آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
’فائر کلاؤڈ‘ کیا ہے اور یہ جنگل کی آگ کو زیادہ جان لیوا کیسے بناتا ہے؟
- مصنف, ہیلن ولیٹس، اولیویا آئرلینڈ
- عہدہ, بی بی سی نیوز
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 7 منٹ
فرانس اور سپین میں فائر فائٹرز وسیع پیمانے پر لگی آگ بجھانے کی کوششوں میں مصروف ہیں، جبکہ ان دونوں ممالک میں اب تک مجموعی طور پر تین لاکھ 30 ہزار سے زائد افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جا چکا ہے۔
فرانس میں تقریباً دو لاکھ 20 ہزار افراد اور سپین میں ایک لاکھ سے زیادہ افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں، جہاں میڈرڈ کے مغرب میں لگی آگ تیزی سے پھیل رہی ہے اور حکام کے مطابق کئی علاقوں میں صورتحال قابو سے باہر ہے۔
سپین میں منگل کو میڈرڈ کے مغرب میں بھڑکنے والی شدید جنگلاتی آگ کے بعد قومی سطح پر نافذ ہونے والی ہنگامی صورتحال کا چھٹا روز تھا۔ بی بی سی ویریفائی کی جانب سے سیٹلائٹ تصاویر کے تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ آگ اب تک 27 ہزار ہیکٹر سے زیادہ رقبے کو اپنی لپیٹ میں لے چکی ہے۔
24 اور 26 جولائی کو لی گئی سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ صرف دو دنوں کے دوران آگ کس تیزی سے پھیلی ہے۔ الموروکس، ویلا دل پراڈو اور سان مارٹین دے والدیگلیسیاس کے علاقوں میں مختلف مقامات پر بھڑکنے والی آگ بالآخر آپس میں مل کر ایک وسیع اور تباہ کن آتش زدگی میں تبدیل ہو گئی۔
دوسری جانب فرانس کے جنوب مغربی جیروند خطے میں آگ کی شدت میں ایک غیر معمولی موسمی مظہر، پائروکیومولونمبس، بھی اضافہ کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ایک ایسا طوفانی بادل ہوتا ہے جو آگ کی پیدا کردہ شدید حرارت اور توانائی کے باعث تشکیل پاتا ہے۔ اسی وجہ سے اسے بعض اوقات ’فائر کلاؤڈ‘ یا آگ سے پیدا ہونے والا طوفانی بادل بھی کہا جاتا ہے، جو نہ صرف آگ کے پھیلاؤ کو تیز کر سکتا ہے بلکہ غیر متوقع موسمی حالات بھی پیدا کر سکتا ہے۔
فائر کلاؤڈ کیسے بنتا ہے؟
جنگلاتی آگ سے پیدا ہونے والی شدید حرارت آگ کے اُوپر موجود فضا کو تیزی سے گرم کر کے اُوپر کی جانب دھکیلتی ہے۔ اس عمل کے دوران دھواں، راکھ اور آبی بخارات بھی بلندیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔
جیسے جیسے یہ گرم ہوا اوپر اٹھتی ہے، اس کا درجہ حرارت کم ہوتا جاتا ہے اور آبی بخارات گاڑھے ہو کر بادلوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ اگر آگ غیر معمولی طور پر شدید ہو اور فضائی حالات سازگار ہوں، تو یہ بادل ایک دیوہیکل کیومولونمبس بادل میں تبدیل ہو سکتا ہے، جو عام طور پر گرج چمک والے طوفانوں سے وابستہ ہوتا ہے۔ ایسے بادلوں کو پائروکیومولونمبس یا فائر کلاؤڈز کہا جاتا ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
ماہرین کے مطابق فائر کلاؤڈز خطرناک اور غیر متوقع ہوائیں پیدا کر سکتے ہیں، جو جلتے ہوئے انگاروں کو دور دور تک لے جا کر نئی جگہوں پر آگ بھڑکا دیتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں جنگلاتی آگ کا پھیلاؤ بے قابو ہو جاتا ہے اور اس پر قابو پانا مزید مشکل ہو جاتا ہے۔
اس کے علاوہ، ان بادلوں سے پیدا ہونے والی آسمانی بجلی بھی نئی آگ کا سبب بن سکتی ہے۔
فرانسیسی فائر فائٹنگ حکام کا کہنا ہے کہ بوردو کے قریب لگی حالیہ آگ کے پھیلاؤ میں اسی موسمی مظہر کا اہم کردار رہا ہے، اور ان کے مطابق فرانس میں اس نوعیت کا واقعہ پہلے کبھی ریکارڈ نہیں کیا گیا۔
یورپ اس موسمِ گرما میں شدید اور ریکارڈ توڑ گرمی کی لہروں کی زد میں ہے، جبکہ کئی علاقوں میں بارش معمول سے کہیں کم ہوئی ہے۔ نتیجتاً وسیع خطے خشک سالی جیسے حالات کا شکار ہو گئے ہیں اور جنگلاتی آگ کے لیے انتہائی حساس بن چکے ہیں۔ اسی وجہ سے فرانس، سپین اور برطانیہ سمیت متعدد ممالک میں آگ کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کو خدشہ ہے کہ ہفتے کے آخر میں متوقع ایک اور گرمی کی لہر آگ پر قابو پانے کی کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا سکتی ہے۔ پیش گوئی کے مطابق فرانس کے بعض علاقوں میں درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ سکتا ہے۔
انتظامی کارروائی میں شامل ایک سینیئر فرانسیسی عہدیدار نے خبردار کیا ہے کہ جیروند کے جنگلات میں لگی آگ غالباً ’کئی ہفتوں‘ تک جلتی رہے گی، جبکہ اسے مکمل طور پر بجھانے اور متاثرہ علاقوں کو محفوظ قرار دینے میں مہینوں لگ سکتے ہیں۔
یہ خطرناک کیوں ہے؟
پائروکیومولونمبس بادل عموماً اس وقت تشکیل پاتے ہیں جب جنگلاتی آگ انتہائی شدت اختیار کر لے اور ماحول میں بلند درجہ حرارت، کم نمی اور تیز ہواؤں جیسے خطرناک حالات موجود ہوں۔ ماہرین موسمیات کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث ایسے واقعات کے امکانات میں اضافہ ہو رہا ہے، کیونکہ دنیا کے مختلف خطوں میں شدید گرمی اور خشک سالی کی شدت بڑھتی جا رہی ہے۔
اگرچہ ماضی میں پائروکیومولونمبس بادلوں کو نسبتاً نایاب سمجھا جاتا تھا، لیکن حالیہ برسوں میں دنیا کے مختلف حصوں میں ان کی نمایاں مثالیں سامنے آئی ہیں۔ ان میں سب سے نمایاں واقعہ آسٹریلیا میں 2019-2020 کے ’بلیک سمر‘ بش فائرز تھے، جہاں شدید آتشزدگی نے ایسے طاقتور فائر سٹورمز کو جنم دیا جو اپنا الگ موسمی نظام بنانے کی صلاحیت رکھتے تھے۔
یہ آسٹریلیا کی تاریخ کے بدترین اور تباہ کن ترین آتشزدگی کے موسموں میں شمار ہوتا ہے۔ اس دوران کم از کم 33 افراد ہلاک ہوئے، جن میں چار فائر فائٹرز بھی شامل تھے، جبکہ ملک بھر میں تقریباً ایک لاکھ 10 ہزار مربع کلومیٹر (ایک کروڑ 10 لاکھ ہیکٹر) رقبہ، جس میں جھاڑیاں، جنگلات اور قومی پارکس شامل تھے، جل کر خاکستر ہو گیا۔
نیو ساؤتھ ویلز کے فائر حکام کے مطابق ان فائر سٹورمز سے اٹھنے والے انگارے آگ کے مرکزی علاقے سے 30 کلومیٹر دور جا کر گر رہے تھے، جو معمول کے مقابلے میں تقریباً تین گنا زیادہ فاصلہ تھا۔ اس عمل نے نئی جگہوں پر آگ بھڑکانے اور آتشزدگی کو مزید وسیع کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اس وقت امریکی خلائی ادارے ناسا نے پائروکیومولونمبس بادلوں کو ’آگ اُگلنے والے اژدھا‘ سے تشبیہ دی تھی، کیونکہ یہ بادل دھوئیں کو ایک دیوہیکل چمنی کی طرح فضا کی بلند تہوں تک لے جا رہے تھے، جبکہ ساتھ ہی گرج چمک، تیز ہوائیں اور بعض اوقات بارش بھی پیدا کر رہے تھے۔
جنوری 2020 میں آسٹریلوی دارالحکومت کینبرا کے جنوب میں واقع اورورل ویلی بش فائر سے بھی ایک بڑا پائروکیومولونمبس بادل وجود میں آیا، جسے اس مظہر کی نمایاں مثالوں میں شمار کیا جاتا ہے۔
اسی طرح 2021 کے موسم گرما میں امریکی ریاست کیلیفورنیا اور مغربی امریکہ کے دیگر علاقوں میں لگنے والی شدید جنگلاتی آگ نے بھی متعدد پائروکیومولونمبس بادل پیدا کیے۔ دھوئیں سے بھرپور یہ بادل تقریباً 1.6 کلومیٹر کی بلندی تک پہنچے اور وسیع علاقوں پر چھا گئے، جس سے آگ بجھانے کی کارروائیاں مزید پیچیدہ ہو گئیں۔
کیلیفورنیا کے فائر فائٹنگ حکام کے مطابق 2021 کے اس سیزن میں 7,300 سے زائد جنگلاتی آگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جنھوں نے تقریباً 10 لاکھ ہیکٹر رقبہ جلا دیا، جبکہ کم از کم تین فائر فائٹرز اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔
ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافہ اور خشک سالی کے رجحانات جاری رہے تو پائروکیومولونمبس بادلوں اور ان سے منسلک خطرناک فائر سٹورمز کے واقعات مستقبل میں مزید عام ہو سکتے ہیں، جس سے جنگلاتی آگ پر قابو پانا پہلے سے کہیں زیادہ دشوار ہو جائے گا۔