ان پر کیا الزام تھا؟ سعودی عرب میں دو بنگلہ دیشی شہریوں کی پھانسی سے متعلق وہ سوالات جن کے جواب اب تک نہیں مل سکے

    • مصنف, بی بی سی بنگلہ اور جنوبی ایشیا ریجنل جرنلزم
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 6 منٹ

گذشتہ ہفتے سعودی عرب میں بنگلہ دیش کے دو شہریوں کو پھانسی دی گئی۔ سعودی حکام کا کہنا ہے کہ ایک مرد اور ایک خاتون نے مکہ کی ایک مسجد کے اندر ’فحش (غیراخلاقی یا نا مناسب)‘ فعل کا ارتکاب کیا تھا، تاہم حکام نے تاحال عوامی طور پر یہ واضح نہیں کیا کہ وہ فعل کیا تھا۔

بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ انھیں پھانسیوں سے پہلے اس بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

یہ معاملہ بنگلہ دیش میں بہت زیادہ توجہ حاصل کر رہا ہے، کیونکہ سعودی عرب میں 30 لاکھ سے زائد بنگلہ دیشی شہری مقیم ہیں اور کام کرتے ہیں۔

پھانسیوں کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، لیکن اب بھی کئی اہم سوالات کے جواب سامنے نہیں آئے۔

ان پر کیا الزام تھا؟

سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ کا کہنا ہے کہ دونوں بنگلہ دیشی شہریوں نے ایک مسجد کا تقدس پامال کیا تھا۔ اطلاعات کے مطابق انھیں اسلامی قانون کی ایک شق کے تحت سزائے موت سنائی گئی، جس میں سزا کے تعین کا اختیار جج کو حاصل ہوتا ہے۔

سعودی حکام کا کہنا ہے کہ یہ سزا جرم کی سنگینی اور اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے دی گئی کہ یہ ایک مقدس مقام پر ہوا۔

تاہم سعودی حکام نے شواہد، عدالتی کارروائی یا اپیل کے عمل سے متعلق کوئی تفصیلات عوامی طور پر جاری نہیں کیں۔

بنگلہ دیش نے سعودی عرب سے عدالتی کارروائی کی تفصیلات طلب کی ہیں، جن میں یہ سوال بھی شامل ہے کہ آیا دونوں افراد کو الزام کا دفاع کرنے کا موقع دیا گیا تھا یا نہیں۔

کیا بنگلہ دیش کو معلوم تھا کہ انھیں سزائے موت کا سامنا ہے؟

سعودی عرب میں بنگلہ دیش کے سفارتی مشنز کے حکام نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ انھیں ان پھانسیوں کا علم سعودی میڈیا کی خبروں سے ہوا۔

بنگلہ دیش کی وزیرِ مملکت برائے خارجہ شمع عبید کا کہنا ہے کہ اطلاعات کے مطابق دونوں افراد 2023 سے زیرِ حراست تھے۔

بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ ان دونوں کے نام قیدیوں کی ان فہرستوں میں شامل ہوتے تھے جو سعودی حکام وقتاً فوقتاً شیئر کیا کرتے تھے۔ تاہم حکام کے مطابق ان فہرستوں میں یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ ان میں سے کسی کو سزائے موت سنائی جا چکی ہے۔

سزائے موت پانے والے مرد کے اہلِ خانہ نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ انھوں نے پھانسی سے صرف چند روز قبل جیل سے اپنے رشتہ داروں سے بات کی تھی اور اس گفتگو سے ایسا کوئی اندازہ نہیں ہوتا تھا کہ انھیں جلد سزائے موت دی جانے والی ہے۔

کیا بنگلہ دیش کو ان پھانسیوں کے بارے میں آگاہ کیا جانا چاہیے تھا؟

قونصلر تعلقات سے متعلق ویانا کنونشن کے تحت گرفتار غیر ملکی شہریوں کو یہ بتایا جانا ضروری ہے کہ وہ اپنے قونصل خانے سے رابطہ کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اگر وہ قونصل خانے کو آگاہ کرنے کی درخواست کریں تو حکام کو بلا تاخیر ان کی درخواست پر عمل کرنا ہوتا ہے۔

تاہم یہ کنونشن حکومتوں کو اس بات کا پابند نہیں بناتا کہ وہ کسی دوسرے ملک کو اس کے شہریوں کے خلاف جاری کارروائی کے ہر مرحلے سے آگاہ رکھیں۔

بنگلہ دیش کے سابق سفیر ہمایوں کبیر نے بی بی سی بنگلہ کو بتایا کہ فوجداری مقدمات عموماً کسی ملک کے داخلی قانونی نظام کا معاملہ ہوتے ہیں اور سعودی حکام اس بات کے پابند نہیں کہ کسی مقدمے کے ہر مرحلے سے دوسری حکومت کو آگاہ رکھیں۔

بنگلہ دیش کا کہنا ہے کہ اس کے سفارت خانے اور قونصل خانے کو گرفتاریوں، مقدمے کی کارروائی اور پھانسیوں کے بارے میں آگاہ نہیں کیا گیا تھا۔

بنگلہ دیش نے باضابطہ طور پر سعودی عرب سے قانونی عمل اور دونوں ممالک کے درمیان معلومات کے تبادلے کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔

سعودی عرب نے تا حال ان درخواستوں پر عوامی طور پر کوئی ردِعمل ظاہر نہیں کیا۔

کچھ کیا جا سکتا تھا کیا؟

اگرچہ بیرونِ ملک مقیم بنگلہ دیشی وہاں کے مقامی قوانین کے پابند ہوتے ہیں، تاہم سفارتی مشن قونصلر معاونت فراہم کر سکتے ہیں، مقامی حکام سے معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور اپنے شہریوں سے متعلق مقدمات کی نگرانی کر سکتے ہیں۔

بعض صورتوں میں حکومتیں بیرونِ ملک سنگین الزامات کا سامنا کرنے والے اپنے شہریوں کے لیے رحم یا سزا میں نرمی کی اپیل بھی کر سکتی ہیں۔

بنگلہ دیش میں حالیہ دنوں میں سعودی عرب کے ایک اور مقدمے کا بھی حوالہ دیا جا رہا ہے جو سری لنکا کے شہری انوجن سیواراسا کے خلاف تھا۔

سیواراسا کے فیس بک پر کیے گئے ایک تبصرے کو توہینِ مذہب قرار کر انھیں سزائے موت سنائی گئی تھی، تاہم سری لنکن حکام نے ان کے حق میں سفارتی اور قانونی کوششیں کیں۔

بعد ازاں سری لنکا کے نائب وزیرِ خارجہ نے کہا کہ سعودی عرب کی سپریم کورٹ نے یہ سزا کالعدم قرار دے دی تھی۔

اگرچہ اس مقدمے کے حالات مختلف تھے اور اس بات کا کوئی اشارہ نہیں کہ موجودہ معاملے میں بھی ایسا ہونا ممکن تھا، تاہم اس مثال نے بنگلہ دیش میں یہ سوال ضرور اٹھایا ہے کہ آیا اس کیس میں بھی کسی قسم کی رعایت یا رحم کی اپیل کا راستہ موجود تھا۔

اب آگے کیا ہو گا؟

شمع عبید کا کہنا ہے کہ حکومت سعودی حکام کی جانب سے فیصلے کی نقل اور مزید معلومات فراہم کیے جانے کا انتظار کر رہی ہے۔

بنگلہ دیش نے سعودی عرب سے یہ وضاحت بھی طلب کی ہے کہ پھانسیوں سے پہلے اس مقدمے کے بارے میں کیوں آگاہ نہیں کیا گیا اور آیا دونوں بنگلہ دیشی شہریوں کو عدالت میں اپنا دفاع پیش کرنے کا موقع دیا گیا تھا یا نہیں۔

ایک اور اہم مسئلہ میتوں کی وطن واپسی کا ہے۔ خاندانوں نے اپیل کی ہے کہ لاشیں بنگلہ دیش واپس بھیجی جائیں، تاہم یہ ابھی واضح نہیں کہ یہ کب اور کس طریقے سے ممکن ہو سکے گا۔

اب یہ دیکھنا باقی ہے کہ جب بنگلہ دیش کو اس مقدمے کے بارے میں مزید معلومات ملتی ہیں تو وہ سعودی عرب کو کیسے جواب دیتا ہے۔