مینا کماری کی موت کی خبر نے فلاپ فلم ’پاکیزہ‘ کی قسمت کیسے بدل دی؟

،تصویر کا ذریعہPAKEEZA
- مصنف, یاسر عثمان
- عہدہ, بی بی سی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 11 منٹ
ہندی سنیما کی بے مثال فلم ’پاکیزہ‘ ڈیجیٹل طور پر بہترین معیار(فور کے ریسٹوریشن) کے ساتھ ایک بار پھر بڑی سکرین پر پیش کی جائے گی۔
18 اکتوبر 2026 کو وسطی لندن کے بی ایف آئی آئی میکس سنیما میں ہونے والی اس خصوصی نمائش کے تمام ٹکٹ تقریباً ایک ماہ پہلے ہی فروخت ہو چکے ہیں۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ ریلیز کے 54 برس بعد بھی ’پاکیزہ‘ کا جادو مدھم نہیں پڑا اور اس فلم کی مقبولیت آج بھی قائم ہے۔
ہدایت کار کمال امروہی کی اس شاہکار فلم کو فلم ہیریٹیج فاؤنڈیشن نے امروہی خاندان کے تعاون سے محفوظ اور ڈیجیٹل طریقے سے دوبارہ بحال کیا ہے۔
فلم کا یہ نیا ورژن سب سے پہلے فرانس کے شہر لیون میں ہونے والے فیسٹیول لومیئر میں پیش کیا جائے گا، جس کے بعد اسے بی ایف آئی لندن فلم فیسٹیول میں دکھایا جائے گا۔
’پاکیزہ‘ اور اس میں صاحب جان کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ مینا کماری سے متعلق بے شمار کہانیاں مشہور ہیں۔
ان میں سے کئی قصے ہم پہلے بھی سن چکے ہیں لیکن انھیں بار بار یاد کیا جاتا ہے تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ وہ فراموش نہ ہو جائیں۔
’پاکیزہ‘ کی تیاری طویل جدوجہد اور آزمائشوں کی داستان

،تصویر کا ذریعہTAJDAR AMROHI
’پاکیزہ‘ کومکمل ہونے میں 15 برس کا طویل عرصہ لگا۔ اس کا آغاز 1957 میں ہوا، لیکن اس فلم سے پہلے کمال امروہی اور مینا کماری کی کہانی شروع ہو چکی تھی۔
کمال امروہی 1949 کی کامیاب فلم محل کے بعد ایک بڑے ہدایت کار کے طور پر پہچانے جانے لگے تھے۔ وہ ایک معروف سکرپٹ رائٹر بھی تھے اور مغلِ اعظم کے مصنفین میں شامل تھے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
دوسری جانب مینا کماری ایک ابھرتی ہوئی اداکارہ تھیں جو بچپن ہی سے فلموں میں کام کر رہی تھیں۔
دونوں ایک دوسرے کے قریب آئے، محبت ہوئی، اور پھر 14 فروری 1952 کو ویلنٹائن ڈے کے دن شادی کر لی۔
کمال امروہی عمر میں مینا کماری سے بڑے تھے اور اس سے قبل دو شادیاں کر چکے تھے۔ کمال محبت سے مینا کو منجو کہہ کر پکارتے تھے، جبکہ مینا انھیں چندن کہتی تھیں۔
کمال امروہی اس سے پہلے 1954 میں مینا کماری کے ساتھ فلم دائرہ بنا چکے تھے، تاہم یہ فلم کامیاب نہیں ہو سکی تھی۔
ادھر مینا کماری دلیپ کمار کے ساتھ 1953 میں ریلیزہونے والی بیجو باورا اور آزاد جیسی فلموں کی بدولت بڑی سٹار بن چکی تھیں۔ انھیں فلم فیئر کے پہلے بہترین اداکارہ کے ایوارڈ سے بھی نوازا گیا تھا۔
کمال امروہی کا خواب ’تاج محل‘

،تصویر کا ذریعہASHA RANI SING
’پاکیزہ‘ کی کہانی کمال امروہی نے مینا کماری کو ذہن میں رکھ کر لکھی تھی۔
انھوں نے 17 جنوری 1957 کو ایک شاندار تقریب کے ساتھ ’پاکیزہ‘ کا آغاز کیا۔ یہ فلم کمال امروہی کا خوابوں کا منصوبہ تھی۔
ونود مہتا کی مینا کماری پر لکھی گئی کتاب میں درج ہے کہ ’شاہ جہاں نے اپنی بیوی کی یاد میں تاج محل تعمیر کروایا تھا۔ کمال صاحب بھی پاکیزہ کے ذریعے کچھ ایسا ہی کرنا چاہتے تھے۔‘
ابتدا میں کمال امروہی خود پاکیزہ میں اداکاری کرنا چاہتے تھے، لیکن وقت کے ساتھ انھوں نے یہ ارادہ چھوڑ دیا۔
بلیک اینڈ وائٹ فلم سے سنیما سکوپ تک کا سفر
شروع میں فلم پاکیزہ کو بلیک اینڈ وائٹ فلم کے طور پر بنانے کا منصوبہ تھا، مگر بعد میں اسے رنگین بنانے کا فیصلہ کیا گیا۔
اس کے بعد کمال امروہی نے اسے سنیما سکوپ فارمیٹ میں بنانے کا فیصلہ کیا، جس کے باعث فلم کی تیاری میں مزید تاخیر ہوتی گئی۔
اگرچہ ملک کی پہلی سنیما سکوپ فلم، ہدایت کار گرو دت کی کاغذ کے پھول (1959)، باکس آفس پر کامیاب نہیں ہو سکی تھی لیکن کمال امروہی اپنے فیصلے پر قائم رہے۔
انھوں نے لندن کے ایم جی ایم سٹوڈیوز سے سنیما سکوپ لینز کرائے پر حاصل کیے۔ ان لینز کا ماہانہ کرایہ ہی 50 ہزار روپے تھا جو اس زمانے میں ایک بہت بڑی رقم سمجھی جاتی تھی۔
فلم کی ابتدائی شوٹنگ

،تصویر کا ذریعہTAJDAR AMROHI
بی بی سی اردو کی خبروں اور فیچرز کو اپنے فون پر حاصل کریں اور سب سے پہلے جانیں پاکستان اور دنیا بھر سے ان کہانیوں کے بارے میں جو آپ کے لیے معنی رکھتی ہیں
سبسکرائب کرنے کے لیے کلک کریں
مواد پر جائیں
سنیما سکوپ لینز آنے کے بعد کمال امروہی نے مینا کماری کے کئی اہم مناظر فلم بند کیے۔
اسی دوران انھوں نے موسیقار غلام محمد کی دھنوں پر مبنی تین بے حد مقبول مجرے ’انہی لوگوں نے‘ ، ’ٹھاڑے رہیو‘ اور ’چلتے چلتے‘ کو بھی نہایت خوبصورتی سے فلمایا۔
فلم کے ان مناظر میں مینا کماری اپنی دلکشی کے عروج پر نظر آتی ہیں۔ تاہم اس وقت تک فلم کے ہیرو کا انتخاب نہیں ہوا تھا۔
مکمل درستگی کی انتہا
ابتدائی مناظر کی شوٹنگ کے بعد کمال امروہی کو محسوس ہوا کہ لینز کی فوکسنگ درست نہیں ہے۔ فلم کے سنیماٹوگرافر جوزف وِرشنگ کا کہنا تھا کہ فوکس بالکل درست ہے، لیکن کمال امروہی مطمئن نہیں ہوئے۔
ایک اور لیبارٹری میں جانچ کرائی گئی۔ رپورٹ میں بھی فوکس درست قرار دیا گیا مگر کمال امروہی کا شک دور نہ ہوا۔
بعد ازاں فلم کی فوٹیج لندن میں ایم جی ایم کو بھیجی گئی۔ وہاں بھی فوکس درست قرار دیا گیا، لیکن کمال امروہی کو یقین ہے نہ آیا۔
آخرکار ہالی وڈ کی ایک لیبارٹری نے نشاندہی کی کہ فوکس واقعی ایک ملی میٹر کے ہزارویں حصے جتنی معمولی حد تک متاثر تھا۔
کمال امروہی کی باریک بین نگاہ نے اس انتہائی معمولی فرق کو بھی پکڑ لیا تھا۔ اس پر ایم جی ایم نے تعریف کے طور پر باقی شوٹنگ کے لیے لینز کا کرایہ معاف کر دیا۔
10 لاکھ روپے کا ’بازارِ حسن‘
فلم کے بازارِ حسن کے سیٹ پر 10 لاکھ روپے سے زیادہ لاگت آئی تھی۔ چار منزلہ اس سیٹ کی تعمیر پر 600 افراد نے آٹھ ماہ تک دن رات کام کیا۔
اسے حقیقت کے زیادہ قریب دکھانے کے لیے ملک کے مختلف حصوں سے دکانیں لا کر وہاں قائم کی گئیں۔
یہ دکانیں ایک سال سے زیادہ عرصے تک سیٹ پر موجود رہیں۔ اسی سیٹ پر مجرا فلمانے کے لیے سینکڑوں رقاصوں کو کئی ماہ تک خصوصی تربیت بھی دی گئی۔
کمال امروہی اور مینا کماری کی جدائی
وقت تیزی سے گزر رہا تھا، لیکن پاکیزہ کی تکمیل کی رفتار بہت سست تھی۔ فلم کی تیاری کے دوران ہی کمال امروہی اور مینا کماری کے تعلقات میں بھی کشیدگی پیدا ہونے لگی۔ مارچ 1964 میں دونوں الگ ہو گئے۔
کمال امروہی سے علیحدگی کے بعد مینا کماری نے بہت زیادہ شراب نوشی شروع کر دی۔
مصنف میگھناد دیسائی اپنی کتاب ’پاکیزہ: این اوڈ ٹو اے بائی گون ورلڈ‘ میں لکھتے ہیں کہ ’ان دنوں بمبئی میں شراب بندی نافذ تھی، لیکن یہ پابندی بھی مینا کماری کو اپنی مرضی کے مطابق شراب حاصل کرنے سے نہ روک سکی۔‘
مینا کماری کی وفات کے وقت ان کی قریبی دوست اداکارہ نرگس نے لکھا کہ ’شراب میں ڈوب کر انھوں نے خود کو تباہی کی راہ پر ڈال دیا تھا۔ زندگی میں ان کی دلچسپی تقریباً ختم ہو چکی تھی۔‘
صورتحال مزید بگڑ گئی اور 1968 میں انھیں علاج کے لیے لندن جانا پڑا۔ اس کے بعد انھوں نے کئی ہفتے جنیوا میں بھی گزارے۔
اگرچہ انھیں کچھ عرصے کے لیے افاقہ ہوا، لیکن جگر کی بیماری سے وہ مکمل طور پر کبھی نجات حاصل نہ کر سکیں۔ دوسری جانب پاکیزہ اب بھی نامکمل تھی۔
کمال امروہی کا مینا کماری کو خط
25 اگست 1968 کو کمال امروہی نے اپنی الگ رہنے والی اہلیہ مینا کماری کو ایک خط لکھا۔
ونود مہتا کی کتاب ’مینا کماری: دی کلاسک بایوگرافی‘ کے مطابق، کمال امروہی نے لکھا کہ اب صرف پاکیزہ کی تکمیل باقی رہ گئی ہے۔ مینا کماری نے کہا تھا کہ وہ طلاق سے پہلے فلم مکمل نہیں کریں گی۔
کمال امروہی نے خط میں لکھا کہ اگر مینا کماری چاہیں تو وہ طلاق دینے کے لیے تیار ہیں۔ اس کے باوجود وہ خوش ہوں گے اگر مینا کماری ان کے اس خواب کو مکمل کرنے میں مدد کریں۔
انھوں نے مزید لکھا کہ پاکیزہ کے ساتھ بہت سے لوگوں کا مستقبل اور امیدیں وابستہ ہیں، اس لیے اسے ادھورا نہیں چھوڑنا چاہیے۔
خط کے اختتام پر انھوں نے لکھا کہ ’یہ فلم ایک ڈوبتے ہوئے جہاز کی مانند ہے، اور اسے کنارے تک پہنچانے میں صرف آپ ہی مدد کر سکتی ہیں۔‘
جب نرگس اور سنیل دت نے مینا کماری کو قائل کیا
کمال امروہی اور مینا کماری کے درمیان ایک جذباتی ملاقات ہوئی۔
کمال امروہی نے مینا کماری کو سونے کا سکہ پیش کیا اور 30 جنوری 1969 کو فلمی صنعت کے معروف ہفت روزہ ’جرنل آف دی فلم انڈسٹری‘ میں ان کی فلم میں واپسی کا اعلان کیا گیا۔
ابتدا میں اس فلم کے ہیرو کے لیے دھرمیندر کا انتخاب کیا گیا تھا لیکن مینا کماری کے ساتھ ان کے تعلقات سے متعلق خبروں کے باعث ان کی جگہ راج کمار کو کاسٹ کر لیا گیا۔
اس وقت تک فلم کے اصل سنیماٹوگرافر جوزف وِرشنگ فوت ہو چکے تھے۔ ان کی جگہ نئے کیمرہ مین جال مستری نے سنبھالی۔
فلم کی یادگار موسیقی ترتیب دینے والے موسیقار غلام محمد بھی 1968 میں وفات پا جانے کے باعث اپنی زندگی کی اس بڑی کامیابی کو دیکھ نہ سکے۔
16 مارچ 1969 کو، اپنے شوہر سے علیحدگی کے پانچ سال بعد، 35 سالہ مینا کماری نے ایک بار پھر پاکیزہ کی شوٹنگ شروع کی۔
کمال امروہی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ مینا کماری کی آمد پر خوشی اور مفاہمت کی علامت کے طور پر انھیں پان کھلایا گیا اور ان کے سٹوڈیو پہنچنے کے اس موقع پر ایک مختصر دستاویزی فلم بھی بنوائی گئی۔
اس وقت تک ہندی سنیما بہت بدل چکا تھا۔ راجیش کھنہ سپرسٹار بن چکے تھے اور اداکاراؤں کی ایک نئی نسل بھی سکرین پر آ چکی تھی۔ خود مینا کماری بھی ’میرے اپنے‘ اور ’دشمن‘ جیسی فلموں میں زیادہ سنجیدہ اور بردبار کردار ادا کر رہی تھیں۔
مارچ 1969 سے دسمبر 1971 تک کمال امروہی اور مینا کماری نے مسلسل پاکیزہ پر کام کیا۔ فلم کی تیاری کے آخری تین برس نسبتاً تیزی سے گزرے۔
گرتی ہوئی صحت اور شوٹنگ

،تصویر کا ذریعہKAMAL AMROHI
مینا کماری کا وزن ان مناظر کے مقابلے میں بڑھ چکا تھا جو کئی برس پہلے فلمائے گئے تھے۔
ان کے چہرے پر بھی وقت کے اثرات نمایاں تھے۔ طویل بیماری اور شراب نوشی نے ان کے جسم کو بہت کمزور کر دیا تھا۔
مینا کماری، اشوک کمار اور راج کمار کے درمیان فلمائے گئے رومانوی مناظر میں کلوز اپ شاٹس کا استعمال کم سے کم رکھا گیا۔
کمال امروہی نے روشنی اور سائے کے ساتھ طویل شاٹس کا استعمال کرتے ہوئے انھیں بڑی خوبصورتی سے سکرین پر پیش کیا۔
یہ بھی کہا جاتا ہے کہ فلم کے گیت ’آج ہم اپنی دعاؤں کا اثر دیکھیں گے‘ کی شوٹنگ کے دوران، صاحب جان کے بعض مناظر میں پدما کھنہ نے مینا کماری کی جگہ کام کیا تھا جبکہ مینا کماری کے چہرے کے صرف چند قریبی شاٹس شامل کیے گئے تھے۔
پاکیزہ کی شوٹنگ دسمبر 1971 میں مکمل ہو گئی، لیکن اس وقت تک مینا کماری کی صحت مسلسل بگڑ رہی تھی۔ زیادہ شراب نوشی کے باعث ان کا جگر متاثر ہو چکا تھا۔ جگر کے زخم کی وجہ سے وہ بہت کمزور ہو گئی تھیں۔
پاکیزہ کا پریمیئر

،تصویر کا ذریعہGOPAL SHUNYA/BBC
’پاکیزہ‘ چار فروری 1972 کو ریلیز ہوئی لیکن اس سے ایک روز قبل یعنی تین فروری کو بمبئی کے معروف ماراٹھا مندر سنیما میں اس کا شاندار پریمیئر منعقد کیا گیا تھا۔ فلم کی ریلیز کے ڈبے پالکی میں رکھ کر سنیما تک لائے گئے تھے۔
تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے کی لاگت سے بننے والی اور سنیما سکوپ اور ایسٹ مین کلر میں عکس بند کی گئی پاکیزہ بالآخر 15 برس بعد سنیما سکرین تک پہنچ گئی۔
اپنی زندگی کے آخری فلمی پریمیئر میں مینا کماری سفید ساڑھی میں نہایت سادگی اور وقار کے ساتھ شریک ہوئیں۔
فلم کے ہیرو راج کمار نے میڈیا کے کیمروں کے سامنے ان کے ہاتھ کا بوسہ لیا جس کے بعد دونوں فلم دیکھنے کے لیے ہال کے اندر چلے گئے۔
38 سالہ مینا کماری اگلی صف میں بیٹھی تھیں۔ برسوں سے دیکھا جانے والا ان کا خوبصورت خواب ان کے سامنے سکرین پر حقیقت بن کر جلوہ گر تھا۔
پاکیزہ پر تبصروں اور تنقید کی بھرمار
لیکن ناقدین نے پاکیزہ کو زیادہ پسند نہیں کیا۔
ٹائمز آف انڈیا نے اسے پیسے کا شاندار ضیاع قرار دیا، جبکہ فلم فیئر کے ایک ناقد نے اسے پانچ میں سے صرف ایک سٹار دیا۔ کئی ناقدین کے نزدیک ایک طوائف کی کہانی پر مبنی یہ فلم فرسودہ اور روایتی نوعیت کی تھی۔
ریلیز کے ابتدائی چند ہفتوں میں پاکیزہ کی کمائی بھی سست رہی۔ فلمی صنعت میں تو اسے ناکام فلم قرار دیا جانے لگا تھا۔
مارچ 1972 کے تیسرے ہفتے میں مینا کماری کی صحت تیزی سے خراب ہونے لگی۔ انھیں ممبئی کے سینٹ الزبتھ ہسپتال منتقل کیا گیا۔ ان کے جگر میں انفیکشن بڑھ چکا تھا۔
ان کی حالت مسلسل بگڑ رہی تھی۔ 25 مارچ کو جب درد میں کچھ کمی آئی تو مینا نے اپنی بڑی بہن خورشید سے کہا کہ ’آپا، اب وقت آ گیا ہے۔ شاید یہی مناسب وقت ہے۔ میرا کوئی کام ادھورا نہیں رہا۔ کمال صاحب کی ’پاکیزہ‘ ، پریم جی کی ’دشمن‘ اور ساون کی ’گومتی کے کنارے‘ سب مکمل ہو چکی ہیں۔ اب کوئی یہ نہیں کہہ سکے گا کہ مینا اپنا کام ادھورا چھوڑ گئی۔‘
پھر اپنی بہن اور ان کے بچوں کی فکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ وہ ان کے لیے اپنی بساط کے مطابق بہت کچھ کر چکی ہیں، اب باقی ذمہ داری خورشید پر ہے۔
آخر میں انھوں نے کہا کہ ’اب میں مرنے کے لیے تیار ہوں۔‘

،تصویر کا ذریعہTAJDAR AMROHI
’آپا۔۔۔ میں مرنا نہیں چاہتی‘
29 مارچ کی رات وہ شدید تکلیف میں تھیں۔ درد کے باعث وہ زور زور سے چیخ رہی تھیں۔ ان کی آواز سن کر ان کی بڑی بہن خورشید دوڑتی ہوئی اندر آئیں۔
مینا نے بانہیں پھیلا کر انھیں اپنے پاس بلایا اور روتے ہوئے کہا کہ ’آپا، آپا... میں مرنا نہیں چاہتی۔‘
لیکن اس سے پہلے کہ خورشید انھیں سنبھال پاتیں، مینا کا سر ایک طرف جھک گیا اور وہ بے ہوش ہو کر کومے میں چلی گئیں۔
دو روز بعد 31 مارچ 1972 کو مینا کماری اس دنیا سے رخصت ہو گئیں۔
مینا کماری کی موت کی خبر نے پورے ملک کو صدمے میں مبتلا کر دیا، تاہم ان کی وفات کے ساتھ ہی گویا پاکیزہ کی قسمت بھی بدل گئی۔
ملک بھر کے سنیما گھروں میں لوگوں کا ہجوم امڈ آیا۔ پاکیزہ میں گوہر جان کا کردار ادا کرنے والی اداکارہ نادرا نے کہا کہ ’سنیما گھروں میں لوگوں کا سیلاب آ گیا تھا۔ وہ صرف پاکیزہ دیکھنے نہیں آ رہے تھے بلکہ یوں لگتا تھا جیسے وہ مینا کماری کے مزار پر حاضری دینے آ رہے ہوں۔‘
پاکیزہ کو غیرمعمولی کامیابی حاصل ہوئی اور یہ 1972 کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلموں میں شامل ہو گئی۔
آج پاکیزہ انڈین سنیما کے ایک لازوال ورثے کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس موضوع پر متعدد فلمیں بنائی گئیں، لیکن کوئی بھی اس مقام تک نہ پہنچ سکی۔
یاد رہے کہ پاکیزہ مینا کماری کی آخری فلم نہیں تھی۔ عام طور پر پاکیزہ کو مینا کماری کی آخری فلم سمجھا جاتا ہے، لیکن ان کی آخری فلم ہدایت کار ساون کمار کی گومتی کے کنارے تھی، جو نومبر 1972 میں ریلیز ہوئی۔ اس فلم میں بھی انھوں نے ایک طوائف کا کردار ادا کیا تھا، تاہم یہ فلم کامیاب نہ ہو سکی۔




















