کولکتہ ایئرپورٹ کے رن وے کے قریب واقع 136 سال پرانی مسجد کے انہدام کا منصوبہ متنازع کیسے بنا؟

وقت اشاعت
مطالعے کا وقت: 7 منٹ

کولکتہ کے نیتا جی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ہوائی اڈے کے احاطے میں واقع بانکرا مسجد کو ہٹائے جانے کے حوالے سے قیاس آرائیاں زور پکڑتی جا رہی ہیں۔

بی بی سی کے معاون صحافی پربھاکر منی تیواری نے تصدیق کی ہے کہ بین الاقوامی ہوائی اڈے کے حکام نے احاطے میں واقع 136 سال قدیم ایک مسجد میں نماز کی ادائیگی پر پابندی عائد کر دی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ابتدا میں جمعے کی شام سے تین دن کے لیے نماز پر پابندی لگائی گئی تھی، لیکن اب تک یہ پابندی نہیں ہٹائی گئی۔ مغربی بنگال کے وزیرِ اعلیٰ شوویندو ادھیکاری نے اس فیصلے کی حمایت کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت کسی کو اپنے مذہب پر عمل کرنے سے نہیں روک رہی، لیکن ایئرپورٹ کی سکیورٹی زیادہ اہم ہے۔

ایئرپورٹ حکام نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’بین الاقوامی حفاظتی اصولوں کے مطابق کسی بھی رن وے کے 240 میٹر کے دائرے میں کسی عمارت کا کوئی ڈھانچہ نہیں ہونا چاہیے، لیکن بانکرا ایئرپورٹ مسجد رن وے سے صرف 165 میٹر کے فاصلے پر ہے۔ اسی لیے اسے وہاں سے کسی دوسری جگہ منتقل کرنا ضروری ہے۔‘

بیان کے مطابق، ’مسجد اس مخصوص علاقے کے اندر واقع ہے جسے ایئرپورٹ کی سکیورٹی کے لیے مخصوص کیا گیا ہے۔ اس علاقے کی حفاظت کی ذمہ داری سی آئی ایس ایف (سینٹرل انڈسٹریل سکیورٹی فورس) کے پاس ہے اور وہ پہلے ہی وہاں مسجد کی موجودگی پر اعتراض کر چکی ہے۔‘

مسجد کمیٹی کے جنرل سیکریٹری محمد ضمیرالدین نے صحافیوں کو بتایا: ’مسجد کو وہاں سے منتقل کرنے کے لیے کافی عرصے سے بات چیت جاری تھی۔ ایئرپورٹ حکام نے مسجد کے لیے دوسری جگہ دینے کا یقین دلایا تھا۔ تاہم داخلے پر پابندی لگانے سے پہلے کمیٹی کو کوئی نوٹس نہیں دیا گیا۔‘

بانکرا مسجد کہاں واقع ہے؟

کولکتہ میں بی بی سی کے معاون صحافی پربھاکر منی تیواری ماہرین کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ کولکتہ ایئرپورٹ کی بنیاد 1924 میں رکھی گئی تھی جبکہ یہ مسجد 1890 میں تعمیر ہوئی تھی۔ اس وقت یہ علاقہ غیر منقسم بنگال کا حصہ تھا اور گاؤں والوں نے چندہ جمع کر کے یہ مسجد تعمیر کی تھی۔ ایک زمانے میں ستکھیرا (جو اب بنگلہ دیش میں ہے) اور اس کے اطراف کے دیہات کے لوگ بھی یہاں نماز پڑھنے آتے تھے۔

پہلے اس مسجد کا نام گوری پور جامع مسجد تھا۔ بعد میں اس کا نام تبدیل کر کے بانکرا ایئرپورٹ مسجد رکھ دیا گیا۔

پربھاکر منی تیواری اس مسجد میں نماز ادا کرنے کے انتظامات کے بارے میں بھی بتاتے ہیں۔

ان کے مطابق جیسور روڈ پر واقع آٹھ نمبر گیٹ سے 20 افراد کو سکیورٹی اور شناختی دستاویزات کی سخت جانچ پڑتال کے بعد سی آئی ایس ایف کی نگرانی میں بس کے ذریعے مسجد تک لے جایا جاتا تھا۔

ترنمول کانگریس کا مؤقف کیا ہے؟

جہاں ایک جانب حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کا مؤقف ہے کہ رن وے کے قریب سکیورٹی وجوہات کی بنا پر مسجد نہیں ہونی چاہیے، وہیں اپوزیشن جماعت ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) اور مسجد کی دیکھ بھال کرنے والی تنظیم مغربی بنگال جمعیت علمائے ہند کا کہنا ہے کہ بات چیت کے ذریعے ایئرپورٹ انتظامیہ کے تحفظات کا حل نکالا جا سکتا ہے۔

ٹی ایم سی کے سینیئر رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن سوگاتا رائے نے خبر رساں ادارے ایشین نیوز انٹرنیشنل (اے این آئی) سے کہا ہے کہ یہ مسجد 136 سال پرانی ہے اور مقامی لوگ یہاں نماز ادا کرتے ہیں، لیکن سنیچر سے یہاں نماز کی ادائیگی بند کر دی گئی ہے۔

ان کے مطابق ’یہ کہا گیا تھا کہ دو دن بعد مسجد میں دوبارہ آنے کی اجازت دی جائے گی، لیکن دو دن گزرنے کے باوجود ایسا نہیں ہوا۔ سی آئی ایس ایف کا کہنا ہے کہ اوپر سے احکامات موصول نہیں ہوئے۔ میرے خیال میں یہ لوگوں کے مذہبی عقیدے پر حملہ ہے۔ میں اس کی مذمت کرتا ہوں اور مطالبہ کرتا ہوں کہ مسجد کو نماز کے لیے دوبارہ کھولا جائے۔ اگر مسجد کو منتقل کرنا ہے تو مقامی لوگوں کی رضامندی سے منتقل کیا جائے۔‘

سوگاتا رائے نے کہا کہ یہ مسجد 136 سال پرانی ہے اور بی جے پی حکومت کے آنے کے بعد اچانک اس پر سوالات اٹھائے جانے لگے ہیں۔ ایسا نہیں ہے کہ یہاں سے طیارے اڑ نہیں رہے۔

مغربی بنگال جمعیت علمائے ہند کے صدر اور سابق وزیر صدیق اللہ چوہدری نے کہا ہے کہ یہ مسجد 1890 میں بانکرا گاؤں میں تعمیر ہوئی تھی اور اب ایئرپورٹ اتھارٹی اور ہوا بازی کی وزارت نے یہاں نماز بند کروا دی ہے۔

انھوں نے کہا: ’آج تک بانکرا گاؤں کے خلاف ایک بھی ثبوت سامنے نہیں آیا کہ یہاں کے کسی فرد نے قانون شکنی کی ہو۔ میں نے پرسوں ایئرپورٹ کے ڈائیریکٹر کو تین مرتبہ فون کیا۔ تین مرتبہ ایئرپورٹ تھانے میں بھی فون کیا، لیکن کسی نے فون نہیں اٹھایا اور نہ ہی جواب دیا۔ پولیس اور طاقت کے زور پر ایسا کرنا درست نہیں ہے۔‘

صدیق اللہ چوہدری کا کہنا تھا کہ ’ہم گذشتہ 30 برسوں سے کہتے آ رہے ہیں کہ ہمارے ساتھ بیٹھ کر بات کریں لیکن اچانک طاقت کا استعمال کر کے وہ غلط کام کر رہے ہیں۔ گذشتہ 71 برسوں کے ریکارڈ میں مسجد کا اندراج موجود ہے اور وہاں کوئی غیر قانونی سرگرمی نہیں ہو رہی۔‘

’ایئرپورٹ کے اندر اس طرح کی کوئی تعمیر نہیں ہوتی‘

ادھر بی جے پی رہنما اور وزیر دلیپ گھوش نے کہا ہے کہ مسجد کو ہٹایا جائے گا اور رن وے کو توسیع دی جائے گی۔

انھوں نے کہا: ’بابری مسجد کو بھی ہٹایا گیا اور اس کے لیے زمین بھی دی گئی۔ عقیدے کی بات اپنی جگہ درست ہے، لیکن کسی ایئرپورٹ کے اندر اس طرح کی تعمیر نہیں ہوتی۔ اس مسجد کو ہٹایا جائے گا، رن وے کو بڑا کیا جائے گا اور کولکتہ ایئرپورٹ کی گنجائش میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔‘

میگھالیہ کے سابق گورنر اور بی جے پی رہنما تاتھاگتا رائے کا کہنا ہے کہ ایئرپورٹ انتظامیہ کو مسجد کی منتقلی کا کام کافی پہلے کر لینا چاہیے تھا۔

انھوں نے کہا: ’کسی ایئرپورٹ کے اتنے قریب مسجد کا ہونا سکیورٹی کے لیے نقصان دہ ہے اور اسے پہلے ہی منتقل کیا جانا چاہیے تھا۔ سابقہ حکومتوں نے مسلمانوں کے ووٹوں کی وجہ سے ایسا نہیں کیا، جبکہ موجودہ حکومت کے فیصلے کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔‘

دم دم نارتھ سے بی جے پی کے رکن اسمبلی سوربھ سکدار نے کہا ہے کہ متعلقہ فریقوں کو سکیورٹی کے مسئلے کو اہمیت دیتے ہوئے رن وے کی توسیع میں تعاون کرنا چاہیے اور مسجد کو دوسری جگہ منتقل کر دیا جائے گا۔