آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
قصیدہ بردہ شریف: پیغمبرِ اسلام کی شان میں پڑھی جانے والی ’پہلی نعت‘ سے جڑے راز
- مصنف, امیمہ الشاذلی
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
تصور کریں کہ آپ ایک ایسا قصیدہ سن رہے ہیں جس کا دورانیہ اُمِ کلثوم (مصری گلوکارہ) کے کسی بھی گیت سے زیادہ ہو۔
یہ محض خیال نہیں، حقیقت میں ایک غیر معمولی کلام ہے جس کی دھنوں میں ماضی کی خوشبو رچی ہوئی ہے۔
یہ قصیدہ 160 اشعار پر مشتمل ہے اور اس کی ایک مکمل ریکارڈنگ ڈیڑھ گھنٹے پر محیط ہے۔
یہ نہ تو غزل ہے اور نہ وطن سے محبت کا اظہار بلکہ قصیدہ بردہ شریف ہے جو آج بھی عربی اور اسلامی شعور میں زندہ ہے۔
’مصر کی نعتیہ محفلوں سے لے کر جنوبی افریقہ اور انڈونیشیا تک اس کلام کی گونج ہے جسے مختلف ممالک کے نعت گو اپنے اپنے انداز میں پیش کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسلامی ثقافت میں جتنی قصیدہ بردہ کو پذیرائی ملی شاید ہی کسی اور عربی نظم کو ملی ہو۔‘
اسی جملے سے جامعہ الازہر کے عالمی فتوٰی مرکز کے رکن ڈاکٹر صابر حسنی نے بی بی سی سے گفتگو کا آغاز کیا جو ایک ایسے قصیدے کے بارے میں تھا جو سات صدیوں سے زیادہ پہلے لکھی گئی۔
اس نعت کے نام کی اصل ایک ایسے واقعے سے جڑی ہے جو 1400 سال پہلے خود پیغمبرِ اسلام کے سامنے پیش آیا تھا۔
کعب اور پہلا قصیدہ بُردہ
سیرت کی کتابیں جاہلیت کے معروف شاعر کعب بن زہیر بن ابی سلمیٰ کا ذکر کرتی ہیں، جو ایک ایسے خاندان سے تعلق رکھتے تھے جہاں مردوں اور عورتوں دونوں کو شاعری کا شوق تھا۔ ان کے والد کو ’دورِ جاہلیت کا سب سے بڑا شاعر‘ کہا گیا۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
روایات کے مطابق کعب اپنی شاعری کے ذریعے پیغمبرِ اسلام پر تنقید کرتے اور اسلام اور مسلمانوں کے خلاف لوگوں کو ابھارتے تھے۔
یہاں تک کہ فتح مکہ کے بعد ان کے قتل کی اجازت دی گئی تو ان کے بھائی بُجیر نے انھیں لکھا کہ وہ پیغمبرِ اسلام کے پاس جا کر معذرت کریں کیونکہ ’وہ کسی توبہ کرنے والے کو قتل نہیں کرتے‘ ورنہ انھیں فرار ہونا پڑے گا۔
مورخین بیان کرتے ہیں کہ کعب پیغمبرِ اسلام کی خدمت میں حاضر ہوئے، اپنا تعارف چھپاتے ہوئے گفتگو کی اور جب انھیں امان مل گئی تو اُنھوں نے اپنی شناخت ظاہر کی اور تقریباً 60 اشعار پر مشتمل ایک قصیدہ پیش کیا جس میں معافی کی درخواست کی گئی تھی۔
سیرت نگاروں کے مطابق پیغمبرِ اسلام نے کعب بن زہیر کو اپنی چادر عطا فرمائی۔ اسی نسبت سے یہ پیغمبرِ اسلام کی شان میں کہی جانے والی پہلی نعتیہ شاعری قرار پائی۔
دوسرا قصیدہ بُردہ
تقریباً چھ صدیوں بعد ’البُردہ‘ کا نام دوبارہ ہر عام و خاص کی زبان پر آیا۔
اس مرتبہ اس نعت کا تعلق مصری شاعر محمد بن سعید البوصیری سے تھا جو مصر کے صوبہ بنی سویف کے قصبے بوصیر میں پیدا ہوئے۔
روایات کے مطابق وہ فالج کا شکار ہو گئے تھے۔
اُنھوں نے پیغمبرِ اسلام کی مدح میں 160 اشعار پر مشتمل ایک قصیدہ لکھا اور پھر اُنھوں نے خواب میں پیغمبرِ اسلام کو دیکھا اور اپنا قصیدہ سنایا۔
البوصیری کے مطابق پیغمبرِ اسلام نے خواب میں ان کے جسم پر ہاتھ پھیرا اور وہ صحت یاب ہو گئے۔ بعض روایات میں یہ بھی بیان کیا گیا کہ پیغمبرِ اسلام نے انھیں خواب میں اپنی چادر عطا فرمائی، اسی لیے اس نعت کو ’البُردہ‘ کہا جانے لگا۔
ڈاکٹر حسنی کے مطابق اس روایت نے اس قصیدے کو صرف ایک نعتیہ نظم کی حیثیت سے آگے بڑھا کر بہت سے مسلمانوں کے لیے روحانی اور عبادتی اہمیت کا حامل متن بنا دیا۔
عثمانی دور میں اس کے اشعار توپ قاپی محل (استنبول) میں پیغمبرِ سلام کے آثار سے متعلق مقامات پر کندہ کیے گئے۔ مختلف صوفی روایات میں اس کی تلاوت کو برکت، حفاظت اور شفا سے جوڑا گیا۔
یوں البوصیری کی بُردہ عربی دنیا سے نکل کر متعدد زبانوں میں ترجمہ ہوئی اور ایک عالمی ادبی و روحانی ورثہ بن گئی۔
بوصیری کا شعری اثر
شعراء نے صرف البوصیری کی تقلید ہی نہیں کی بلکہ ان کی نظم کے ساتھ ایک پیچیدہ شعری روایت بھی تشکیل دی، جسے ’تخمیس‘ اور ’تسبیع‘ کہا جاتا ہے۔
تخمیس میں شاعر البوصیری کے ایک شعر کے ساتھ تین اضافی مصرعے شامل کرتا ہے اور یوں پانچ مصرعوں پر مشتمل بند ترتیب دیتا ہے۔
تسبیع بھی اسی طرح اصل شعر کے گرد اضافی مصرعوں کا اضافہ کر کے بند کی ہیئت کو وسعت دینے کا شعری اسلوب ہے۔
صدیوں تک متعدد شعراء نے بُردہ کی تخمیسات اور تسبیعات لکھیں جن میں ابن حجۃ الحموی، ناصر الدین بیضاوی اور محمد بن علی نیازی مصری کے نام نمایاں ہیں۔
صوفی شاعرہ عائشہ الباعونیہ نے بھی بُردہ پر مبنی تخمیس لکھی جو اس میدان میں خواتین کی نادر شرکت کی ایک مثال سمجھی جاتی ہے۔
ڈاکٹر حسنی بی بی سی کو وضاحت کرتے ہیں کہ ’تخمیس‘ اس عمل کو کہتے ہیں جس میں شاعر ’قصیدہ بردہ‘ کا ایک مصرع لیتا ہے، اس میں اپنی تخلیق کردہ تین سطور (مصرعے) کا اضافہ کرتا ہے اور پھر اس کے ساتھ 'البوصیری' کے شعر کے دو مصرعے شامل کر دیتا ہے۔
یوں یہ حصہ پانچ مصرعوں پر مشتمل ہو جاتا ہے جبکہ اس دوران مطلوبہ بحر، معنوی ربط اور قافیے کی پابندی بھی برقرار رکھی جاتی ہے۔ ’تسبیع‘ کا عمل بھی اسی انداز میں کیا جاتا ہے۔
البارودی، شوقی اور جعفری
جدید دور (19 ویں) میں مصری شاعر اور وزیرِ جنگ محمود سامی البارودی نے البوصیری کے اسلوب میں ایک طویل نظم لکھی جس کا عنوان ’کشف الغمۃ فی مدح سید الامۃ‘ تھا۔
یہ 447 اشعار پر مشتمل تھی اور اس میں پیغمبرِ اسلام کی سیرت بیان کی گئی تھی۔
تاہم البارودی جنھیں ’تلوار اور قلم کا ماہر‘ (صاحب السیف والقلم) کا لقب دیا گیا تھا کی نظم کو وہ شہرت حاصل نہ ہو سکی جو مصری شاعر احمد شوقی کی نظم کو ملی۔
شوقی کی یہ نظم کچھ برس بعد حج کے کے دوران لکھی گئی تھی۔
شوقی نے نظم کا آغاز عشقیہ اشعار سے کرنے کا فیصلہ کیا، جیسا کہ کعب بن زہیر نے کیا تھا۔
بعد میں احمد شوقی نے اپنی مشہور نظم ’نہج البردہ‘ لکھی جس کے بعض اشعار اُمِ کلثوم نے ریاض السنباطی کی دھنوں میں گائے۔
ایک تیسری نظم بھی ہے جسے امام بوصیری کے قصیدہ بردہ کے اسلوب میں تخلیق کیا گیا ہے اور جسے آج بھی، بالخصوص صوفیانہ حلقوں میں پڑا جاتا ہے۔ یہ نظم جامعہ الازہر کی مسجد کے امام اور جعفری صوفی سلسلے کے بانی شیخ صالح الجعفری نے تحریر کی تھی۔
الجعفری نے خود کو صرف پیغمبرِ اسلام کے ذکر تک ہی محدود نہیں رکھا بلکہ اُنھوں نے اپنے کلام کا ایک بڑا حصہ اہل بیت کی مدح سرائی کے لیے وقف کیا۔
اُنھوں نے اس سلسلے میں ایک قصیدہ تخلیق کیا جس کا عنوان ’الردائے الحسنیہ الحسینیہ فی مدحِ آلِ خیرِ البریہ‘ ہے۔
اُن کا دعویٰ ہے کہ یہ قصیدہ انھوں نے حضرت امام حسین کے حکم پر لکھا جو انھیں سوڈان کے شہر ڈونگولا میں قیام کے دوران نظر آنے والے ایک خواب کے تناظر میں ملا تھا۔
اپنے گذشتہ قصائد کے برعکس، الجعفری نے اس قصیدے کا آغاز براہِ راست پیغمبرِ اسلام پر درود و سلام بھیجنے سے کیا اور اس کے لیے ایک ایسا شعر منتخب کیا جو امام بوصیری کے مشہورِ زمانہ قصیدہ بردہ کے اشعار کی طرز پر ہے۔
بُردہ کے اسلوب میں سب سے طویل نظم
مصری شاعر خالد الشیبانی نے چند برس قبل ’انوارِ بردہ‘ کے عنوان سے ایک ایسی نظم پیش کی ہے جسے البوصیری کی ’قصیدہ بردہ‘ کے جواب میں لکھی گئی اب تک کی طویل ترین نظم سمجھا جاتا ہے۔
الشیبانی بی بی سی کو بتاتے ہیں کہ البوصیری کی’بردہ‘ کے جواب میں کچھ لکھنے کا خیال بچپن ہی سے خاص طور پر کم عمری میں شاعری شروع کرنے کے زمانے سے ان کے ذہن میں موجود تھا۔ اس کا مقصد ’مقابلہ کرنا اور اپنا نام بنانا‘ تھا، لیکن ان کے بقول وہ اس ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے۔
اُنھوں نے مزید کہا کہ ’سنہ 1442 ہجری یعنی 2020 میں پیغمبرِ اسلام کی یوم ولات کے موقع پر میں نے ایک خواب دیکھا جس میں ’برگزیدہ ہستی‘ (پیغمبرِ اسلام) جلوہ گر ہوئے اور مجھے یہ خوشخبری ملی کہ میری نظم شاندار ہوگی۔ چنانچہ میں بہت خوش ہوا، وہ خواب سچ ثابت ہوا اور میں نے خود کو لکھنے لکھانے کے کام کے لیے وقف کر دیا۔‘
تقریباً چھ سال کی تحریری کاوشوں کے بعد، الشیبانی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ پانچ سو سے زائد اشعار پر مشتمل اس طویل نظم کی تکمیل کے قریب ہیں جس میں قافیے یا مصرعِ اول میں کوئی بھی لفظ ایک ہی ہجے کے ساتھ دوبارہ استعمال نہیں کیا گیا ہے۔
مصری شعور
وقت گزرنے کے باوجود البوصیری کی بُردہ مصر میں ذکر، نعت خوانی اور روحانی محفلوں کا لازمی حصہ بنی ہوئی ہے۔
اس کے اشعار آج بھی لوگوں کے دلوں میں گونجتے ہیں اور مصر میں اس کی مقبولیت بہت سی دوسری معروف نعتیہ تخلیقات سے بڑھ کر دیکھی جاتی ہے۔
مصری موسیقار ڈاکٹر ممدوح الجبالی نے 2014 میں پوری بُردہ کو موسیقی کے قالب میں ڈھالنے کا منصوبہ شروع کیا۔
ایک سال تک کام کرنے کے بعد اُنھوں نے 160 اشعار پر مشتمل اس قصیدے کو ڈیڑھ گھنٹے کی موسیقی میں ترتیب دیا۔ یہ ریکارڈنگ استنبول اور قاہرہ میں دو مراحل میں مکمل ہوئی۔
اسے مراکشی گلوکارہ فدوی المالکی، مؤذن محمدی اور عصام سیف کی شرکت سے پیش کیا گیا۔
فدوی المالکی نے بی بی سی عربی سے گفتگو میں کہا: ’ایسے شاعرانہ شاہکار کو پڑھنا میرے لیے ایک گہرا روحانی تجربہ تھا۔‘
اُنھوں نے کہا کہ موسیقار ممدوح الجبالی کو ایسے سانچے کی تلاش کرنا پڑی جو امام البوصیری کی شاعری کی عظمت اور موضوع کی تقدس کے مناسب ہو۔
اور یوں، ’امامِ مداحان‘ کے لقب سے معروف البوصیری کی بُردہ آج بھی اسلامی دنیا کے مختلف خطوں میں گونجتی ہے، گویا اس کے الفاظ میں ایسا راز پوشیدہ ہے جس نے صدیوں سے مداح اور ممدوح کے درمیان ایک منفرد رشتہ قائم کر رکھا ہے۔