خیبرپختونخوا بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار خائستہ رحمان کی ہلاکت: بموں کو ناکارہ بنانے میں کن چیلنجز کا سامنا رہتا ہے؟

    • مصنف, عزیز اللہ خان
    • عہدہ, بی بی سی اردو ڈاٹ کام، پشاور
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

14 جولائی کی صبح خائستہ رحمان معمول کی طرح بڈھ بیر تھانے میں موجود تھے اور اپنے ساتھیوں کے ساتھ چائے پی رہے تھے جب اچانک انھیں فون پر حکم ملا کہ پشاور کے مضافاتی علاقے حسن خیل کے قریب ان کی ضرورت ہے۔

بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار ہونے کی وجہ سے خائستہ رحمان کو حسن خیل میں دھماکہ خیز مواد کو ناکارہ بنانے کے لیے بلایا گیا تھا۔ شکیل حسین، جو خائستہ کے بھائی ہیں، نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ پولیس اہلکاروں کے مطابق ’خائستہ یہ حکم ملتے ہی اپنی چائے چھوڑ کر اٹھے تو ان کے ساتھیوں نے کہا کہ چائے تو پوری پی لو۔‘

’خائستہ نے کہا کہ نہیں پہلے ڈیوٹی پر پہنچنا ہے۔‘

بم ڈسپوزل سکواڈ کے انسپیکٹر زیارت اللہ کے مطابق پشاور کے قریب حسن خیل میں فقیری بانڈہ میں مسلح شدت پسندوں نے ایک پولیس چوکی پر حملہ کیا تھا جو خالی تھی، لیکن منگل کی صبح اسی چوکی میں دھماکہ خیز مواد کی موجودگی کی اطلاع پر انھوں نے خائستہ کو ہدایت دی کہ اس مواد کو ناکارہ بنائیں۔

زیارت اللہ کہتے ہیں کہ ’خائستہ بہت بہادر تھا۔ اس کا اکثر یہ جواب ہوتا تھا کہ بے غم ہو جائیں، میں ہوں نا، سنبھال لوں گا۔ کل بھی اس نے یہی کہا تھا، میں کر لوں گا۔‘

خائستہ دیگر اہلکاروں کے ہمراہ بڈھ بیر سے نکل کر مذکورہ چوکی پر پہنچے تو انھیں بتایا گیا کہ ایک بالٹی میں بارودی مواد موجود ہے۔ خائستہ نے حفاظتی لباس پہنا اور اس مواد کو ناکارہ بنانے میں جُت گئے۔

پولیس کے مطابق خائستہ تقریبا اپنا کام مکمل کر چکے تھے جب اسی بارودہ مواد میں ایک دھماکہ ہوا جس کے نتیجے میں وہ ہلاک ہو گئے۔ پولیس کے مطابق اس بالٹی میں 12 سے 15 کلوگرام بارودی مواد موجود تھا۔

واضح رہے کہ حسن خیل، پشاور سے تقریباً 80 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے اور سابقہ قبائلی پٹی اور ضلع کوہاٹ سے متصل ہونے کے باعث کئی برسوں سے سکیورٹی کے حوالے سے حساس سمجھا جاتا ہے۔ 2018 میں قبائلی اضلاع کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے قبل حسن خیل، فرنٹیئر ریجن (ایف آر) پشاور کا حصہ تھا۔

حالیہ دنوں میں اسی علاقے میں ایک چوکی پر حملہ کیا گیا تھا جس میں متعدد ایف سی اہلکار ہلاک ہوئے تھے۔

خائستہ رحمان کی نماز جنازہ گذشتہ روز پولیس لائن میں ادا کی گئی جس میں گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی ، رکن قومی اسمبلی ارباب شیر علی، انسپکٹر جنرل پولیس ذوالفقار حمید اور چیف سیکرٹری سمیت دیگر اعلی حکام نے شرکت کی۔ لیکن خائستہ کی ہلاکت خیبرپختونخوا میں بڑھتی ہوئی شدت پسندی کے بیچ پولیس کے بم ڈسپوزل یونٹ کو درپیش چیلنجز اور خطرات اجاگر کرتی ہے جس کے کئی اہلکار گزشتہ سالوں میں بارودی مواد ناکارہ بناتے ہوئے ہلاک ہو چکے ہیں۔

اس تحریر میں ہم نے ان چیلنجز اور مشکلات کا احاطہ کرنے کی کوشش کی ہے کہ بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکار کیسے شدت پسندوں کی نئی نئی چالوں کا سامنا کرتے ہوئے بارودہ مواد کو ناکارہ بناتے ہیں اور اس عمل میں انھیں اپنی جان ہتھیلی پر رکھنا پڑتی ہے۔

لیکن اس سے پہلے خائستہ رحمان کے بارے میں جانتے ہیں۔

خائستہ رحمان کون تھے؟

پشاور کے مضافاتی علاقے متنی میں مریم زئی سے تعلق رکھنے والے خائستہ رحمان سال 2009 میں پولیس میں بھرتی ہوئے اور بعد میں بم ڈسپوزل سکواڈ میں شامل ہوئے۔

زیارت اللہ کے مطابق خائستہ رحمان نے سینکڑوں بم اور بارودی مواد تلف کیے تھے اور بہت بہادری اور ایمانداری سے کام کرتے تھے۔

خائستہ کے بھائی شکیل حسین نے بتایا کہ ان کے والد بھی پولیس میں تھے جو کچھ عرصہ پہلے ہی وفات پا چکے ہیں۔

شکیل حسین کے مطابق ان کا خاندان خائستہ سمیت پانچ بھائیوں اور پانچ بہنوں پر مشتمل تھا۔ خود خائستہ، جن کی شادی 2013 میں ہوئی تھی، چار بیٹیوں کے والد تھے لیکن ان کی زندگی ایسے ہی خطرات میں گھری رہی۔

شکیل حسین نے بتایا کہ ’چند روز پہلے گھر میں صحن میں چارپائی پر لیٹا ہوا تھا جہاں اس کی چھوٹی بیٹی خائستہ کے سینے پر سر رکھ کر لیٹی ہوئی تھیں کہ اتنے میں کال آئی کہ کسی نے دستی بم پھینکا ہے اور اسے ناکارہ کرنا ہے۔‘

’یہ کوئی رات 10 بجے کا وقت تھا اور اس علاقے میں پولیس اہلکاروں کی جان کو ہر وقت خطرہ رہتا ہے لیکن خائستہ خطرے کی پرواہ کیے بغیر موقع پر پہنچے اور دستی بم ناکارہ کر دیا۔‘

خیبرپختونخوا کا بم ڈسپوزل یونٹ

ڈیرہ اسماعیل خان سے تعلق رکھنے والے عنایت اللہ ’ٹائیگر‘ پر متعدد حملے ہوئے جن میں ایک بار وہ شدید زخمی ہوئے اور ان کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی تھی۔ پھر انھوں نے مصنوعی ٹانگ کے ساتھ اپنی ڈیوٹی دوبارہ شروع کر دی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے انھوں نے بتایا کہ بم ڈسپوزل یونٹ کے اہلکاروں کو صرف بارودی مواد ناکارہ بناتے وقت ہی خطرے کا سامنا نہیں ہوتا بلکہ یہ صرف ایک خطرہ ہوتا ہے۔

انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ ’ایک بڑا خطرہ سنائپر حملے کا ہوتا ہے‘ کیونکہ جب وہ کسی بھی واقعے یا اطلاع کے بعد جائے وقوعہ پر پہنچنے کے لیے روانہ ہوتے ہیں تو اکثر گھات لگائے مسلح شدت پسند سنائپر دور سے نشانہ لگا کر انھیں نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں۔

راستے میں چھپے ہوئے شدت پسندوں کی جانب سے حملے کے لیے بھی انھیں ذہنی اور جسمانی طور پر تیار رہنا پڑتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’ایک خطرہ بوبی ٹریپ کا ہوتا ہے۔ یعنی ایک بارودی مواد کے ساتھ خفیہ طور پر دوسرا مواد بھی چھپا کر رکھا گیا ہوتا ہے اور جب بم ڈسپوزل ٹیم موقع پر پہنچتی ہے تو اس وقت بٹن دبا کر دھماکہ کر دیا جاتا ہے۔‘

انھوں نے بتایا کہ بارودی مواد کو تلف کرنا بھی خطرے سے بھرپور اور اعصاب شکن ہوتا ہے کیوں کہ چھوٹی سی غلطی سے کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

خیبر پختونخوا بم ڈسپوزل یونٹ کے سابق سربراہ شفقت ملک کے مطابق 2009 سے 2021 تک 16 ماہرین جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

ان میں انسپکٹر حکم خان بھی شامل ہیں، جو 28 ستمبر 2012 کو پشاور کے علاقے شیخان/مٹنی (بڈھ بیر کے قریب) ایک آئی ای ڈی ناکارہ بنانے کے بعد دوسرے ریموٹ کنٹرول بم کے دھماکے میں ہلاک ہوئے۔

12 مارچ 2013 کو لال مست خان ادیزئی، پشاور میں تقریباً 14 کلوگرام وزنی دیسی ساختہ بم ناکارہ بناتے ہوئے ہلاک ہو گئے تھے۔

16 دسمبر 2013 کو بڈھ بیر کے علاقے شیخ محمدی میں بم کی اطلاع پر جاتے ہوئے بم ڈسپوزل یونٹ کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی سے نشانہ بنایا گیا، جس میں انسپکٹر عبد الحق، کانسٹیبل امتیاز اور ڈرائیور کاشف ہلاک جبکہ ایک اہلکار زخمی ہوا۔

عنایت اللہ خان المعروف ٹائیگر 20 جنوری 2014 کو ڈیرہ اسماعیل خان کی تحصیل کلاچی میں بم ناکارہ بناتے ہوئے شدید زخمی ہوئے اور ان کی ایک ٹانگ ضائع ہوگئی تھی۔

اسی طرح داودزئی، پشاور میں ایک کارروائی کے دوران بم ڈسپوزل اہلکار زاہد ایک بوبی ٹریپ دھماکے میں زخمی ہوئے، تاہم حفاظتی لباس نے ان کی جان بچالی۔