آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
مل بانٹ کر کھانے کے پانچ غیر معمولی فائدے
- مصنف, ڈیوڈ رابسن اور الیسیا فرینکو
- عہدہ, بی بی سی فیوچر
- وقت اشاعت
- مطالعے کا وقت: 8 منٹ
ساتھ مل کر کھانا اور دوسروں کے ساتھ خوراک بانٹنا ڈپریشن اور ڈیمنشیا کے خطرے کو کم کر سکتا ہے۔
یہ بات تقریباً ناقابلِ یقین لگتی ہے، لیکن آپ کی کھانے کی عادات میں ایک سادہ سی تبدیلی آپ کے جسم اور دماغ کو غیر معمولی فائدہ پہنچا سکتی ہے۔
یہ ڈپریشن کے خطرے کو کم کر سکتی ہے اور آپ کو ڈیمنشیا سے تحفظ فراہم کر سکتی ہے۔ یہ آپ کے کھانے سے لطف اندوز ہونے کے احساس میں اضافہ کر سکتی ہے اور ممکن ہے کہ یہ آپ کی عمر بھی بڑھا دے۔
ہم کسی نئی مقبول غذا کی بات نہیں کر رہے بلکہ انسانیت کی قدیم ترین روایات میں سے ایک کی بات کر رہے ہیں: کومینسالیٹی، یعنی دوسروں کے ساتھ مل کر کھانا کھانے کا عمل۔
آکسفورڈ یونیورسٹی میں معاشیات اور رویوں کی سائنس کے پروفیسر جان ایمانوئیل ڈی نیو کہتے ہیں: ’کھانا بانٹنا باہمی تعلق، اعتماد پیدا کرنے اور دوسروں سے جڑنے کا ایک بنیادی ذریعہ ہے۔‘ اور اس کے ہم پر گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ جدید دنیا میں بڑھتی ہوئی تنہائی اس عمل کو غیر معمولی بنا رہی ہے۔ لیکن دوسروں تک رسائی حاصل کرنا اور خوراک و دوستی کے درمیان اس قدیم تعلق سے فائدہ اٹھانا شاید آپ کے خیال سے بھی کہیں زیادہ آسان ہو۔
1۔ ذہنی صحت میں بہتری
کومینسالیٹی پر ہونے والی زیادہ تر تحقیق اس کے ذہنی صحت پر پڑنے والے اثرات پر مرکوز رہی ہے۔ چین کے صوبہ ژی جیانگ میں امراض کی روک تھام اور کنٹرول کے مرکز سے وابستہ ژینی وانگ اور ان کے ساتھیوں کی ایک تحقیق میں 60 سال یا اس سے زیادہ عمر کی 9361 خواتین کا سروے کیا گیا۔ اس میں معلوم ہوا کہ کھانے کے وقت میز کے گرد موجود افراد کی تعداد کسی شخص میں ڈپریشن کے خطرے کی واضح پیش گوئی کرتی ہے۔ یہ نتیجہ اس وقت بھی برقرار رہا جب محققین نے دیگر عوامل کو مد نظر رکھا جو کسی انسان پر اثر انداز ہوتے ہیں، جیسے عمومی صحت، مالی حیثیت، اور آیا وہ شخص اکیلا رہتا تھا یا نہیں۔
تحقیقی ٹیم نے نتیجہ اخذ کیا کہ کومینسالیٹی میں کچھ ایسی منفرد خصوصیت موجود ہے جو ہماری ذہنی صحت کو متاثر کرتی ہے۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
متعدد دیگر تحقیقات بھی اسی نتیجے کی جانب اشارہ کرتی ہیں۔ مثال کے طور پر ٹوکیو کے محققین نے دریافت کیا کہ 65 سے 74 سال عمر کے وہ افراد جو اپنے خاندان کے ساتھ رہتے تھے لیکن اکیلے کھانا کھاتے تھے، ان میں ڈپریشن کی علامات پیدا ہونے کے امکانات ان افراد کے مقابلے میں پانچ گنا زیادہ تھے جو باقاعدگی سے دوسروں کے ساتھ کھانا کھاتے تھے۔
شاید سب سے مضبوط شواہد ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ سے ملتے ہیں، جو رائے عامہ کے جائزوں کی کمپنی گیلپ کے عالمی سروے کی بنیاد پر صحت و عافیت (wellbeing) کا سالانہ تجزیہ پیش کرتی ہے۔ 2024 میں جاپانی خوراک ساز ادارے اجینوموتو نے اس رپورٹ کے ایک حصے کو سپانسر کیا جس میں لوگوں کی کھانے کی عادات کے بارے میں سوالات شامل کیے گئے تھے:
گذشتہ سات دنوں کے بارے میں سوچتے ہوئے...
(1) آپ نے کتنے دن کسی جاننے والے شخص کے ساتھ دوپہر کا کھانا کھایا؟
(2) آپ نے کتنے دن کسی جاننے والے شخص کے ساتھ رات کا کھانا کھایا؟
ڈی نیو، جنھوں نے تازہ ترین ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ میں کومینسالیٹی کی اہمیت پر ایک باب تحریر کیا، کہتے ہیں: ’جب میں نے یہ سوالات دیکھے تو میری آنکھیں چمک اٹھیں۔ ہم دنیا بھر کے تقریباً ڈیڑھ لاکھ افراد کے جوابات کا جائزہ لے رہے تھے۔‘
ڈی نیو کی ٹیم نے دریافت کیا کہ جتنے زیادہ کھانے لوگ دوسروں کے ساتھ بانٹتے تھے، ان کی جذباتی صحت کی درجہ بندی اتنی ہی بہتر ہوتی تھی، اور یہ رجحان حیران کن حد تک مستقل تھا۔ وہ کہتے ہیں: ’اس سے کسی کی زندگی میں پائے جانے والے اطمینان کی نشاندہی ایسے ہوتی تھی جیسے کسی کی ملازمت کی حیثیت اور آمدنی سے ہوتی ہے۔‘
2۔ خوشی پیدا کرنے والے کیمیکلز
ڈی نیو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ مل کر کھانے کے بارے میں پوچھے گئے سوالات شاید کسی شخص کی مجموعی سماجی زندگی کا محض ایک ’اشاریہ‘ ہوں، لیکن ان کے خیال میں مل کر کھانا کھانے میں واقعی کچھ خاص بات ہے۔ وہ نشاندہی کرتے ہیں کہ انگریزی لفظ companion لاطینی الفاظ cum اور pānis سے نکلا ہے، جن کا مطلب ہے ’روٹی کے ساتھ‘، جبکہ اسی تصور کے لیے چینی اصطلاح huǒ bàn ان حروف سے ماخوذ ہے جو ایک ایسے فوجی دستے کی وضاحت کرتے ہیں جو ایک ہی چولہا استعمال کرتا تھا۔
وہ کہتے ہیں کہ ’اس کی ثقافتی جڑیں بہت گہری ہیں۔‘
آکسفورڈ یونیورسٹی کے بائیولوجیکل اینتھروپولوجسٹ رابن ڈنبار اپنی کتاب ’فرینڈز‘ میں لکھتے ہیں کہ کھانا کھانے سے قدرتی طور پر اینڈورفنز کا نظام متحرک ہوتا ہے، یعنی وہ کیمیکلز جو ہمیں خوشی کا احساس دیتے ہیں۔ اس سے کھانے کے دوران بننے والا تعلق مضبوط ہو سکتا ہے اور ہمیں ایک دوسرے سے زیادہ قربت محسوس ہو سکتی ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ دوسرے لوگوں کی موجودگی کھانے کے لطف میں بھی اضافہ کر سکتی ہے۔ یونیورسٹی آف پنسلوانیا کی ایریکا بوتھبی کی ایک سلسلہ وار تحقیق سے معلوم ہوا کہ جو لوگ کسی دوسرے شخص کی موجودگی میں چاکلیٹ کھاتے تھے، انھیں وہ نمایاں طور پر زیادہ ذائقہ دار محسوس ہوتی تھی۔
3۔ ڈیمنشیا کے خطرے میں کمی
ساتھ مل کر کھانا کھانا دماغ کے بڑھاپے کے عمل کو بھی سست کر سکتا ہے۔
2025 میں جاپانی محققین نے دریافت کیا کہ جو لوگ باقاعدگی سے اکیلے کھانا کھاتے ہیں ان کے دماغ کے ان اہم حصوں کا حجم کم ہوتا ہے جو سمجھ بوجھ کے افعال سے وابستہ ہیں۔
اگرچہ اس میں کچھ کردار غذا کا بھی تھا، کیونکہ عموماً اکیلے کھانے والے افراد کم غذائیت بخش خوراک استعمال کرتے ہیں، تاہم اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ کم سماجی رابطہ بھی طویل مدت میں ان کی دماغی صحت میں کردار ادا کر رہا تھا۔
محققین نے قیاس کیا کہ مل کر کھانوں سے حاصل ہونے والا لطف اور سماجی حمایت تناؤ کو کم کر سکتے ہیں، جبکہ تناؤ اعصابی زوال کا بھی سبب بنتا ہے۔ کھانے کے دوران ہونے والی گفتگو ذہن کو اضافی تحریک فراہم کر سکتی ہے جو بڑھاپے تک دماغ کو فعال رکھتی ہے۔
4۔ رشتوں کی مضبوطی
ورلڈ ہیپی نیس رپورٹ کے مطابق مختلف ممالک میں کھانے کی عادات میں نمایاں فرق پایا جاتا ہے، اور ہم سماجی میل جول کی ثقافت کو محفوظ رکھنے کے لیے ایک ملک کی کوششوں سے بہت کچھ سیکھ سکتے ہیں۔
اوسطاً جاپانی افراد ہفتے میں چار سے بھی کم کھانے دوسروں کے ساتھ بانٹتے ہیں۔ برطانیہ اور امریکہ میں یہ تعداد تقریباً سات سے آٹھ ہے، جبکہ اٹلی میں یہ نو کے قریب پہنچ جاتی ہے۔
اٹلی یقیناً اپنی ملنسار غذائی ثقافت کے لیے مشہور ہے۔ جب یونیسکو نے اطالوی کھانوں کو ثقافتی ورثے کا درجہ دیا تو کھانوں کے اس اہم کردار کو بھی اجاگر کیا جو وہ گھروں، سکولوں، تہواروں، تقریبات اور اجتماعات میں خاندانوں اور برادری کو جوڑنے میں ادا کرتے ہیں۔
اس لیے یہ کوئی حیرت کی بات نہیں کہ جدید دنیا کے دباؤ کے مقابلے میں اپنی کومینسالیٹی کی ثقافت کو محفوظ رکھنے کے طریقے تلاش کرنے میں بھی اٹلی آگے ہے۔ اٹلی سے شروع ہونے والی سلو فوڈ موومنٹ 50 سال قبل فاسٹ فوڈ کی بڑھتی مقبولیت کے ردعمل کے طور پر شروع کی گئی تھی۔ اس تحریک نے ہمیشہ اس بات پر زور دیا ہے کہ ہماری روزمرہ زندگی کا مرکز مل کر کھانا ہونا چاہیے۔
سلو فوڈ اٹالیہ کی صدر باربرا نپینی کہتی ہیں: ’اٹلی میں مل کر کھانا بذاتِ خود ایک فلسفہ ہے: مل کر کھانا پکانا اور اسے ٹیبل پر سجانا، اس کے لیے توجہ اور صبر درکار ہوتا ہے۔‘
5۔ پائیدار دوستی اور باہمی اعتماد میں بحالی
یہ بات درست ہے کہ 21ویں صدی میں بہت سے اطالوی باشندے بڑھتی ہوئی تنہائی کا سامنا کر رہے ہیں، لیکن اگر آپ اکیلے کھانا نہیں کھانا چاہتے، تو اس کا حل شاید آپ کے خیال سے بھی زیادہ آسان ہو۔
ممکن ہے آپ پہلے ہی ایسے لوگوں سے گھرے ہوئے ہوں جو آپ کے ساتھ کھانا بانٹنے کا موقع خوشی سے قبول کریں۔ اس موضوع پر موجود وسیع تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگ اس نوعیت کی دعوتوں کو ہماری توقع سے کہیں زیادہ مثبت انداز میں قبول کرتے ہیں۔
اگر آپ کسی ایسے شخص کو جانتے ہیں جو تنہائی محسوس کر رہا ہو اور اچھے کھانے کے ساتھ گفتگو کا موقع پسند کرے، تو بہترین حل یہ ہے کہ آپ اسے دعوت دے دیں۔
اور اگر آپ کو واقعی کسی ایسے شخص کا خیال نہیں آ رہا، تو ٹیکنالوجی پر مبنی حل بھی موجود ہیں۔ 2019 میں اطالوی ٹیکنالوجی کاروباری شخصیت پاؤلو باوارو نے تنہا کھانے والوں کو آپس میں جوڑنے کے لیے ٹیبلو ایپ تیار کی۔ اب تک اس کا استعمال تین لاکھ سے زیادہ مرتبہ کیا جا چکا ہے۔
شاید یہ حیرت کی بات نہیں کہ اس کے بیشتر صارفین نوجوان ہیں، جن کی اوسط عمر تقریباً 30 سال ہے۔ باوارو کہتے ہیں: ’اس عمر میں دوست بنانا زیادہ مشکل ہوتا ہے۔ آپ بہت کام کرتے ہیں، آپ کے کئی دوست شادی کر کے اپنے خاندان بنا چکے ہوتے ہیں، آپ میل جول چاہتے ہیں لیکن آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ باہر کس کے ساتھ جائیں۔‘
باوارو اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ان کی ایپ کسی ’خاص قسم‘ کے لوگوں کے لیے نہیں ہے، اور اسے ڈیٹنگ ایپ نہیں سمجھا جانا چاہیے۔ اس کا مقصد زندگی کے اس مرحلے میں لوگوں کے سماجی دائرے کو وسیع کرنا ہے جب انھیں اس کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔
جب ہم نے اس ایپ کا ذکر ڈی نیو سے کیا تو انھوں نے ہماری توجہ سٹینفورڈ یونیورسٹی کے ماہرِ نفسیات جمیل ذکی کے ایک تجربے کی طرف دلائی، جنھوں نے شرمیلے طلبہ کے لیے کیمپس کی کافی شاپ میں ملاقاتوں کا انتظام کیا جنھیں ’پلاٹونک ڈیٹس‘ (افلاطونی ملاقاتیں) کہا گیا۔ اس اقدام نے ان کے سماجی اعتماد میں اضافہ کرنے میں مدد دی۔ ان کے مطابق اس نوعیت کے اقدامات کے فوائد کافی 'دیرپا' ہو سکتے ہیں۔
مل کر کھانا کھانے سے شاید آپ ایک پائیدار دوستی قائم کر سکیں، اور اسی عمل میں اپنی صحت اور خوشی میں بھی اضافہ کر لیں۔