’سب کے نام یاد نہیں رہتے‘: 58 بچوں کے والد محمد صادق جو ہر رات سونے سے پہلے اپنے بچوں کی گنتی ضرور کرتے ہیں

محمد صادق اپنے بچوں کے درمیان
    • مصنف, تورپیکی غرنی
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

افغانستان میں بڑے خاندان اور زیادہ بچوں والے جوڑے عام سمجھے جاتے ہیں، لیکن صوبہ ارزگان کے رہائشی محمد صادق کا خاندان شاید ملک کے سب سے بڑے خاندانوں میں شمار ہوتا ہے۔

محمد صادق کی چار بیویوں سے 58 بچے ہیں اور اس کا سب سے چھوٹا بچہ صرف چند ہفتے قبل پیدا ہوا تھا۔ اتنے بڑے خاندان کی کفالت ان کے لیے ایک بہت بڑا چیلنج بن چکی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ ان کی ساری کوشش اس بات پر مرکوز رہتی ہے کہ بچوں کے لیے روزانہ کھانے پینے کا انتظام کر سکیں۔ معاشی مشکلات کے باعث خاندان کے چھوٹے بچے بھی سخت حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

اس خاندان کی چاروں خواتین نے بھی برسوں تک مسلسل حمل، زچگی اور بچوں کی پرورش کی ذمہ داریاں نبھائی ہیں۔ محمد صادق کے مطابق ان کی چاروں بیویوں کی شادی کم عمری میں ہوئی تھی اور نکاح کے وقت ان کی عمریں 13 سے 16 سال کے درمیان تھیں۔

محمد صادق ہنستے ہوئے بتاتے ہیں کہ کبھی کبھار وہ اپنے تمام بچوں کے نام بھی یاد نہیں رکھ پاتے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ ہر رات سونے سے پہلے بچوں کی گنتی ضرور کرتے ہیں تاکہ اطمینان ہو جائے کہ سب گھر میں موجود ہیں۔

اس خاندان کی خواتین نے بھی کم عمری میں ہی ازدواجی زندگی کا آغاز کیا۔ وہ اس عمر میں شادی کے بندھن میں بندھیں جب وہ خود ابھی بچپن اور لڑکپن کے مرحلے سے گزر رہی تھیں، اور اس کے بعد برسوں تک حمل، زچگی اور بچوں کی پرورش کی ذمہ داریاں سنبھالتی رہیں۔
،تصویر کا کیپشنمحمد صادق کا گھر کئی کمروں پر مشتمل ہے، جن میں سے کسی پر بھی دروازہ نہیں اور ہر دروازے کی جگہ ایک پردہ لٹک رہا ہے۔ تمام کمرے دائیں جانب واقع ہیں

جب چھوٹے بچے اپنے والد کے گرد جمع ہوتے ہیں تو، محمد صادق کے بقول، ان کا گھر شور، ہنسی اور چہل پہل سے یوں بھر جاتا ہے جیسے وہاں شادی کی کوئی تقریب جاری ہو۔

تاہم اس خاندان کی زندگی میں خوشیوں کے ساتھ سخت معاشی مشکلات بھی موجود ہیں۔ غربت بعض اوقات اس حد تک بڑھ جاتی ہے کہ کچھ بچوں کو رات بھوکا سونا پڑتا ہے۔ خاندان کے لیے روزانہ صرف دو وقت، صبح اور شام، کھانا تیار کیا جاتا ہے، جبکہ گھر کی دو خواتین کھانا پکانے کی ذمہ داری نبھاتی ہیں۔

57 سالہ محمد صادق گاڑیوں کے ایک شوروم میں ملازمت کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ زیادہ بچوں کی خواہش کے پیچھے ان کا مقصد صرف یہ تھا کہ ’امتِ محمدی میں اضافہ ہو۔‘

وہ اپنی ایک بیٹی کے نکاح کا ایک دلچسپ واقعہ سناتے ہوئے کہتے ہیں، ’نکاح پڑھانے والے مولوی صاحب نے مجھ سے میری بیٹی کا نام پوچھا، تو میں کچھ دیر سوچتا رہا اور غلطی سے دوسری بیٹی کا نام بتا دیا۔ مولوی صاحب نے ہنستے ہوئے کہا کہ گھر جا کر دوبارہ معلوم کر لیں، کہیں آپ نے غلط نام تو نہیں بتا دیا۔‘

مواد پر جائیں
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر
بی بی سی اردو اب واٹس ایپ پر

بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں

سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں

مواد پر جائیں

وہ بتاتے ہیں کہ اتنے زیادہ بچوں کے باعث اکثر انھیں سب کے نام یاد رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، اس لیے وہ زیادہ تر اپنے بچوں کو ’بیٹا‘ کہہ کر پکارتے ہیں۔

محمد صادق ایک واقعہ یاد کرتے ہوئے کہتے ہیں، ’ایک رات ہم سب دسترخوان کے گرد بیٹھے تھے۔ میں نے بچوں کی گنتی شروع کی تو ایک بچہ کم نکلا۔ مجھے یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ غیر حاضر بچہ لڑکا ہے یا لڑکی۔ پھر میں نے ان کی ماؤں سے پوچھا تو ایک نے بتایا کہ وہ اس کا بچہ ہے، جسے وہ اپنی نانی کے گھر بھیج چکی ہیں اور وہ رات وہیں گزارے گا۔‘

محمد صادق کی پہلی شادی اس وقت ہوئی جب ان کی عمر 20 سال تھی۔ بی بی سی کی جانب سے کم عمر لڑکیوں سے شادی کی وجہ پوچھے جانے پر انھوں نے کہا کہ ہر شادی کے لیے انھیں کئی برس تک ’طویانہ‘ (دلہن کے خاندان کو دیا جانے والا معاوضہ) جمع کرنا پڑا تھا۔

جب ان سے اتنے بڑے خاندان اور بچوں کی کفالت کی ذمہ داری کے بارے میں سوال کیا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ ان کی بیویاں بہت کم عمری میں ازدواجی رشتے میں بندھ گئیں۔ بچپن اور لڑکپن کی عمر میں ہی انھوں نے شادی، حمل، زچگی اور بچوں کی پرورش جیسی بھاری ذمہ داریاں سنبھال لیں، جو ان کی زندگی کا مستقل حصہ بن گئیں۔

محمد صادق اور ان کی بیویوں نے اپنی زندگی میں ایک اور بڑی آزمائش بھی دیکھی ہے۔ برسوں کے دوران ان کے 14 بچے فوت ہو چکے ہیں، جو کسی بھی والدین کے لیے ایک گہرا صدمہ ہوتا ہے۔

محمد صادق کا باورچی خانہ۔ باورچی خانے کے آخری حصے میں نیلے لباس میں ملبوس ایک خاتون بیٹھی ہیں۔ زمین پر ایک سفید بوری کے ساتھ کئی زرد رنگ کے ڈرم، ایک دیگ اور ایک چائے دان رکھا ہے
،تصویر کا کیپشنمحمد صادق کا باورچی خانہ۔ باورچی خانے کے آخری حصے میں نیلے لباس میں ملبوس ایک خاتون بیٹھی ہیں۔ زمین پر ایک سفید بوری کے ساتھ کئی زرد رنگ کے ڈرم، ایک دیگ اور ایک چائے دان رکھا ہے

ماہرین کے مطابق کم عمری میں شادی اور حمل ماں اور نومولود دونوں کی صحت کے لیے خطرات بڑھا سکتے ہیں، جبکہ بار بار حمل ماؤں کو مزید طبی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔ افغانستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں حمل اور زچگی کے دوران خواتین کی اموات کی شرح اب بھی نسبتاً بلند ہے، خاص طور پر دیہی اور دور افتادہ علاقوں میں جہاں معیاری طبی سہولیات تک رسائی محدود ہے۔

دوسری جانب غربت بھی اس خاندان کی زندگی پر گہرا اثر ڈال رہی ہے۔ سردیوں میں گھر کے افراد کمروں میں اور گرمیوں میں صحن میں اکٹھے ہو کر کھانا کھاتے ہیں، لیکن ان کے پاس بنیادی سہولیات بھی بہت کم ہیں۔ جس جگہ پر نہایا جاتا ہے، وہی کپڑے اور برتن دھونے کے لیے استعمال ہوتی ہے اور وہی بیت الخلا کا کام بھی دیتی ہے۔

خاندان کے بڑھتے ہوئے اخراجات پورے کرنے کے لیے صرف محمد صادق ہی نہیں بلکہ ان کے کئی بچے بھی کام کرتے ہیں۔ بعض بچے کاغذ، پلاسٹک اور دیگر قابلِ استعمال اشیا جمع کرتے ہیں تاکہ انھیں ایندھن کے طور پر استعمال کیا جا سکے یا فروخت کر کے گھر کے اخراجات میں حصہ ڈالا جا سکے۔

تمام مشکلات کے باوجود یہ خاندان روزمرہ زندگی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے مسلسل جدوجہد کر رہا ہے، جہاں ہر دن خوراک، رہائش اور بچوں کی کفالت ایک نئے چیلنج کے طور پر سامنے آتا ہے۔

سرد راتوں میں کبھی ایک ہی پتلا کمبل چھ یا سات افراد اوڑھتے ہیں، جبکہ سادہ گدوں کے سوا اس خاندان کے پاس سونے کے لیے کوئی خاص سہولت موجود نہیں۔ گھر کے کمروں میں نہ کھڑکیاں ہیں اور نہ باقاعدہ دروازے، صرف باریک پردے داخلی راستوں کو ڈھانپتے ہیں۔

ایندھن کے لیے خاندان زیادہ تر کاغذ اور دوسری دستیاب اشیا جلا کر آگ روشن کرتا ہے۔ ان مشکلات کے باوجود محمد صادق، جو خود تعلیم حاصل نہیں کر سکے، کہتے ہیں کہ انھوں نے اپنے بچوں کو سکول بھیجنے کی بھرپور کوشش کی ہے، تاہم محدود آمدنی کے باعث تعلیمی اخراجات برداشت کرنا ان کے لیے آسان نہیں۔

محمد صادق گاڑیوں کے ایک شوروم میں کام کرتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ایک گاڑی فروخت ہو جائے تو انھیں صرف ایک ہزار افغانی کمیشن ملتا ہے۔

تاہم اتنے بڑے خاندان کی ضروریات ان کی مجموعی آمدنی سے کہیں زیادہ ہیں۔ اسی لیے محمد صادق حکومت، امدادی اداروں اور صاحبِ استطاعت افراد سے مدد کی اپیل کرتے ہیں تاکہ وہ اپنے بچوں کی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔

اپنی خواہشات کے بارے میں بات کرتے ہوئے محمد صادق کہتے ہیں کہ ان کی زندگی کی صرف دو بڑی آرزوئیں ہیں:

’میری پہلی خواہش ہے کہ میرے بچے تعلیم حاصل کریں، دین اور دنیا کا علم سیکھیں، اور دوسری یہ کہ انھیں کبھی بھوکا نہ سونا پڑے اور ان کا پیٹ بھرا رہے۔‘