آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
خانہ بدوشوں کے عالمی مقابلوں میں پاکستان کے چار تمغے: ’ورلڈ نومیڈ گیمز‘ کیا ہیں؟
کرغزستان میں ایک ہفتے تک جاری رہنے والے چھٹے ورلڈ نومیڈ گیمز میں پاکستان نے چار میڈلز اپنے نام کیے ہیں جس پر سوشل میڈیا پر یہ اعزاز حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کی تعریف ہو رہی ہے۔
پاکستان کے چوہدری محمد عاصم نے 90 کلو گرام کیٹیگری میں ایرانی حریف کو شکست دے کر کانسی کا تمغہ حاصل کیا جبکہ رسہ کشی میں پاکستان کی ٹیم نے کانسی کے تمغے کے سفر میں روایتی حریف انڈیا کو بھی شکست دی۔
پاکستان کی جانب سے طیب رضا نے رسہ کشی کے انفرادی مقابلے جبکہ اقرا نصیب نے ماس ریسلنگ میں کانسی کا تمغہ حاصل کیا۔
ورلڈ نومیڈ گیمز کا آغاز 31 اگست کو کرغزستان کے دارالحکومت بشکیک سمیت نو مقامات میں ہوا تھا جو چھ ستمبر کو اختتام پذیر ہو گئے۔
ان مقابلوں میں 106 ممالک کے ایتھلیٹس نے حصہ لیا اور میزبان ملک تمغے حاصل کر کے سرِفہرست رہا۔
پاکستان سپورٹس بورڈ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستانی ٹیم نے اس بین الاقوامی مقابلے میں پوڈیم پر جگہ بنانے کے لیے قوت، عزم اور بہترین ٹیم ورک کا مظاہرہ کیا۔
ان کھیلوں میں پاکستان کی جانب سے 100 سے زائد ایتھلیٹس نے شرکت کی تھی جنھوں نے بیلٹ ریسلنگ، ہارس بیک آرچری، رسہ کشی اور ماس ریسلنگ میں حصہ لیا۔
اولمپکس، کامن ویلتھ گیمز یا کھیلوں کے عالمی مقابلوں کے برعکس ورلڈ نومیڈ گیمز کو عالمی سطح پر اتنی پذیرائی نہیں ملتی، لیکن وسطی ایشیائی ممالک میں سنہ 2014 سے شروع ہونے والے مقابلوں میں منفرد کھیلوں کی وجہ سے یہ کھیل بھی اب شہرت پا رہے ہیں۔
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
نومیڈ سے مراد خانہ بدوش ہے جو ایسی کمیونٹی کہلاتی ہے جو ہر کچھ وقت کے بعد اپنا ٹھکانہ تبدیل کرتی رہتی ہے۔
’وسطی ایشیا کے اولمپکس‘
منگولین نادام فیسٹیویل کو منگولیا کا سب سے بڑا، قدیم اور روایتی تہوار سمجھا جاتا ہے۔ ورلڈ نومیڈ گیمز اسی طرز پر ہوتے ہیں۔
منگولین فیسٹیویل میں کشتی، نشانہ بازی اور گھڑ سواری کو اہمیت دی جاتی ہے اور اس میں وسیع و عریض صحراؤں میں جنگجو خانہ بدوشوں کی زندگی کی جھلک نظر آتی ہے۔
ان کھیلوں کا آغاز سنہ 2014 میں پہلی مرتبہ کرغزستان سے ہی ہوا تھا اور اب ہر دو سال بعد وسطی ایشیائی ریاستوں کے مختلف ممالک میں اس کا انعقاد ہوتا ہے۔
ورلڈ نومیڈ گیمز میں گھڑ سواری کے دوران کشتی اور وسطی ایشیا کے طاقت آزمائی کے مقابلوں جیسے کھیل شامل ہیں، جو اس بات کی جھلک پیش کرتے ہیں کہ اگر چنگیز خان منتظم ہوتے تو اولمپکس مقابلوں کی شکل شاید ایسی ہوتی۔
ان میں سے بہت سے کھیلوں کی جڑیں ان مہارتوں میں ہیں جو صحرائی میدانوں میں بقا کے لیے ضروری تھیں، اور ان بے مثال گھڑ سواری کی صلاحیتوں میں بھی شامل ہیں نے ایک ہزار سال تک قائم رہنے والی صحرائی سلطنتوں کو قوت بخشی جن میں ہن اور منگول سلطنتیں شامل ہیں۔
ان مقابلوں میں تیر اندازی اور طویل فاصلے کی گھڑ دوڑ جیسے روایتی ایونٹس شامل ہیں، لیکن یہ کھیل وسطی ایشیائی ممالک کے کھانوں، روایتی لباس اور یہاں تک کہ رزمیہ داستان گوئی کے فن کو بھی فروغ دیتے ہیں۔
اس کا مقصد خانہ بدوش اور صحرائی ثقافت کا تحفظ اور فروغ ہے، جسے عالمگیریت، جدیدیت اور حتیٰ کہ موسمیاتی تبدیلی سے بھی بڑھتے ہوئے خطرات لاحق ہیں۔
ورلڈ نومیڈ گیمز ہر دو سال بعد منعقد ہوتے ہیں اور اپنی میزبانی کا مقام اتنی ہی باقاعدگی سے تبدیل کرتے ہیں جتنی باقاعدگی سے ان خانہ بدوشوں کی نقل مکانی ہوتی تھی جن کی یہ نمائندگی کرتے ہیں۔
وسطی ایشیا کا سب سے پرجوش اور بے لگام کھیل
کھیلوں کے اس مقبول مقابلے کو خطے کے مختلف حصوں کے ناموں سے جانا جاتا ہے اور انگریزی میں اس کی بہترین تشریح یوں کی جا سکتی ہے کہ یہ گھوڑوں پر کھیلا جانے والا رگبی ہے جس میں گیند کے طور پر ایک مردہ بکری استعمال ہوتی ہے۔
سات سات گھڑ سواروں پر مشتمل دو ٹیمیں بغیر سر والی لاش (جو ان کھیلوں کے لیے ربڑ سے بنائی گئی ہے) پر قبضہ کرنے، اسے اپنی ٹانگ کے نیچے اٹھانے، حریف ٹیم کی لائن کی طرف تیزی سے دوڑنے اور پھر اسے رسی کے ایک دائرے یا ایک بڑے پلاسٹک کے ڈونٹ نما حلقے میں پھینکنے کے لیے مقابلہ کرتی ہیں۔
اس کھیل کو سخت اور پُرتشدد کہنا بھی کم ہو گا۔ ٹوٹی ہوئی انگلیاں اور پھٹے ہوئے کان اس کھیل کا معمول ہیں۔
عقاب کے ذریعے شکار کھیلوں میں شامل کھیلوں میں سے ایک زیادہ غیر معمولی کھیل ہے۔ ایک تجربہ کار عقاب باز کو ایک جنگلی سنہری عقاب کو قابو میں کرنے اور تربیت دینے میں کئی سال لگتے ہیں۔
گھوڑے پر کشتی (audaryspak) 15 میٹر قطر والے ریتلے میدان میں ہوتی ہے اور مقابلوں کو وزن کی چھ مختلف کیٹیگریوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
مقصد اپنے حریف کو زمین پر گرانا ہوتا ہے، تاہم پہلوان اپنے مخالف کو زین سے اٹھانے یا اسے دائرے سے باہر دھکیلنے پر بھی پوائنٹس حاصل کر سکتے ہیں۔ کاٹنے پر گھوڑوں کو جرمانہ کیا جاتا ہے۔
ماس ریسلنگ
ماس ریسلنگ جسے بعض اوقات لکڑی کی چھڑی کھینچنے کی کشتی بھی کہا جاتا ہے۔
اس کھیل میں کھلاڑی ایک دوسرے کے سامنے بیٹھتے ہیں، ان کے پاؤں ایک تختے پر ہوتے ہیں اور دونوں ایک لکڑی کی چھڑی کو پکڑے ہوتے ہیں۔
اس کھیل کا مقصد اپنے حریف سے چھڑی چھیننا یا اسے اپنی جانب کھینچ لانا ہوتا ہے (یوں سمجھیں جیسے بڑے سائز کے ننھے بچے کسی کھلونے پر جھگڑ رہے ہوں)۔ مردوں اور خواتین کے لیے الگ الگ مقابلے منعقد کیے جاتے ہیں۔
’کیا ورلڈ نومیڈ گیمز کے بارے میں کسی نے سنا تھا‘
گو یہ کھیل ختم ہو چکے ہیں، لیکن اس کی افتتاحی تقریب ایسے وقت میں ہوئی تھی جب بشکیک میں شنگھائی تعاون کونسل (ایس سی او) کا سربراہی اجلاس تھا۔
افتتاحی تقریب میں پاکستان کے وزیرِ اعظم شہباز شریف، ایرانی صدر مسعود پزشکیان، روسی صدر پوتن سمیت رُکن ممالک کے سربراہان نے شرکت کی تھی۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین کا یہ کہنا ہے کہ دُنیا کے ایک حصے میں ہونے والے یہ کھیل ایک طرح سے دُنیا سے اوجھل ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ ہم متوازی کائناتوں میں رہتے ہیں۔
سٹیو ہاویل نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’ورلڈ نومیڈ گیمز‘ کے بارے میں ’کس نے سنا تھا۔ میں نے تو نہیں سنا تھا۔‘
سنہ 2014 میں شروع ہونے والے ان مقابلوں میں دنیا بھر کے کھلاڑی گھڑ سواری، تیر اندازی، کشتی اور وسطی ایشیا کے خانہ بدوش ثقافتوں سے وابستہ دیگر روایتی کھیلوں میں حصہ لینے کے لیے اکٹھے ہوتے ہیں۔
ایک صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’میں نے ان کھیلوں کے بارے میں گذشتہ سال ایک ٹی وی چینل پر اشتہار دیکھا تھا۔ لیکن یہ کیا شاندار کھیل ہیں۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ ’میں انڈیا میں رہتا ہوں اور میں نے پہلی بار ان کھیلوں کے بارے میں سنا ہے۔‘
صہیب نامی صارف نے ایکس پر لکھا کہ ’ماس ریسلنگ‘ اور طاقت کے دیگر مقابلوں میں پاکستان نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ’میں نے ایران کے ایک دیو ہیکل کھلاڑی کو بھی دیکھا جس نے اپنے حریفوں کو یکسر مغلوب کر دیا۔‘
ایک صارف نے لکھا کہ کھیلوں کے ایک بین الاقوامی ایونٹ کا تصور کریں جہاں اشتہاری بورڈز سے بھرے سٹیڈیم کے بجائے، آپ کے پاس روایتی لباس میں گھوڑے سوار میدان کے پار سرپٹ دوڑ رہے ہوں، ہر جگہ گھوڑوں کی پیٹھ پر تیر برسانے والے نظر آ رہے ہوں۔
اُن کا کہنا تھا کہ اولمپکس ایک بڑے کارپوریٹ ایونٹ کی طرح محسوس ہوتا ہے، لیکن یہاں آپ کو قدیم اور روایتی کھیلوں کی جھلک ملتی ہے۔