وہ ٹیکنالوجی جو موبائل فون سگنل کے بغیر بھی کال کرنا ممکن بناتی ہے

    • مصنف, عمیر محمود
    • عہدہ, بی بی سی اردو
    • مقام, اسلام آباد
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 9 منٹ

فرض کیجیے آپ ایک عمارت کے تہہ خانے میں موجود ہیں۔ ارد گرد روشنی ہے، ائیرکنڈیشنر کی ٹھنڈک نے باہر کی گرمی کو روک رکھا ہے، لیپ ٹاپ وائی فائی سے جڑا ہوا ہے اور انٹرنیٹ کی رفتار بھی مناسب ہے۔

سکون سے اپنا کام کرنے کے دوران اچانک آپ کو یاد آتا ہے کہ ایک نہایت اہم فون کال کرنی تھی۔ آپ فوراً جیب سے موبائل فون نکالتے ہیں، مگر سکرین پر نظر پڑتے ہی دل بیٹھ جاتا ہے۔

موبائل نیٹ ورک غائب ہے۔ سگنل کی ایک بھی لائن موجود نہیں۔

مسئلہ یہ ہے کہ جس شخص سے آپ نے رابطہ کرنا ہے اس کے پاس واٹس ایپ، زوم یا انٹرنیٹ کے ذریعے کال کرنے کی کوئی دوسری سہولت بھی موجود نہیں، بلکہ وہ تو سمارٹ فون ہی استعمال نہیں کرتا۔

آپ کے پاس تو انٹرنیٹ موجود ہے، مگر عام فون کال کرنے کا ذریعہ بھی بند دکھائی دے رہا ہے۔

یہ تحریر پڑھنے سے پہلے تک شاید آپ بھی اس مسئلے کا یہ حل نکالتے کہ عمارت کے تہہ خانے سے نکل کر کسی ایسی جگہ کا رخ کرتے جہاں موبائل فون نیٹ ورک کے سگنلز آ رہے ہوتے۔

لیکن اگر آپ کو معلوم ہو کہ بعض صورتوں میں موبائل سگنل نہ ہونے کے باوجود بھی آپ اپنے اسی موبائل نمبر سے فون کال کر سکتے ہیں تو؟

ایسا ’وائی فائی کالنگ‘ نامی ایک سہولت سے ممکن ہے، جس کے بارے میں حال ہی میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے بھی عوامی آگاہی مہم کے ذریعے معلومات فراہم کی ہیں۔

اس سہولت کے ذریعے صارف اپنے موبائل فون آپریٹر کے سگنل نہ ہوتے ہوئے بھی وائی فائی نیٹ ورک کے ذریعے وائس کال یا ایس ایم ایس کر سکتے ہیں۔

پی ٹی اے نے عوامی آگاہی کے لیے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جو پیغام جاری کیا ہے، اس میں درج ہے کہ ’گھر کے اندر، تہہ خانے یا کسی ایسی جگہ جہاں موبائل سگنلز کمزور ہوں، وہاں کال کرنے میں دشواری پیش آ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں وائی فائی کالنگ، یعنی VoWiFi آپ کے لیے مدد گار ہو سکتی ہے۔‘

سوال یہ ہے کہ جب موبائل ٹاور سے رابطہ ہی موجود نہ ہو تو کال آخر جاتی کیسے ہے، یہ واٹس ایپ یا انٹرنیٹ کے ذریعے کی گئی کسی دوسری کال سے مختلف کیوں ہے؟ اور موبائل فون استعمال کرنے والا کوئی صارف اس سہولت سے کیسے استفادہ کر سکتا ہے؟

وائی فائی کالنگ کیسے کام کرتی ہے؟

وائی فائی تو روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکا ہے، اس لیے یہ کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اس کی مدد سے موبائل فون، کمپیوٹر اور دیگر آلات اور تاروں کے بغیر کسی مخصوص علاقے میں انٹرنیٹ سے منسلک ہو سکتے ہیں۔

جبکہ وائی فائی کالنگ کے لیے وی او وائی فائی (VoWifi) کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے۔

جی ایس ایم اے (GSMA) موبائل نیٹ ورک آپریٹرز کی نمائندگی کرنے والی ایک بین الاقوامی تنظیم ہے۔ اس کے مطابق وی او وائی فائی سے مراد ’وائس اوور وائی فائی‘ ہے، یعنی وائی فائی نیٹ ورک کے ذریعے وائس سروس کی فراہمی۔

وائی فائی کالنگ میں آپ کا فون، موبائل ٹاور کے بجائے گھر یا دفتر کے وائی فائی نیٹ ورک کا سہارا لیتا ہے۔

لیکن جب موبائل سگنل موجود ہی نہ ہوں تو کال موبائل نیٹ ورک تک پہنچتی کیسے ہے؟

ہم نے یہ سوال پرویز افتخار کے سامنے رکھا جو انفارمیشن اینڈ کمیونیکیشنز ٹیکنالوجی کے ماہر ہیں۔

بی بی سی اردو سے گفتگو میں انھوں نے پہلے تو یہ سمجھایا کہ ایک روایتی موبائل فون کال، یعنی ایسی کال جو موبائل سِم اور موبائل نیٹ ورک کے ذریعے کی جاتی ہے، کس طرح منزل تک پہنچتی ہے۔

پرویز افتخار کہتے ہیں کہ ایک روایتی فون کال کے دوران آپ کا موبائل فون سب سے پہلے اپنے قریب موجود موبائل ٹاور سے رابطہ کرتا ہے۔ یہ ٹاور آپ کی کال کو موبائل کمپنی کے نیٹ ورک تک پہنچاتا ہے۔ اس کے بعد موبائل کمپنی اِس کال کو اُس ٹاور تک بھیجتی ہے جس کے قریب کال وصول کرنے والا شخص موجود ہوتا ہے، اور وہاں سے کال اُس کے موبائل فون تک پہنچ جاتی ہے۔

دوسرے الفاظ میں، اگر آپ لاہور میں موجود ہیں اور کراچی میں کسی شخص کو فون کر رہے ہیں تو آپ کی آواز براہِ راست اس کے فون تک نہیں جاتی۔ یہ پہلے آپ کے قریبی ٹاور، پھر موبائل کمپنی کے نیٹ ورک اور پھر وصول کنندہ کے قریبی ٹاور سے گزرتے ہوئے اُس تک پہنچتی ہے۔

تاہم ’وائی فائی کالنگ‘ میں یہ سلسلہ کچھ مختلف ہوتا ہے۔

پرویز افتخار کے مطابق جب موبائل فون وائی فائی کالنگ استعمال کر رہا ہو تو کال کا ابتدائی سفر موبائل ٹاور کے بجائے وائی فائی نیٹ ورک کے ذریعے طے ہوتا ہے۔ یعنی فون کال سب سے پہلے وائی فائی اور انٹرنیٹ کے ذریعے موبائل کمپنی کے سسٹم تک پہنچتی ہے، جس کے بعد اس کا باقی سفر تقریباً ویسا ہی ہوتا ہے جیسا ایک عام روایتی فون کال میں ہوتا ہے۔

ان کے مطابق وائی فائی کالنگ میں جب آپ کال ملاتے ہیں تو آپ کی آواز کو انٹرنیٹ ڈیٹا میں تبدیل کر دیا جاتا ہے، بالکل اسی طرح جیسے انٹرنیٹ پر تصاویر، ویڈیوز یا واٹس ایپ پیغامات بھیجتے ہوئے کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ ڈیٹا وائی فائی اور انٹرنیٹ کے ذریعے ایک محفوظ راستے سے آپ کی موبائل کمپنی کے نیٹ ورک تک پہنچتا ہے۔ وہاں موبائل کمپنی یہ شناخت کر لیتی ہے کہ کال آپ کے ہی موبائل نمبر سے کی جا رہی ہے۔

وہ مزید بتاتے ہیں کہ پھر موبائل کمپنی اس کال کو اسی طرح مطلوبہ شخص تک پہنچا دیتی ہے جیسے ایک عام فون کال پہنچائی جاتی ہے۔ اگر دوسری جانب موجود شخص موبائل فون استعمال کر رہا ہے تو کال اس کے قریبی موبائل ٹاور کے ذریعے اس تک پہنچتی ہے، جبکہ اگر وہ لینڈ لائن استعمال کر رہا ہو تو کال متعلقہ فون نیٹ ورک کے ذریعے اس تک پہنچا دی جاتی ہے۔

پرویز افتخار کے مطابق ’صارف کو اس پورے عمل میں کچھ بھی مختلف نہیں لگتا، وہی موبائل نمبر استعمال ہوتا ہے اور دوسری جانب موجود شخص کو یہ معلوم بھی نہیں ہوتا کہ کال موبائل ٹاور کے بجائے وائی فائی کے ذریعے کی گئی ہے۔‘

پاکستانی صارفین وائی فائی کالنگ کیسے استعمال کر سکتے ہیں اور یہ واٹس ایپ کال سے کتنی مختلف ہے؟

اگر وائی فائی کالنگ میں بھی انٹرنیٹ استعمال ہو رہا ہے تو پھر یہ واٹس ایپ، سگنل یا ٹیلیگرام کے ذریعے کی جانے والی کال سے مختلف کیسے ہے؟

پرویز افتخار کے مطابق دونوں میں بنیادی فرق یہ ہے کہ وائی فائی کالنگ موبائل آپریٹر کی اپنی وائس سروس کا حصہ ہوتی ہے، جبکہ واٹس ایپ یا دیگر ایپس کے ذریعے کی جانے والی کالیں متعلقہ کمپنیوں کے انٹرنیٹ پلیٹ فارمز پر ہوتی ہیں۔

ان کے مطابق وائی فائی کالنگ کے دوران آپ اپنا وہی موبائل نمبر استعمال کر رہے ہوتے ہیں جو آپ کی سِم سے منسلک ہوتا ہے۔ دوسری جانب کال وصول کرنے والے شخص کو کسی مخصوص ایپ، انٹرنیٹ کنکشن یا سمارٹ فون کی ضرورت نہیں ہوتی۔

’مثال کے طور پر اگر آپ وائی فائی کالنگ کے ذریعے کسی لینڈ لائن نمبر پر رابطہ کرنا چاہیں تو ایسا ممکن ہے، جبکہ واٹس ایپ کال صرف اُن صارفین کے درمیان ہو سکتی ہے جو واٹس ایپ استعمال کر رہے ہوں۔‘

پاکستان کے موبائل فون آپریٹرز وائی فائی کالنگ کی سہولت فراہم کر رہے ہیں اور اس حوالے سے ان کی ویب سائٹس پر رہنمائی بھی موجود ہے۔

ویب سائٹس پر فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق ہر صارف اس سہولت سے فائدہ نہیں اٹھا سکتا بلکہ اس کے لیے چند تکنیکی شرائط پوری ہونا ضروری ہیں۔

موبائل فون آپریٹرز کا کہنا ہے کہ وائی فائی کالنگ استعمال کرنے کے لیے صارف کے پاس ایسا موبائل فون ہونا چاہیے جس میں VoWiFi اور VoLTE کی سہولت موجود ہو، فون میں فور جی ایل ٹی ای (4G/LTE) سِم استعمال ہو رہی ہو اور صارف کے پاس بیلنس موجود ہو یا اس کا وائس کال اور ایس ایم ایس کا پیکج فعال ہو۔

موبائل فون آپریٹر جاز کا کہنا ہے کہ اس فیچر کی آزمائش سام سنگ، اوپو، ویوو اور ڈیجٹ کے متعدد فون ماڈلز پر کی جا چکی ہے۔ جبکہ ایک اور موبائل فون آپریٹر زونگ کے مطابق زیادہ تر جدید سمارٹ فون VoWiFi کو سپورٹ کرتے ہیں، جن میں سام سنگ، ایپل، ہواوے، شاؤمی اور دیگر شامل ہیں۔

یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر ایل ٹی ای (LTE) اور VoLTE سے مراد کیا ہے؟

ایل ٹی ای لانگ ٹرم ایوولُوشن کا مخفف ہے۔ سادہ الفاظ میں ایل ٹی ای وہی ٹیکنالوجی ہے جسے عام طور پر فور جی کہا جاتا ہے۔ جب آپ کے فون پر 4G یا LTE کا نشان ظاہر ہوتا ہے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ کا فون تیز رفتار موبائل انٹرنیٹ استعمال کر رہا ہے۔

دوسری جانب VoLTE کا مطلب وائس اوور ایل ٹی ای ہے۔ اس ٹیکنالوجی میں فون کال بھی فور جی نیٹ ورک کے ذریعے کی جاتی ہے۔ ماضی میں اکثر موبائل نیٹ ورکس کال کے وقت فور جی سے تھری جی (3G) یا ٹو جی (2G) پر منتقل ہو جاتے تھے، لیکن VoLTE کی صورت میں کال فور جی نیٹ ورک پر ہی برقرار رہتی ہے، جس سے آواز کا معیار بہتر ہو سکتا ہے۔

وائی فائی کالنگ کیسے آن کی جائے اور اس پر کتنا خرچ آتا ہے؟

موبائل فون آپریٹرز کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق اگر صارف کے فون میں وائی فائی کالنگ کی سہولت موجود ہے تو سیٹنگز میں جا کر اسے فعال کرنا پڑے گا۔

اینڈرائیڈ فون استعمال کرنے والے اپنے فون کی سیٹنگز میں جا کر کنیکشنز یا سِم سیٹنگز کے تحت وائی فائی کالنگ کا آپشن تلاش کر کے اسے فعال کر سکتے ہیں۔ البتہ مختلف کمپنیوں کے فونز میں ان مراحل میں معمولی فرق ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب آئی فون استعمال کرنے والے صارفین سیٹنگز میں جا کر سیلولر یا موبائل سروس کے آپشن پر ٹیپ کریں اور وہاں موجود وائی فائی کالنگ کو فعال کر سکتے ہیں۔

ایک بار یہ فیچر فعال ہو جائے تو فون کمزور یا غیر موجود موبائل سگنلز کی صورت میں دستیاب وائی فائی نیٹ ورک کے ذریعے کال اور ایس ایم ایس کی سہولت استعمال کر سکتا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی کا کہنا ہے کہ فون کی سیٹنگز میں یہ آپشن موجود نہ ہو، یا سہولت استعمال کرنے میں دشواری پیش آئے تو صارفین اپنے متعلقہ موبائل آپریٹر سے رابطہ کریں۔

لیکن کیا موبائل ٹاور کے بجائے وائی فائی کے ذریعے کال کرنے کی یہ سہولت صارفین کو اضافی قیمت ادا کرنے پر مجبور کرتی ہے؟

موبائل فون آپریٹرز کی جانب سے فراہم کردہ معلومات کے مطابق وائی فائی کالنگ استعمال کرنے پر کوئی اضافی فیس وصول نہیں کی جاتی، بلکہ وہی نرخ لاگو ہوتے ہیں جو روایتی کال یا ایس ایم ایس کے ہوتے ہیں۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ صارفین کے لیے یہ سہولت ایک روایتی موبائل سروس ہی کا تسلسل ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ وائی فائی کالنگ میں موبائل ٹاور کی جگہ وائی فائی نیٹ ورک استعمال ہوتا ہے۔