو ہدف بنایا گیا۔

    ایرانی فوج کا مزید کہنا ہے کہ اس نے ڈرونز کے ذریعے اردن کے الازرق اڈے پر امریکی فوج کے زیر استعمال طیاروں کے ہینگرز، طیاروں کی دیکھ بھال کے مراکز اور فوجیوں کی رہائش کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے۔

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایران کے جائز اور قانونی مفادات کے خلاف کسی بھی اقدام کے نتیجے میں خطے کے دیگر ممالک کے سلامتی اور معاشی مفادات متاثر ہوں گے۔

  17. کسی ملک کے منجمد اثاثوں کو ہرجانے کی ادائیگیوں کے لیے استعمال کرنے سے خطرناک نظیر قائم ہو گی: ایران

    ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کے اثاثے منجمد کر کے انھیں مستقبل میں کیے جانے والے غیر متعلقہ دعووں کی ادائیگی کے لیے استعمال کرنے سے ایک خطرناک نظیر قائم ہو گی۔

    یاد رہے کہ امریکی صدر نے ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ آج کے بعد سے جہازوں، ان کے سامانِ تجارت (کارگو) یا اس سے متعلق کسی بھی چیز کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا معاوضہ ایران کے ان فنڈز سے ادا کیا جائے گا جو امریکہ کے قبضے اور کنٹرول میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ہرجانے بہت زیادہ بھی ہو سکتے ہیں لیکن ان کے خیال میں یہی صحیح قدم ہے۔

    بی بی سی فارسی کے مطابق امریکی صدر کے بیان پر ردِ عمل دیتے ہوئے عباس عراقچی کا کہنا ہے کہ جو لوگ ان اقدامات کا خیر مقدم کر رہے ہیں یا اس سے فائدہ اٹھانے کے متعلق سوچ رہے ہیں، انھیں یاد رکھنا چاہیے کہ جب حکومتیں دوسروں کی ملکیت ضبط کرنے کو معمول کا عمل بنا لیں تو پھر کوئی بھی جائیداد محفوظ نہیں رہے گی۔

  18. حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ کر دیا

    آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب چار روپے 40 پیسے اور تین روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔

    پیٹرولیم ڈویژن کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت تین روپے 62 پیسے فی لٹر اضافے کے بعد 378 روپے 66 پیسے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اضافے کے بعد نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔

    خیال رہے کہ کچھ برس پہلے تک پاکستان کی حکومت ماہانہ کی بنیاد پر تیل کی قیمتوں کا تعین کرتی تھی، اس کے بعد یہ عمل 15 روز اور پھر سات روز پر منتقل کر دیا گیا اور گذشتہ ہفتے حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کا تعین روزانہ کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

    سوموار کے روز سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ کی بنیاد پر تعین کے آغاز کے بعد سے اب تک ڈیزل کی قیمت میں 50 روپے سے زائد جبکہ پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 16 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔

  19. پاکستان کے لیے خطرہ بننے والے شدت پسندوں کے ڈھانچے جہاں کہیں بھی ہوں، ختم کر دیے جائیں گے: فیلڈ مارشل عاصم منیر

    پاکستان کے آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس عزہ کا اعادہ کیا ہے کہ پاکستان کے لیے خطرہ بننے والے شدت پسندوں کے ڈھانچے جہاں کہیں بھی ہوں، انھیں ختم کر دیا جائے گا۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی نے پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے یہ بات جنرل ہیڈکوارٹرز راولپنڈی میں 20 ویں نیشنل ورکشاپ بلوچستان کے شرکا سے ملاقات کے دوران کہی۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق فیلڈ مارشل عاصم منیر کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے ادارے عوام کی حمایت کے ساتھ بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کو یقینی بنائیں گے۔

    انھوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک شدت پسندوں اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے اس بات کا بھی اعادہ کیا کہ جہاں کہیں بھی دہشت گردوں کا بنیادی ڈھانچہ ملک اور اس کے عوام کے لیے خطرہ بنے گا، پاکستان اسے ختم کرنے کے لیے اپنے پختہ عزم پر قائم رہے گا۔

    آرمی چیف نے الزام لگایا کہ بیرونی سرپرستی میں کام کرنے والے عناصر مسلسل بلوچستان میں تشدد کو ہوا دینے، استحکام کو نقصان پہنچانے اور امن کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی مسلح افواج عوام کی حمایت کے ساتھ ان مذموم عزائم کو مضبوط اور فیصلہ کن جواب دے کر ناکام بنائیں گی۔

  20. اب سے کسی بھی جہاز کو ہونے والے نقصان کا ہرجانہ ایرانی اثاثوں سے ادا کیا جائے گا: صدر ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ اب سے کسی بھی جہاز پر حملے کی صورت میں ہونے والے نقصان کا کا ہرجانہ ایرانی اثاثوں سے ادا کیا جائے گا۔

    اپنی سوشل میڈیا سائٹ ٹروتھ سوشل پر جاری ایک بیان میں امریکی صدر کا کہنا ہے کہ آج کے بعد سے جہازوں، ان کے سامانِ تجارت (کارگو) یا اس سے متعلق کسی بھی چیز کو پہنچنے والے تمام نقصانات کا معاوضہ ایران کے ان فنڈز سے ادا کیا جائے گا جو امریکہ کے قبضے اور کنٹرول میں ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کا اطلاق آئندہ اطلاع تک ہو گا۔

    صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ یہ ہرجانے بہت زیادہ بھی ہو سکتے ہیں لیکن میرے خیال میں یہی صحیح قدم ہے۔