آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو, جے ڈی وینس کی اسلام آباد مذاکرات میں پیشرفت کی تصدیق: ’اب ایران کو لچک دکھانا ہوگی اور امریکی مطالبات تسلیم کرنے ہوں گے‘

ایک انٹرویو میں امریکی نائب صدر نے سنیچر کے روز پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم اُن کے مطابق ایران کو لچک دکھانا ہوگی اور اُن ’اہم نکات‘ کو تسلیم کرنا ہوگا جن کا امریکہ مطالبہ کر رہا ہے۔

خلاصہ

  • ایران ڈیل کے لیے بیتاب ہے، آج ہی 'متعلقہ افراد' کی کال موصول ہوئی تھی: ڈونلڈ ٹرمپ
  • جے ڈی وینس کی اسلام آباد مذاکرات میں پیشرفت کی تصدیق: 'اب ایران کو لچک دکھانا ہوگی اور امریکی مطالبات تسلیم کرنے ہوں گے'
  • کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا حق حاصل نہیں، اقوامِ متحدہ
  • حزب اللہ نے اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات مسترد کر دیے
  • ایرانی بحریہ کے جہاز ناکہ بندی کے قریب آئے تو تباہ کر دیے جائیں گے: ٹرمپ
  • امریکہ اور ایران کے درمیان معاملات حل کروانے کی کوششیں جاری ہیں: شہباز شریف
  • روس امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے کی صورت میں افزودہ یورینیم وصول کرنے کے لیے تیار ہے: کریملن

لائیو کوریج

  1. ایران نے جوہری سرگرمیاں پانچ سال تک معطل کرنے کی تجویز دے دی: رپورٹ

    امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز نے ایرانی اور امریکی حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ ایران نے یورینیم کی افزودگی کو پانچ سال تک معطل کرنے کی تجویز پیش کی ہے، تاہم امریکہ یہ پیشکش مسترد کرتے ہوئے 20 سال کی معطلی پر اصرار کر رہا ہے۔

    رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کے دوران امریکہ اور ایران نے تہران کی جوہری سرگرمیوں کی معطلی سے متعلق مختلف تجاویز کا تبادلہ کیا، تاہم دونوں فریق کسی معاہدے تک نہیں پہنچ سکے۔

    تاہم بات چیت سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ امن معاہدے کی جانب اب بھی کوئی پیشرفت ہو سکتی ہے اور بالمشافہ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کا امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔

    بی بی سی نے اس معاملے پر تبصرے کے لیے وائٹ ہاؤس سے رابطہ کیا ہے۔

    ایران کے جوہری عزائم اس تنازع کا ایک بڑا نکتۂ اختلاف رہے ہیں، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز ایک بار پھر کہا کہ امریکہ اس بات کو یقینی بنائے گا کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔

  2. امریکی محکمۂ خارجہ نے لبنان اسرائیل مذاکرات میں مارکو روبیو کی شرکت کی تصدیق کر دی

    امریکی محکمۂ خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ وزیر خارجہ مارکو روبیو منگل کے روز واشنگٹن میں لبنانی اور اسرائیلی سفیروں کے درمیان ہونے والی ملاقات میں شریک ہوں گے۔

    دونوں ممالک کے سفیروں کے درمیان یہ ملاقات پاکستانی وقت کے مطابق رات ساڑھے آٹھ بجے امریکی محکمۂ خارجہ کے دفتر میں ہو گی۔

    ان مذاکرات کا مقصد جنوبی لبنان میں جاری اس تنازع کو ختم کرنا ہے، جہاں اسرائیل کے مطابق وہ حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ان حملوں کے نتیجے میں لاکھوں شہری اپنے گھروں سے نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ لبنان کی وزارت صحت کے مطابق اب تک دو ہزار سے زائد افراد ہلاک اور ساڑھے چھ ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

    پیر کے روز حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے لبنان پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ طے شدہ ملاقات منسوخ کر دے۔ حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے تصور کو مسترد کیا ہے۔

    اسی روز (پاکستانی وقت کے مطابق رات ساڑھے 11 بجے) مارکو روبیو مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی سے بھی ملاقات کریں گے۔

  3. ایندھن کی قیمتیں کم ہونے سے قبل مزید اوپر جائیں گی، امریکی وزیرِ توانائی

    امریکہ کے وزیر توانائی کرس رائٹ نے واشنگٹن ڈی سی میں ایک اقتصادی فورم میں بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ تیل کی قیمتیں بلند رہیں گی اور ممکنہ طور پر اس وقت تک بڑھتی رہیں گی جب تک کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے جہازوں کی آمدورفت معمول پر نہ آجائے۔

    انھوں نے کہا کہ ممکنہ طور پر اگلے چند ہفتوں میں تیل کی قیمتیں اپنے عروج پر پہنچ جائیں گی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کے بعد قیمتیں نیچے آنا شروع ہو جائیں گی۔

    ’ایک بار جب تنازع ختم ہو جائے اور توانائی کی فراہمی دوبارہ بحال ہو جائے تو آپ کو قیمتوں میں کمی دیکھنے کو ملے گی لیکن اس میں کچھ وقت لگے گا۔‘

    ان کا کہنا ہے کہ تنازع جتنا لمبا چلے گا، بحالی کے عمل میں اتنا ہی وقت لگے گا۔

  4. جے ڈی وینس کی اسلام آباد مذاکرات میں پیشرفت کی تصدیق: ’اب ایران کو لچک دکھانا ہوگی اور امریکی مطالبات تسلیم کرنے ہوں گے‘

    امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے امریکی نشریاتی ادارے فاکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں ایرانی حکومت کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی روکنے کو ’معاشی دہشت گردی‘ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ واضح کر چکے ہیں کہ ’یہ کھیل دو طرفہ بھی ہو سکتا ہے۔‘

    اُن کا کہنا تھا کہ اگر ایرانی حکام نے ’معاشی دہشت گردی‘ جاری رکھی تو امریکہ بھی پھر کسی ایرانی جہاز کو بندرگاہ سے باہر نکلنے نہیں دے گا۔

    وینس نے سنیچر کے روز پاکستان میں ہونے والے مذاکرات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے۔ تاہم اُن کے مطابق ایران کو لچک دکھانا ہوگی اور اُن ’اہم نکات‘ کو تسلیم کرنا ہوگا جن کا امریکہ مطالبہ کر رہا ہے۔

    اُنھوں نے کہا: ’اب گیند ایران کے کورٹ میں ہے۔‘

  5. اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی امریکہ اور ایران سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل

    اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنگ کے خاتمے کے لیے امریکہ اور ایران سے مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کی اپیل کی ہے۔

    اُن کا کہنا ہے کہ یہ ’واضح‘ ہے کہ اس جنگ کا ’کوئی فوجی حل موجود نہیں۔‘

    گوتریس کے مطابق جنگ بندی ’ہر صورت برقرار رہنی چاہیے‘ اور انھوں نے ’تمام خلاف ورزیوں کے خاتمے‘ کا مطالبہ کیا۔

    ’میں مطالبہ کرتا ہوں کہ کسی معاہدے تک پہنچنے کے لیے مذاکرات دوبارہ شروع کیے جائیں۔‘

  6. ایران کی ’دشمن‘ کو وارننگ: جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو وہ صلاحیتیں دکھائیں گے جو اب تک ظاہر نہیں کی گئیں

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ ایران نے اب تک اپنی بہت سی ’صلاحیتیں‘ ظاہر نہیں کی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع ہوئی تو ایسی صلاحیتوں کا مظاہرہ کریں گے جن کے بارے میں دشمن تصور بھی نہیں کر سکتا۔

    ایرانی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ترجمان حسین محبی نے کہا ہے کہ ایران جنگ کے ’جدید‘ طریقے متعارف کرائے گا جن کا مقابلہ کرنے کی ’دشمن کی صلاحیت نہایت محدود‘ ہے۔

  7. ایران آبنائے ہرمز کو اپنا سب سے موثر ہتھیار کیوں سمجھنے لگا ہے؟

    امریکہ اور ایران کے تعلقات پر نظر رکھنے والے ماہرین گذشتہ چند دنوں کی پیش رفت اور اس تنازع کے ممکنہ انجام پر مختلف آرا پیش کر رہے ہیں۔

    کوئنسی انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ تریتا پارسی کا کہنا ہے کہ سب سے زیادہ امکان اس بات کا ہے کہ دونوں ممالک کسی بھی معاہدے تک نہیں پہنچ سکیں گے۔ تاہم ان کے مطابق سٹیٹس کو قائم ہو جائے گا جس کے تحت امریکہ مذاکرات سے دستبردار ہو جائے اور ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں سے فیس وصول کرنا شروع کر دے۔

    اگر ایسا ہوتا ہے تو دونوں فریق اپنی اپنی فتح کا دعویٰ کریں گے۔ تاہم تریتا پارسی کے مطابق یہ صورتِ حال ایران کے لیے مثالی نہیں ہوگی، کیونکہ اسے پابندیوں میں نرمی کے ساتھ کسی معاہدے سے کہیں زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے۔

    اُن کا کہنا ہے کہ پابندیاں نہ ہٹنے اور یورپ و ایشیا کے ساتھ معاشی روابط بحال نہ ہونے کی صورت میں ایران میں تعمیرِ نو ممکن ہی نہیں۔

    2021 سے 2023 تک ایران کے لیے امریکی خصوصی ایلچی کے فرائض انجام دینے والے رابرٹ ملی کا کہنا ہے کہ ایرانی فیصلہ سازوں کے لیے سب سے مشکل سوال یہ ہے کہ اگر وہ یورینیم کی افزودگی ترک کریں تو کیا گارنٹی ہے کہ صدر ٹرمپ بعد میں معاہدے سے مکر نہیں جائیں گے اور دوبارہ پابندیاں عائد نہیں کریں گے۔

    دوسری جانب جانز ہاپکنز یونیورسٹی سے وابستہ نرگس بازوغلی کا کہنا ہے کہ امریکی ناکہ بندی کے ذریعے صدر ٹرمپ نے خود کو ایسی پوزیشن میں لا کھڑا کیا ہے جہاں قیمتوں میں اضافے اور قلت کا سیاسی بوجھ اب اُن کو ہی برداشت کرنا پڑے گا۔ اُن کے مطابق ایران اب دباؤ کے لیے اپنے جوہری پروگرام کے بجائے آبنائے ہرمز کو سب سے مؤثر ہتھیار سمجھنے لگا ہے۔

  8. برطانوی نائب وزیرِ اعظم کی جے ڈی وینس سے ملاقات، آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آزادانہ آمدورفت ’انتہائی ضروری‘ قرار

    برطانیہ کے نائب وزیرِ اعظم ڈیوڈ لیمی کی امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات ہوئی جس کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال ہوا۔

    ڈیوڈ لیمی کے دفتر سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ملاقات کے دوران آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے متعلق بھی بات چیت ہوئی۔ بیان کے مطابق برطانوی حکومت کے توجہ ’جنگ بندی کی حمایت اور اسے برقرار رکھنے، اور اسے ایک پائیدار امن معاہدے میں تبدیل کرنے پر مرکوز ہے۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’آبنائے ہرمز سے بحری جہازوں کی آزادانہ نقل وحمل کا تسلسل انتہائی ضروری ہے۔

    ڈیوڈ لیمی کا یہ بیان برطانوی وزیرِ اعظم کیئر سٹارمر کے اس بیان کے بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ برطانیہ ایران کی بندرگاہوں کی ناکہ بندی کی کوششوں میں شامل نہیں ہوگا۔

  9. کسی بھی ملک کو آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا حق حاصل نہیں، اقوامِ متحدہ

    اقوامِ متحدہ کے عالمی بحری جہاز رانی کی حفاظت اور سلامتی کے ذمہ دار ادارے کے سربراہ کا کہنا ہے کہ کسی بھی ملک کو قانونی طور پر آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا حق حاصل نہیں۔

    عالمی بحری تنظیم (آئی ایم او) کے سیکریٹری جنرل آرسینیو دومینگیز نے کہا کہ اگرچہ امریکی ناکہ بندی کا مقصد ’بظاہر ایرانی بندرگاہوں تک رسائی محدود کرنا‘ ہے لیکن قانونی نقطۂ نظر سے کسی بھی ملک کے پاس اس آبی گزرگاہ کو بند کرنے کا کوئی حق نہیں۔

    لندن میں آئی ایم او کے ہیڈ کوارٹر میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے اُنھوں نے کہا: ’بین الاقوامی قانون کے مطابق، کسی بھی ملک کو کسی ایسی بین الاقوامی آبی گزرگاہ کی ناکہ بندی کا حق حاصل نہیں جو عالمی جہاز رانی کے لیے استعمال ہوتی ہو۔‘

    آرسینیو دومینگیز کا مزید کہنا ہے کہ اگرچہ امریکی ناکہ بندی سے قبل بھی بہت کم جہاز آبنائے ہرمز سے گزر پا رہے تھے لیکن امریکہ کی جانب سے عائد کی گئی تازہ ترین ’رکاوٹ‘ موجودہ بحران کا کوئی حل پیش نہیں کرتی۔

  10. جنگ کے باوجود مارچ میں ایران کی تیل برآمدات تقریباً چھ کروڑ بیرل تک پہنچ گئی

    امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جنگ کے باوجود تیل کی برآمدات کے لحاظ سے مارچ ایران کے لیے ایک بڑا مہینہ ثابت ہوا۔ شپنگ تجزیہ کار ادارے کپلر کے مطابق ایران نے گذشتہ ماہ 5 کروڑ 79 لاکھ بیرل تیل برآمد کیا۔

    یہ برآمدات ایسے وقت میں ہوئیں جب خطے میں جہاز رانی کا ایک اہم راستہ آبنائے ہرمز ایران نے بند کر رکھا ہے۔

    امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ وہ آبنائے ہرمز میں ’ایران کے پورے ساحلی علاقے‘ کی ناکہ بندی کر رہے ہیں جس میں ایرانی بندرگاہیں اور تیل کے ٹرمینلز بھی شامل ہیں۔

  11. حزب اللہ نے اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات مسترد کر دیے

    حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان ہونے والے مذاکرات کو یہ کہہ کر مسترد کر دیا ہے کہ اس بات چیت کا کوئی فائدہ نہیں۔

    یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنانی حکام اسرائیلی اور امریکی حکام کے ساتھ مذاکرات کے لیے منگل کو واشنگٹن روانہ ہو رہے ہیں۔

    یاد رہے کہ لبنانی حکومت نے مارچ کے اوائل میں اسرائیل کے ساتھ جنگ شروع ہونے کے چند دن بعد ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کی عسکری سرگرمیوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ لبنانی صدر جوزف عون نے ملک کو وسیع تر علاقائی جنگ میں گھسیٹنے پر اس گروہ کو تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    پاسدارانِ انقلاب سے منسلک تسنیم نیوز ایجنسی کے مطابق نعیِم قاسم کا کہنا ہے کہ ’پورا لبنان‘ اسرائیل کا ہدف ہے، اور یہ لبنانی حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ ’فوج کو متحرک کرے۔‘

    انھوں نے لبنانی حکومت سے سوال کیا کہ: ’آپ کا کہنا ہے کہ آپ جنگ بندی چاہتے ہیں، لیکن وہ کیا کہہ رہے ہیں؟ اور آپ کے پاس دباؤ ڈالنے کے لیے کیا ہے؟‘

    نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کا فیصلہ نہ رکنے کا ہے اور نہ ہی ہتھیار ڈالنے کا۔

  12. امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا پوپ سے معافی مانگنے سے انکار: ’میں صرف تنقید کا جواب دے رہا ہوں‘

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ پوپ لیو چہاردہم سے معافی نہیں مانگیں گے۔

    یاد رہے کہ پوپ نے امریکی صدر کی ایران کے خلاف دھمکیوں کی مذمت کی تھی جس کے بعد ٹرمپ نے انھیں تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔

    ان کا کہنا ہے کہ پوپ ’جرائم اور دیگر چیزوں کے حوالے سے بہت کمزور ہیں‘۔ ٹرمپ کہتے ہیں کہ وہ محض پوپ کی تنقید کا ’جواب دے رہے ہیں۔‘

    ان کا کہنا ان کے پاس معافی مانگنے کی کوئی وجہ نہیں۔

    دوسری جانب اطالوی وزیر اعظم جارجیا میلونی کا کہنا ہے کہ پوپ لیو پر ڈونلڈ ٹرمپ کی تنقید ’ناقابل قبول‘ ہے۔

    میلونی کا کہنا ہے کہ ان کی نظر میں صدر ٹرمپ کی جانب سے پوپ کے بارے میں بولے گئے الفاظ ناقابل قبول ہیں۔ ’پوپ کیتھولک چرچ کے سربراہ ہیں، اور یہ درست اور مناسب ہے کہ وہ امن کا مطالبہ کرتے ہیں اور ہر قسم کی جنگ کی مذمت کرتے ہیں۔‘

  13. ٹرمپ کے ٹروتھ سوشل اکاؤنٹ سے متنازع تصویر ڈیلیٹ: ’تصویر میں مجھے ڈاکٹر کے طور پر پیش کیا گیا تھا‘

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بظاہر اپنے ٹروتھ سوشل کے اکاؤنٹ سے شیئر کی گئی وہ متنازع تصویر ڈیلیٹ کر دی ہے جس میں انھیں حضرت عیسی مسیح سے ملتے جلتے حلیے کے شخص کے طور پر دکھایا گیا تھا۔

    اس تصویر میں ٹرمپ کے ہاتھوں سے روشنی کی کرنیں پھوٹتی دکھائی گئی تھیں اور انھوں نے ہسپتال کے بستر پر لیٹے ایک شخص کے سر پر ہاتھ رکھا ہوا تھا۔

    سوموار کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے اس متنازع تصویر کا ذکر کیا۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس تصویر میں انھیں حضرت عیسی مسیح کی طرح نہیں بلکہ ایک ڈاکٹر کے طور پر پیش کیا گیا تھا ’جو لوگوں کو صحتمند بنا رہا تھا‘۔

    انھوں نے میڈیا پر یہ بیانیہ پھیلانے کا الزام لگایا۔

  14. اس وقت کوئی لڑائی نہیں ہو رہی، ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس تنازع سے نمٹنے کے لیے ان کی ٹائم لائن میں کوئی تبدیل نہیں ہوئی ہے۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت، کوئی لڑائی نہیں ہو رہی۔‘

    ٹرمپ نے ایرانیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی ہم نے ناکہ بندی کی ہوئی ہے اور ان کا کاروبار نہیں ہو رہا۔

    جنگ بندی کے دوران آبنائے ہرمز سے جہازوں کی آمدورفت کے حوالے سے بظاہر ان کا کہنا تھا کہ انھیں ایران کے ساتھ تجارت کرنے والے جہازوں کو باہر آتے دیکھنا پسند نہیں۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایرانی اس وقت آبنائے میں کوئی تجارت نہیں کر پا رہے اور ’ہم اس صورتحال کو بڑی آسانی سے برقرار رکھیں گے۔‘

  15. ایران ڈیل کے لیے بیتاب ہے، آج ہی ’متعلقہ افراد‘ کی کال موصول ہوئی تھی: ڈونلڈ ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایران ڈیل کے لیے بہت بیتاب ہے۔

    سوموار کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات چیت کے دوران جب صدر ٹرمپ سے اسلام آباد میں مذاکرات کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان مزید مذاکرات کے متعلق پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ایران بہت بیتابی سے معاہدہ کرنا چاہے گا۔

    ان کا کہنا ہے کہ ’ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے۔‘

    ’ہمارے درمیان بہت سی چیزوں پر اتفاق ہو گیا تھا لیکن وہ اس پر راضی نہیں ہوئے۔‘

    تاہم صدر ٹرمپ کو ’یقین‘ ہے کہ ایرانی بالآخر اس پر راضی ہو جائیں گے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ’اگر وہ اس پر راضی نہیں ہوں گے تو کوئی ڈیل نہیں ہوگی۔‘

    انھوں نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی رہنما معاہدہ کرنا چاہتے ہیں، اور آج صبح ہی انھیں معاہدے کے لیے ’متعلقہ افراد‘ کال موصول ہوئی تھی۔

    ’ایران دنیا کو بلیک میل کر رہا ہے‘

    ایران کی بحری ناکہ بندی کے متعلق سوال پر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ایران ’حقیقت میں دنیا کو بلیک میل کر رہا ہے‘ اور وہ ایسا نہیں ہونے دیں گے۔

    ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو استعمال نہیں کرتا کیونکہ اس کے اپنے تیل اور گیس کے ذخائر ہیں۔

    انھوں نے دعویٰ کیا کہ بحری جہاز امریکی تیل کو ’لوڈ اپ‘ کرنے کے لیے امریکہ پہنچ رہے ہیں۔

    اس سے قبل ٹروتھ سوشل پر جاری ایک پیغام میں ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ گذشتہ روز 34 بحری جہاز آبنائے ہرمز سے گزرے تھے جو کہ آبی گزرگاہ کے بندش کے آغاز سے لے کر اب تک کی سب بڑے تعداد ہے۔

    تاہم بی بی سی ان کے اس دعوے کی تصدیق نہیں کر سکا ہے۔

  16. لوگوں کی زندگیاں بچانے والوں پر حملے ناقابلِ قبول ہیں: ریڈ کراس

    بین الاقوامی امدادی ادارے ریڈ کراس نے لبنان میں طبی کارکنوں پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

    آئی سی آر سی کی لبنان میں سربراہ ایگنس دھور نے کہا کہ ’جو لوگ اپنی زندگیاں دوسروں کو بچانے کے لیے وقف کرتے ہیں ان کا نقصان انتہائی تشویشناک ہے کیونکہ اس کا براہِ راست اثر ان عام شہریوں پر پڑتا ہے جو ان کی مدد پر انحصار کرتے ہیں۔‘

    ایگنس دھور کا یہ بیان جسے خبر رساں ادارے رائٹرز نے شیئر کیا جنوبی لبنان میں سوموار کے روز لبنانی ریڈ کراس کے ایک مرکز پر حملے کی اطلاعات کے بعد سامنے آیا ہے۔

    بی بی سی نے اس حوالے سے اسرائیلی فوج سے رابطہ کیا ہے اور ان کے جواب کا انتظار ہے۔

  17. لبنان سے اسرائیل پر حزب اللہ کے تازہ حملے، دو افراد زخمی

    اسرائیل کے شمالی شہر نہاریا میں حملوں کی اطلاعات کے بعد اسرائیلی ایمرجنسی سروس ’میگن ڈیوڈ ادوم‘ کی جانب سے دو افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

    ایمرجنسی سروس کے مطابق زخمیوں میں ایک 60 سالہ خاتون بھی شامل ہے جو ایک ’پراجیکٹائل‘ لگنے سے معمولی زخمی ہوئی ہیں۔ یہ معلومات ادارے نے ٹیلیگرام پر جاری کیں۔

    لبنان کی سرکاری خبر رساں ادارے ’این این اے‘ کے مطابق حزب اللہ نے سوموار کو نہاریا کے شمال میں واقع لیمن بیرکس پر فضائی حملے کا اعلان کیا جو حملوں کے ایک وسیع سلسلے کا حصہ ہے۔

    اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انھوں نے سوموار کی صبح سے لبنان کی جانب سے اسرائیل اور جنوبی لبنان میں کارروائی کرنے والی اپنی فورسز پر داغے گئے 10 سے زائد میزائلوں کو روکا ہے۔

    فوج نے یہ بھی بتایا کہ انھوں نے آج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیوں کو مزید وسعت دینا شروع کر دی ہے۔

  18. ایرانی بحریہ کے جہاز ناکہ بندی کے قریب آئے تو تباہ کر دیے جائیں گے: ٹرمپ

    ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے ایک حالیہ بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر ایرانی ’حملہ آور جہاز‘ امریکی بحری ناکہ بندی کے قریب آئے تو انھیں ’فوری طور پر ختم‘ کر دیا جائے گا۔

    ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر لکھا کہ ’ایران کی بحریہ پہلے ہی تباہ ہو چُکی ہے، اُن کے 158 جہاز مکمل طور پر تباہ کر دیے گئے ہیں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’صرف چند فاسٹ اٹیک شپ باقی ہیں، جنھیں اب تک خطرہ نہ سمجھتے ہوئے نشانہ نہیں بنایا گیا۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’اگر ان میں سے کوئی جہاز ہماری ناکہ بندی کے قریب آیا تو اسے فوراً تباہ کر دیا جائے گا بالکل اسی نظام کے تحت جسے ہم سمندر میں منشیات فروشوں کی کشتیوں کے خلاف استعمال کرتے ہیں۔‘

  19. امریکی طیارہ بردار بحری جہاز خلیج عمان کے قریب دیکھے گئے: بی بی سی ویری فائی

    بی بی سی ویری فائی کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران سے منسلک جہازوں پر بحری ناکہ بندی کے اعلان کے بعد سیٹلائٹ تصاویر کا جائزہ لیا گیا تاکہ معلوم ہو سکے کہ امریکی بحریہ کے کون سے جنگی جہاز مشرقِ وسطیٰ میں موجود ہیں۔

    سنیچر کے روز حاصل کردہ تصاویر میں یو ایس ایس ابراہم لنکن ایئرکرافٹ کیریئر کو خلیج عمان کے مشرقی کنارے پر دیکھا گیا، جو ایرانی ساحل سے تقریباً 200 کلومیٹر جنوب میں ہے۔

    یہ جنگ کے آغاز کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ یہ ایٹمی توانائی سے چلنے والا جہاز خلیج کے اتنے قریب دیکھا گیا ہے۔

    تصاویر میں دو دیگر جنگی جہاز بھی نظر آ رہے ہیں، جن کا حجم اور ساخت امریکی بحریہ کے گائیڈڈ میزائل ڈسٹرائرز سے مطابقت رکھتا ہے۔ امکان ہے کہ یہ جہاز لنکن کے کیریئر سٹرائیک گروپ کا حصہ ہوں تاہم یہ واضح طور پر شناخت نہیں ہو سکے کہ یہ کون سے جہاز ہیں۔

  20. امریکی ناکہ بندی کی خلاف ورزی کرنے والے جہازوں کو روکنے اور قبضے میں لیے جانے کا خطرہ: رائٹرز

    امریکہ نے خبردار کیا ہے کہ جو جہاز امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی کریں گے، انھیں ’روکنے، موڑنے اور قبضے میں لیے جانے جیسے معاملات کا‘ سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ یہ اطلاع خبر رساں ادارے رائٹرز نے امریکی مرکزی کمان (سینٹکام) کے ایک بیان کے حوالے سے دی ہے۔

    بیان کے مطابق امریکی فوج خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں آبنائے ہرمز کے مشرقی حصے میں بحری ناکہ بندی کرنے جا رہی ہے۔ یہ اقدام تمام جہازوں پر لاگو ہوگا خواہ وہ کسی بھی ملک کے پرچم تلے سفر کر رہے ہوں۔

    سینٹکام نے متنبہ کیا ہے کہ ’بغیر اجازت ناکہ بندی والے علاقے میں داخل یا وہاں سے والے جہازوں کو روکنے، موڑے جانے اور قبضے میں لیے جانے‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔ بیان میں مزید یہ بھی کہا گیا ہے کہ ناکہ بندی کا آغاز 14:00 جی ایم ٹی (15:00 بی ایس ٹی) پر ہوگا۔

    رپورٹ کے مطابق بیان میں یہ بھی وضاحت کی گئی ہے کہ ’یہ ناکہ بندی غیر جانبدار جہازوں کی آبنائے ہرمز کے راستے غیر ایرانی مقامات تک آمد و رفت میں رکاوٹ نہیں ڈالے گی۔‘