آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
دولتِ مشترکہ کھیل 2026: ارشد ندیم کی کوالیفائنگ راؤنڈ میں ساتویں پوزیشن، جیولن تھرو کے فائنل میں جگہ بنانے میں کامیاب
پاکستان کے ارشد ندیم نے سکاٹ لینڈ کے شہر گلاسگو میں جاری دولتِ مشترکہ کھیلوں میں جیولن تھرو کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں ساتویں پوزیشن حاصل کی ہے۔
فائنل میں جگہ بنانے کے بعد وہ اب اپنے اعزاز کے دفاع کے لیے جمعے کو میدان میں اتریں گے جہاں ان کے روایتی حریف نیرج چوپڑا بھی موجود ہوں گے۔
جمعرات کو جیولن تھرو کے کوالیفائنگ راؤنڈ میں کوئی بھی ایتھلیٹ ڈائریکٹ کوالیفیکیشن کے لیے درکار 84 میٹر کی تھرو نہ کر سکا تاہم بہترین تھرو کی بنیاد پر 12 کھلاڑی فائنل میں پہنچنے میں کامیاب رہے۔
ان 12 ایتھلیٹس میں ارشد ندیم کا نمبر ساتواں تھا جو انھیں 78.63 میٹر کی تھرو کی بدولت حاصل ہوا۔
سری لنکا کے رمیش تھرنگا 82.84 میٹر کی تھرو کے ساتھ سرفہرست رہے جبکہ گریناڈا کے اینڈرسن پیٹرز نے 81.29 میٹر کے ساتھ دوسرے اور جنوبی افریقہ کے ڈو سمٹ 80.64 میٹر کے ساتھ تیسرے نمبر پر رہے۔
انڈیا کے نیرج چوپڑا نے 79.61 میٹر دور نیزہ پھینکا جبکہ ان کے دو اور انڈین ساتھی روہت یادو اور یشویر سنگھ بھی فائنل کے لیے کوالیفائی کرنے میں کامیاب رہے۔ روہت یادو نے جون میں نیشنل انٹر سیپٹ سینیئر ایتھلیٹکس چیمپئن شپ میں 87.05 میٹر کی تھرو کی تھی۔
ابتدائی مقابلے میں شامل دوسرے پاکستانی ایتھلیٹ یاسر سلطان 74.36 میٹر کی بہترین تھرو کے ساتھ 14ویں نمبر پر رہے اور فائنل میں جگہ نہیں بنا سکے۔
خیال رہے کہ ارشد ندیم نے 2022 کے برمنگھم کامن ویلتھ گیمز میں 90.18 میٹر کی تھرو کے ساتھ طلائی تمغہ جیتا تھا جو کہ نہ صرف ایک نیا قومی بلکہ کامن ویلتھ گیمز کا بھی ریکارڈ تھا۔ اس تھرو کے بعد وہ مردوں کے جیولن تھرو میں 90 میٹر کا فاصلہ عبور کرنے والے پہلے جنوبی ایشیائی ایتھلیٹ بنے تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
29 سالہ ارشد ندیم کی حالیہ کارکردگی زیادہ متاثر کن نہیں رہی ہے اور اولمپک چیمپئن حال ہی میں سوئٹزر لینڈ میں منعقدہ لوسرن انٹرنیشنل میٹ میں 80 میٹر کی حد بھی عبور کرنے میں ناکام رہے تھے۔
اس ایونٹ میں ارشد ندیم 78.47 ہی نیزہ پھینک پائے تھے۔ کوچ سلمان بٹ نے اولمپک چیمپئن کی مایوس کن کارکردگی کی وجہ سوئٹزرلینڈ کے موسم سے ہم آہنگ نہ ہونا بتائی تھی۔
کوچ سلمان بٹ کے مطابق ارشد ندیم بھرپور تیاری کے ساتھ کامن ویلتھ گیمز میں شرکت کریں گے اور اُمید ہے کہ وہ اپنے اعزاز کا دفاع کریں گے۔
گیمز سے قبل ارشد ندیم نے اپنے ٹائٹل کے دفاع کے چیلنج کا اعتراف کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ مقابلہ پہلے سے کہیں زیادہ سخت ہوگا۔
کامن ویلتھ گیمز 2026 میں مردوں کے جیولن تھرو (نیزہ پھینکنے) کے مقابلے کا آغاز جمعرات کو کوالیفائنگ راؤنڈ سے ہوگا، جبکہ فائنل جمعے کو شیڈول ہے۔
ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا کی حالیہ کارکردگی
پاکستان اور انڈیا کے درمیان حالیہ کشیدگی کے پیش نظر اس مرتبہ بھی سب نظریں ارشد ندیم اور نیرج چوپڑا پر مرکوز ہیں۔
ماضی میں ہونے والے عالمی مقابلوں میں دونوں کھلاڑی تھروز کے درمیان ایک دوسرے کو داد دیتے رہے ہیں۔ لیکن حالیہ ایونٹس میں دونوں ایک دوسرے سے دُور دُور ہی رہے ہیں۔
گذشتہ برس ورلڈ ایٹھلیٹکس چیمپئن شپ کے فائنل میں دونوں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کر پائے تھے۔
نیرج چوپڑا نے سنہ 2018 کے کامن ویلتھ گیمز میں سونے کا تمغہ حاصل کیا تھا جبکہ سنہ 2022 میں وہ حصہ نہیں لے سکے تھے۔
وہ انجری سے صحت یاب ہو کر واپسی کر رہے ہیں۔ رواں برس جون میں اُنھوں نے دوحہ میں ڈائمنڈ لیگ میں 69-85 میٹر کی تھرو کے ساتھ چوتھی پوزیشن حاصل کی تھی۔
گذشتہ برس مئی میں پاکستان اور انڈیا کے درمیان جھڑپوں کے بعد نیرج چوپڑا نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اُن کے لیے ارشد ندیم کے ساتھ پہلے جیسے تعلقات برقرار رکھنا شاید ممکن نہیں ہو گا۔
نیرج چوپڑا کا کہنا تھا کہ اُن کی کبھی بھی ارشد ندیم کے ساتھ گہری دوستی نہیں تھی، صرف ایک باہمی احترام پر مبنی رشتہ تھا۔
ارشد ندیم کون ہیں؟
پاکستان کے لیے 40 برس بعد اولمپکس میں جیولن تھرو مقابلوں میں گولڈ میڈل جیتنے والے سٹار ایتھلیٹ ارشد ندیم کا تعلق میاں چنوں کے نواحی گاؤں چک نمبر 101-15 ایل سے ہے۔
انھوں نے 2024 میں برس پیرس اولپمکس میں 92.97 میٹر کی تھرو کے ساتھ نہ صرف جیولن فائنل جیتا بلکہ اولمپکس میں سنہ 2008 میں قائم کیا گیا ریکارڈ بھی توڑا۔
انھیں اولمپکس میں گولڈ میڈل جیتانے والی ایک تھرو 92.97 میٹر جبکہ دوسری 91.79 میٹر کے فاصلے تک گئی۔
ارشد اس سے قبل کامن ویلتھ گیمز اور ایشیئن گیمز میں بھی طلائی تمغہ حاصل کر چکے ہیں۔
ارشد ندیم کا سفر میاں چنوں کے گھاس والے میدان سے شروع ہوا جو اُنھیں انٹرنیشنل مقابلوں میں لے گیا۔