لاہور میں سکوٹر سوار طالبہ پر سرعام تشدد کی وائرل ویڈیو اور ملزم کی گرفتاری: ’مریم نواز کی ریڈ لائن کراس کی گئی‘

    • مصنف, احتشام احمد شامی
    • عہدہ, صحافی
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 5 منٹ

انتباہ: اس تحریر میں پرتشدد مناظر کی تفصیلات موجود ہیں جو چند قارئین کے لیے پریشان کن ہو سکتی ہیں۔

سکوٹی پر جانے والی ایک لڑکی کو ایک موٹرسائیکل سوار شخص رکنے کا اشارہ کرتا ہے، لڑکی نہیں رکتی تو موٹرسائیکل سوار شخص اس کی سکوٹی کے آگے اپنی موٹرسائیکل زبردستی کرکے اسے رکنے پر مجبور کرتا ہے۔

یہ واقعہ 20 اکتوبر کی شام کا ہے جو پنجاب کے دارالحکومت لاہور کے مصروف ترین علاقے مزنگ لنک روڈ پر پیش آیا۔

یہ واقعہ ایک سی سی ٹی وی فوٹیج میں محفوظ ہوگیا، جس میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سفید شرٹ میں ملبوس شخص جارحانہ انداز میں اپنی موٹرسائیکل سے اترتا ہے اور پھر سکوٹی پر سوار لڑکی پر اچانک حملہ کر دیتا ہے، اس کو زور سے دو تین تھپڑ مارتے ہوئے بازو کے زور سے نیچے گرنے کے بعد بھی تشدد کا نشانہ بناتا ہے۔

یہ واقعہ لاہور کی ایک مصروف شاہراہ پر پیش آیا جہاں گاڑیاں اور کئی لوگ گزر رہے ہیں۔

تاہم فوراً بعد ہی لوگوں نے اس شخص کو لڑکی پر تشدد کرنے روکا اور ایک شخص حملہ آور کا بازو پکڑتا ہے۔ مزید لوگوں کے وہاں جمع ہونے کے بعد ریسکیو 15 پولیس کو بھی اطلاع کر دی جاتی ہے۔

پولیس ترجمان کے مطابق مزنگ میں سکوٹی پر سوار لڑکی پر تشدد کے معاملہ میں ملوث ملزم کو گرفتار کرلیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ ملزم ایک وکیل ہیں۔

ملزم کی گرفتار کے بعد ڈی آئی جی آپریشنز کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’خواتین کا راستہ روکنا، ہراساں کرنا اور تشدد کرنا ناقابلِ برداشت ہے۔‘

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’خواتین کو خوفزدہ کرنے والوں کے خلاف بلاامتیاز قانونی کارروائی ہوگی۔ خواتین کے خلاف جرائم میں ملوث عناصر سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ ‘

صوبہ پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے ایکس پر ملزم کی گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے لکھا کہ ’سکوٹی پر سوار لڑکی پر تشدد کرنے والے ملزم کو لاہور پولیس نے رات ہی کو گرفتار کر لیا تھا۔ خواتین اور بچے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف کی ریڈ لائن ہیں۔ ایسا رویہ کسی صورت برداشت نہیں کیا جائے گا۔‘

ایف آئی آر میں کیا بتایا گیا؟

تھانہ مزنگ لاہور میں واقعہ کی ایف آئی آر درج کی گئی جس کے مدعی متاثرہ لڑکی کے والد ہیں۔

مقدمے میں تعزیرات پاکستان کی دفعات 427 اور 354 لگائی گئی ہیں۔ دفعہ 427 کسی کو نقصان پہنچانے سے متعلق اور دفعہ 354 کسی عورت پر حملہ کرنے اور مارپیٹ کرنے سے متعلق ہے۔

ایف آئی آر کے متن کے مطابق درخواست گزار کی ’بیٹی 20 اکتوبر کی شام چار بجکر 45 منٹ پر اپنی موٹرسائیکل پر مزنگ لنک روڈ سے گزر رہی تھی کہ ایک نامعلوم ملزم موٹرسائیکل پر سوار آیا جس نے بیٹی کو موٹرسائیکل روکنے کا کہا اور نہ رکنے پر ٹکر ماردی۔‘

ایف آئی آر کے مطابق ’نامعلوم شخص نے موٹرسائیکل سامنے لاکر دانستہ روکا اور موبائل اور لیپ ٹاپ چھینتے ہوئے اور کھینچتے ہوئے بیٹی کو موٹرسائیکل سے نیچے گرا دیا اور غنڈہ گردی کرتے ہوئے ہاتھا پائی اور زور زبردستی کی۔‘

اس میں مزید کہا گیا کہ ’نامعلوم شخص نے سرعام گالی گلوچ اور ہراساں کیا، تھپڑ مارے اور بال نوچے جس سے چہرے اور ناک کی ہڈی پر زخم آئے۔‘

’ملزم نے بیگ چھینتے ہوئے لیپ ٹاپ توڑ دیا جس کی مالیت 85 ہزار روپے ہے، میری بیٹی کے شور مچانے پر لوگ اکٹھے ہوئے تو ملزم فرار ہوگیا اور لوگوں نے اس کی موٹرسائیکل پکڑ کر قبضہ میں لے کر 15 پر کال کردی اور پولیس کے حوالے کردی۔‘

ایف آئی آر میں کہا گیا کہ متاثرہ لڑکی کا ہسپتال سے طبی معائنہ بھی کروایا گیا اور ہسپتال کی طرف سے لڑکی کا میڈیکولیگل جاری کیا گیا۔

متاثرہ لڑکی کے والد، جن کی شناخت ظاہر نہیں کی جا رہی، نے بی بی سی اردو کو بتایا کہ ان کی بیٹی یونیورسٹی کی طالبہ ہیں اور یونیورسٹی سے گھر واپس جا رہی تھیں جب یہ واقعہ پیش آیا۔

’مجھے جب بیٹی کی کال موصول ہوئی تو میں جائے وقوعہ کی طرف دوڑا۔ یہ واقعہ کوئی اتنا چھوٹا نہیں کہ کسی کی بہن یا بیٹی کو سرعام مارا پیٹا جائے۔‘

’لوگوں نے ہی مجھے بتایا کہ حملہ آور شخص کو وہاں سے گزرنے والے لوگوں نے پکڑنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ آدمی موقع سے بھاگ گیا تھا۔‘

’اس کی موٹرسائیکل لوگوں نے قبضے میں لے لی تھی جوکہ پولیس کے حوالے کردی گئی تھی۔ میں راہگیر لوگوں کا بھی شکرگزار ہوں جنھوں نے جرات کا مظاہرہ کیا اور اس ظالم کو روکا۔‘

سوشل میڈیا پر اس واقعہ بارے کافی غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

ایک شہری رائے غلام علی لکھتے ہیں کہ ’مزنگ واقعہ میں مریم نواز کی ریڈلائن کراس۔‘

وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز نے حال ہی میں ایک تقریر کے دوران کہا تھا کہ خواتین اور بچے ان کی ’ریڈ لائن‘ ہیں۔ وہ خواتین کے حقوق کے تحفظ کے بارے میں بات کر رہی تھیں۔

ایک صارف نے لکھا کہ ’ٹھیک ہے آپ بھی کسی وجہ سے پریشان ہوں گے، مگر ایسی حرکتوں سے آپ کس کا فائدہ کر رہے ہیں، ایک سکوٹی سوار لڑکی کو اگر تمھیں راستہ دینے میں مشکل ہوئی ہے تو اس کا یہ مطلب تو نہیں کہ تم اسے روک کر اس پر جان لیوا حملہ کردو۔‘

بیشتر خواتین بھی اس ویڈیو کو دیکھ کر نالاں نظر آئیں۔

خلیق سولنگ نامی صارف نے لکھا ’وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کو لاہور شہر میں وائرل ہونے والی یہ فوٹیج ضرور دیکھنی چاہیے۔ خواتین پر سرِعام سڑکوں پر حملہ کرنے والے ایسے مجرموں کو سخت ترین سزا ملنی چاہیے تاکہ کسی کو دوبارہ ایسی حرکت کی جرات نہ ہو۔‘