آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خاتون کے معدے سے 13 پین، پانچ چمچے اور موم بتی نکالنے کی سرجری: ’پہلی بار کسی کو اتنا بڑا قلم نگلتے دیکھا‘
- مصنف, کوتیرو شراوانی
- عہدہ, بی بی سی مراٹھی
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 5 منٹ
انڈیا کی ریاست آندھرا پردیش میں ڈاکٹروں نے ایک خاتون کے پیٹ کی سرجری کر کے 13 قلم، پانچ لکڑی کے چمچے اور ایک موم بتی نکالی ہے۔
ایک قلم کی لمبائی 25 سینٹی میٹر تھی۔ تاہم ڈاکٹر اس سرجری کے ذریعے 33 سالہ خاتون کی جان بچانے میں کامیاب ہو گئے۔
عام طور پر خوراک کے علاوہ اگر کوئی چھوٹی سی چیز بھی کھا لی جائے تو معدے میں شدید درد یا دست کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ تمام چیزیں ایک خاتون کے معدے میں پہنچیں کیسے؟
بی بی سی نے سرجری کرنے والے ڈاکٹروں سے بات کر کے اس معاملے کی تفصیلات جاننے کی کوشش کی ہیں۔
ہوا کیا تھا؟
بی بی سی کو دستیاب معلومات کے مطابق آندھرا پردیش کے ضلع پالناڈو کے علاقے نرسراؤپیٹ میں ایک 33 سالہ شادی شدہ خاتون کو سینے کے بائیں جانب شدید درد کی شکایت تھی، جس کے بعد ان کے اہلِ خانہ نے انہیں ماتاشری پرائیویٹ ہسپتال میں داخل کروا دیا۔
ڈاکٹروں نے فوری طور پر ان کی ای سی جی اور اینڈوسکوپی کی۔ ڈاکٹر رام چندرا ریڈی نے بی بی سی کو بتایا کہ ای سی جی میں سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ تاہم اینڈوسکوپی کے دوران ان کے معدے میں قلم، چمچ اور موم بتیوں جیسی کچھ غیر معمولی اشیا پائی گئیں۔
ڈاکٹر رام چندرا ریڈی مزید کہتے ہیں کہ سی ٹی سکین کے ذریعے فوری تصدیق کے بعد انہوں نے اینڈوسکوپی اور لیپروسکوپی سرجری کا منصوبہ بنایا۔
ان کے مطابق اس سرجری کے دوران تمام قلم، موم بتیاں اور لکڑی کے چمچ نکال دیے گئے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
خاتون کے پیٹ میں بچوں کے زیر استعمال ایک 25 سینٹی میٹر لمبا قلم سوراخ کر چکا تھا، جس کے باعث ایک کیفیت پیدا ہوئی جسے ’نیومومیڈیاسٹینم‘ کہا جاتا ہے۔
ڈاکٹر رام چندرا ریڈی کے مطابق یہ تمام اشیا لیپروسکوپی کے ذریعے خاتون کے پیٹ سے نکال دی گئیں۔
انہوں نے بتایا کہ خاتون کے معدے سے مجموعی طور پر 13 قلم، ایک موم بتی اور پانچ لکڑی کے چمچ نکالے گئے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس وقت خاتون کی حالت مستحکم ہے۔
ان کے مطابق اس قسم کا مسئلہ عموماً ان افراد میں دیکھا جاتا ہے جو ذہنی صحت سے متعلق مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر رام چندرا ریڈی نے کہا کہ ذہنی بیماری میں مبتلا افراد کی دیکھ بھال کرنا والدین کی ذمہ داری ہے اور انھیں یہ بھی جانچتے رہنا چاہیے کہ آیا وہ اپنی دوائیں باقاعدگی سے لے رہے ہیں یا نہیں۔
مریضہ کا کہنا ہے کہ ایک سال قبل انھوں نے اسی طرح چار قلم نگل لیے تھے اور انہیں اس وقت بھی ایک سرجری کروانی پڑی تھی۔
ڈاکٹر رام چندرا ریڈی کے مطابق وہ خاتون ذہنی مسائل کا شکار تھیں اور انہیں ایک ماہرِ نفسیات کے پاس بھیجا گیا تھا۔ وہ اس وقت علاج کے مرحلے سے گزر رہی ہیں۔
تاہم ہر شخص ایسی اشیا نہیں نگل سکتا۔ انہوں نے وضاحت کی کہ صرف ذہنی مسائل سے دوچار بعض مریض ہی ایسا کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ 25 سینٹی میٹر لمبی کسی چیز کا معدے تک پہنچ جانا انتہائی غیرمعمولی ہے۔ اپنے پیشہ ورانہ کیریئر میں یہ پہلی بار تھا کہ انھوں نے کسی شخص کو اتنا بڑا قلم نگلتے دیکھا۔
ڈاکٹر ریڈی کے مطابق خاتون کا اپنے والد کے ساتھ جھگڑا ہوا تھا، جس کے بعد انھوں نے یہ اشیا نگل لی تھیں۔
وہ مزید کہتے ہیں کہ بہت سے لوگ بال جیسی ناقابلِ ہضم چیزیں بھی کھا لیتے ہیں۔ اس قسم کے کیسز کو ٹرائیکوبیزوآر کہا جاتا ہے۔
لوگ ایسی اشیا کیوں نگلتے ہیں؟
ڈاکٹر ریڈی کے مطابق قلم جیسی اشیا عموماً صرف ذہنی طور پر پریشان افراد ہی نگلتے ہیں۔
’اگر ایسی اشیا نگلنے کے دوران جسم کے اندر کہیں سوراخ نہ بنے تو آنتوں میں رکاوٹ پیدا ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں قے آنے لگتی ہے۔‘
’بولٹس اور قلم جیسی نوکیلی اشیا آنتوں میں سوراخ بھی کر سکتی ہیں۔‘
ڈاکٹر ریڈی نے مزید وضاحت کی کہ بعض چھوٹی اشیا قدرتی طور پر فضلے کے ذریعے جسم سے خارج ہو جاتی ہیں۔ چھوٹے بچے بعض اوقات لاعلمی میں سکے نگل لیتے ہیں، حتیٰ کہ ان کے والدین کو بھی اس کا علم نہیں ہوتا، اور بعد میں وہ سکے فضلے کے ذریعے باہر نکل آتے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر آنتوں میں سوراخ ہو جائے تو بعض مریضوں میں انفیکشن پھیل سکتا ہے اور سیپٹک شاک پیدا ہو سکتا ہے، جو جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب گنٹور کے ڈاکٹر سائی کرشنا کہتے ہیں کہ اس نوعیت کے کیسز وقتاً فوقتاً سامنے آتے رہتے ہیں اور ان میں سے 90 فیصد مریض ذہنی صحت کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ ایسے مریض تمام اشیا ایک ساتھ نہیں نگلتے اور بعض اوقات جو چیزیں وہ نگلتے ہیں وہ معدے میں ہی رہ جاتی ہیں۔
انھوں نے مزید بتایا کہ درد اس وقت شروع ہوتا ہے جب یہ اشیا معدے میں پھنس جاتی ہیں اور پھر ان اشیا کو فوری طور پر نکالنے کے لیے اینڈوسکوپی اور لیپروسکوپی جیسے طریقۂ کار اختیار کیے جاتے ہیں۔
ڈاکٹر کرشنا کے مطابق انہوں نے حال ہی میں ایک مریض کے معدے سے 20 بیٹریاں نکالی تھیں۔
ان کے مطابق بعض اوقات یہ اشیا نگلے جانے کے بعد کئی ماہ تک معدے میں موجود رہ سکتی ہیں اور ایک بار معدے میں پہنچ جانے کے بعد یہ آنتوں میں منتقل نہیں ہوتیں۔ اگر منتقل ہو جائیں تو ایکس رے کرنا پڑتا ہے اور سرجری کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
ایسے معاملات میں سرجری کے دوران لیپروسکوپی کی جاتی ہے۔
ڈاکٹر سائی کرشنا نے کہا کہ ٹرائیکوبیزوآر کی صورت میں بال معدے میں جمع رہتے ہیں اور انھیں سرجری کے ذریعے نکالنا پڑتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ نرسراؤپیٹ میں پیش آنے والے اس واقعے میں مریضہ کے جسم کے اندر سوراخ بن گیا تھا۔ یہ ایک نہایت سنگین مسئلہ تھا۔ اسی وجہ سے ڈاکٹروں کو خاتون کی فوری سرجری کرنا پڑی۔