انڈیا میں ’گئو رکشکوں‘ کو سزا سنانے والی مسلمان جج کو قتل اور ریپ کی دھمکیوں کا سامنا: ’10 دن کے اندر رہا نہ کیا گیا تو خون ریزی ہو گی‘

    • مصنف, شیریلین مولن
    • عہدہ, بی بی سی نیوز
  • وقت اشاعت
  • مطالعے کا وقت: 7 منٹ

انڈیا کی ایک مسلمان خاتون جج کو پر تشدد ہجوم کے ہاتھوں ایک شخص کی ہلاکت کے مقدمے میں 14 ملزمان کو عمر قید کی سزا سنانے کے بعد آن لائن جان سے مارنے کی دھمکیوں کا سامنا ہے۔

12 جون کو مدھیہ پردیش کی ایک عدالت کی ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشنز جج تبسم خان نے 14 ملزمان کو قتل، اقدامِ قتل، فساد اور غیر قانونی طور پر راستہ روکنے سمیت مختلف جرائم میں قصوروار قرار دیتے ہوئے عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

یہ واقعہ سنہ 2022 میں پیش آیا تھا، جب 50 سالہ نذیر احمد رات کے وقت مویشی لے جا رہے تھے۔ راستے میں خود کو ’گئو رکشک‘ (گائے کے محافظ) کہنے والے افراد کے ایک گروہ، جو لاٹھیوں اور لوہے کی سلاخوں سے مسلح تھا، نے ان کی گاڑی کو روک لیا۔

واضح رہے کہ ہندو مذہب میں گائے کو مقدس سمجھا جاتا ہے اور انڈیا کی کئی ریاستوں میں گائے کو ذبح کرنا غیر قانونی ہے۔

ملزمان نے نذیر احمد اور ان کے دو ساتھیوں کو گاڑی سے گھسیٹ کر باہر نکالا اور گائے سمگل کرنے کے شبہے میں شدید تشدد کا نشانہ بنایا۔ نذیر احمد بعد میں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے، جبکہ ان کے دونوں ساتھی زندہ بچ گئے اور عدالت کو واقعے کی تفصیلات سے آگاہ کیا۔

اپنے فیصلے میں جج تبسم خان نے قرار دیا کہ ’یہ ہجوم کے ہاتھوں قتل، یعنی موب لنچنگ، کا واضح مقدمہ تھا۔‘

تاہم اس فیصلے کے بعد مسلم جج تبسم خان مذہبی بنیادوں پر نفرت انگیز مہم کا نشانہ بن گئیں۔ فیصلے کے بعد سوشل میڈیا پر متعدد ایسی ویڈیوز سامنے آئیں جن میں انھیں گالیاں دی گئیں، قتل اور ریپ کی دھمکیاں دی گئیں اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ انھوں نے صرف اس لیے ملزمان کے خلاف فیصلہ دیا کیونکہ وہ ہندو مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔

اگرچہ عدالتی فیصلوں پر تنقید معمول کی بات ہے، تاہم جج تبسم خان کے خلاف ہونے والے حملوں میں ان کے قانونی دلائل کے بجائے ان کے مذہب کو نشانہ بنایا گیا۔ اس مہم کی شدت کے بعد عدلیہ کی اہم تنظیمیں ان کی حمایت میں سامنے آ گئی ہیں اور انھیں پولیس سکیورٹی بھی فراہم کر دی گئی ہے۔

رپورٹس کے مطابق سزا سنائے جانے کے فوراً بعد مجرم قرار دیے گئے افراد کے اہلِ خانہ نے عدالت کے باہر احتجاج کیا اور پولیس کی اس گاڑی کو روکنے کی کوشش کی جس میں ملزمان کو جیل منتقل کیا جا رہا تھا۔ ان کا دعویٰ تھا کہ ان افراد کو ’گائے بچانے‘ کی سزا دی جا رہی ہے۔

اس کے بعد سوشل میڈیا پر جج تبسم خان کے خلاف منظم مہم شروع ہو گئی۔ ہندو دائیں بازو سے وابستہ متعدد سوشل میڈیا انفلوئنسرز کی ویڈیوز سامنے آئیں، جن میں انھیں فرقہ وارانہ زبان میں نشانہ بنایا گیا، جبکہ ان کے خلاف قتل کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔

ایک ویڈیو میں ایک شخص نے دھمکی دی کہ ’اگر سزا یافتہ افراد کو 10 دن کے اندر رہا نہ کیا گیا تو ملک بھر میں ’خون ریزی‘ ہو گی۔‘

اب تک ایسی کئی ویڈیوز سامنے آچُکی ہیں کہ جن پر ہزاروں لائکس اور شیئرز آ چکے ہیں۔ ان ویڈیوز میں دھمکیاں دینے اور تشدد پر اکسانے والے افراد کے چہرے اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس واضح طور پر نظر آ رہے ہیں۔

دائیں بازو کے نظریات رکھنے والے ہندی نیوز چینل سدرشن نیوز کے ایک اینکر نے سزا یافتہ افراد کے اہل خانہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ ’انھوں نے کبھی سوچا بھی نہیں ہوگا کہ گائے بچانے کے لیے سب کچھ داؤ پر لگانے والے ان کے اہل خانہ کو اسی وجہ سے جیل جانا پڑے گا۔‘

اینکر نے اپنے ناظرین سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ ’آواز اٹھائیں‘ کیونکہ ’اب وقت آ گیا ہے کہ گائے کے محافظوں کے لیے جدوجہد کی جائے۔‘

اس فیصلے کے خلاف خود کو گائے کے تحفظ کی تنظیمیں اور ’ہندوتوا نظریات‘ سے وابستہ گروہ بھی بڑے پیمانے پر احتجاج کر رہے ہیں۔

22 جون کو گئو رکشا پریشد (جس کا مفہوم تقریباً گائے کے محافظوں کی کونسل ہے) نے پنجاب میں احتجاج کیا، جس کے دوران مظاہرین نے جج تبسم خان کے پتلے کو نذرِ آتش کیا۔ اس کے تین روز بعد راشٹریہ بجرنگ دل نے اتر پردیش میں احتجاج کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ’گئو رکشکوں‘ کو رہا کیا جائے۔

سابق سپریم کورٹ جج مارکنڈے کاٹجو نے ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ ویڈیوز اور احتجاج صرف فیصلے پر تنقید تک محدود نہیں تھے بلکہ ان کا مقصد ’جج خان کی عدالتی حیثیت کو ان کی مذہبی شناخت تک محدود کر کے ان کے اختیار کو کمزور کرنا تھا۔‘

انھوں نے لکھا کہ ’ان کی مسلم شناخت کو فیصلے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھانے کی بنیادی وجہ بنا دیا گیا۔ یہ انصاف کے اصولوں کے لیے انتہائی خطرناک امر ہے۔ عدالتی فیصلوں کا جائزہ قانونی دلائل کی بنیاد پر لیا جانا چاہیے، نہ کہ فیصلہ سنانے والے شخص کی مذہبی شناخت کی بنیاد پر۔‘

بعد میں کاٹجو نے بتایا کہ جج تبسم خان نے انھیں پیغام بھیج کر شکریہ ادا کیا۔ ان کے مطابق مسلسل دھمکیوں نے انھیں ذہنی طور پر متاثر کیا اور انھیں ایسا محسوس ہونے لگا جیسے فیصلہ سنانا کوئی جرم ہو۔

جج تبسم خان کو عدالتی حلقوں سے بھی حمایت حاصل ہوئی ہے۔ سپریم کورٹ ایڈووکیٹس آن ریکارڈ ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے ان کے خلاف دھمکیوں کی مذمت کرتے ہوئے ذمہ دار افراد کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر وکاس سنگھ نے بی بی سی کو بتایا کہ ’کسی جج کو دی جانے والی دھمکیاں ایک سنگین معاملہ ہیں، کیونکہ عدلیہ جمہوریت کی بنیادی اقدار سے براہِ راست جڑی ہوئی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’اگر ہم نے اس طرح کے واقعات کو ہونے دیا تو کوئی بھی جج انصاف فراہم نہیں کر سکے گا۔ جمہوریت میں ایک جج کو بغیر کسی خوف یا دباؤ کے اپنے فرائض انجام دینے کے قابل ہونا چاہیے۔‘

دوسری جانب پولیس افسر سدھاکر باراسکر نے بی بی سی کو بتایا کہ ’اس معاملے میں انڈین پینل کوڈ کی متعلقہ دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور دو افراد کو گرفتار کیا گیا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ ’سائبر سیل ان افراد کا سراغ لگا رہا ہے جو اشتعال انگیز ویڈیوز شیئر کر رہے ہیں، جبکہ سوشل میڈیا پر مزید ایسے مواد کی مسلسل نگرانی بھی کی جا رہی ہے۔‘

تاہم سپریم کورٹ کے وکیل سنجے ہیگڑے کا کہنا ہے کہ ’ریاست اور عدلیہ کو جج تبسم خان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے مزید اقدامات کرنے چاہییں۔‘

قانونی خبروں کی ویب سائٹ ’لائیو لا‘ میں لکھے گئے ایک مضمون میں ہیگڑے نے ایک حالیہ واقعے کا حوالہ دیا، جس میں ایک سابق جج کو ملنے والی دھمکیوں سے نمٹا گیا تھا۔

ممبئی ہائی کورٹ کے سابق جج گوتم پٹیل اور ان کے اہل خانہ کو سنہ 2024 میں ایک مسلم برادری کے اندر وراثتی تنازعے سے متعلق فیصلہ سنانے کے بعد 10 ماہ سے زائد عرصے تک دھمکیوں کا سامنا رہا۔

تین عدالتی تنظیموں کی جانب سے دائر کی گئی مفادِ عامہ کی درخواست کے بعد ممبئی ہائی کورٹ نے مہاراشٹر حکومت کو حکم دیا کہ وہ جج گوتم پٹیل کو سکیورٹی فراہم کرے۔ عدالت نے ممبئی پولیس کمشنر کو تحقیقات کی نگرانی کرنے اور رفت رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت بھی دی۔

سنجے ہیگڑے نے لکھا کہ ’اگر ایک ہائی کورٹ کے ریٹائرڈ جج کو ریاستی تحفظ اور عدالتی نگرانی کا حق حاصل ہے تو ایک ضلعی عدالت کے حاضر سروس سیشنز جج کو بھی یہی تحفظ ملنا چاہیے۔ یہ اصول عہدے کی بنیاد پر تبدیل نہیں ہو سکتا، مذہب کی بنیاد پر نہیں بدل سکتا اور کسی خاص فیصلے کے گرد موجود سیاسی ماحول کے مطابق بھی نہیں ڈھل سکتا۔‘

گزشتہ ہفتے مدھیہ پردیش ہائی کورٹ نے اعلیٰ حکام سے وضاحت طلب کی کہ جج تبسم خان کے تحفظ کے لیے کیا اقدامات کیے گئے ہیں اور دھمکیاں دینے والوں کی شناخت کے لیے کیا کارروائی کی گئی ہے۔

عدالت نے یہ بھی ہدایت دی کہ جج تبسم خان کی پولیس سکیورٹی برقرار رکھی جائے۔