کویت اور اُردن کا ایرانی ڈرون و میزائل حملے ناکام بنانے کا دعویٰ: ایشیائی منڈیوں میں تیل کی فی بیرل قیمت 92 ڈالر سے تجاوز کر گئی
امریکی فوج کی جانب سے ایران پر مسلسل گیارہویں روز حملوں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ ایران کا دعویٰ ہے کہ اس نے جوابی کارروائیوں میں کویت اور اردن میں واقع امریکی فوجی اڈوں کو نشانہ بنایا ہے۔
اردن کے میڈیا کے مطابق اسرائیلی شہر ایلات کے قریب واقع اردنی شہر عقبہ میں دھماکوں کی آوازیں بھی سنی گئیں جبکہ خطرے کے سائرن بجائے گئے۔
اردن کی فوج کا دعویٰ ہے کہ اس نے ایران سے داغے گئے چھ میزائلوں کو روکا جو اس کی سرزمین کی جانب بڑھ رہے تھے۔
فوج کے مطابق فضائی دفاعی نظام نے ان میں سے چار میزائل مار گرائے جبکہ دو دیگر دور دراز غیر آباد علاقوں میں گرے جس سے کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا۔
اردن کی فوج کا دعویٰ ہے کہ ایران سے آنے والے چار ڈرون بھی مار گرائے گئے جنھوں نے اردنی علاقے کو نشانہ بنایا تھا۔
دوسری جانب کویت کی فوج نے بدھ کو کہا کہ اس کا فضائی دفاع ایران سے آنے والے ڈرون حملوں کا مقابلہ کر رہا ہے جبکہ بحرین کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ اس نے ایرانی حملوں کو ناکام بنایا۔
یاد رہے کہ ایرانی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے کویت اور بحرین میں امریکی اہداف کو نشانہ بنایا جن میں فضائی دفاعی نظام، ریڈار تنصیبات اور انتظامی عمارتیں شامل تھیں۔
ایران میں امریکی حملوں کے باعث دھماکوں کی آوازیں
ایران میں مقامی میڈیا نے بدھ کی صبح ایران کے جنوبی شہروں بوشہر، مہشہر، امیدیہ اور سرک اور شمال مغربی شہر تبریز سے امریکی حملوں کے نتیجے میں متعدد دھماکوں کی اطلاعات دی ہیں۔
ایران کے صوبے بوشہر کےنائب گورنر نے نے امریکی حملوں کے نتیجے میں ہونے والے دھماکوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان حملوں میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔
بوشہر کے نائب سیاسی و سکیورٹی گورنر احسان جہانیاں کے مطابق بدھ کی صبح یہ حملے دشتی کاؤنٹی کے مرکزی شہر خرموج کے نواحی علاقوں میں کیے گئے۔ جبکہ بوشہر کو بیک وقت دو مراحل میں امریکی حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ بوشہر جوہری بجلی گھر کے قریب واقع ایک بجلی کے سب سٹیشن پر امریکی میزائل حملے کے باعث بندرگاہی علاقے میں بجلی کی فراہمی معطل ہو گئی تھی، تاہم حملے کے دو گھنٹے سے بھی کم وقت کے اندر بجلی کا نظام مکمل طور پر بحال کر دیا گیا۔
ادھر ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق سرک کے قریب کم از کم تین دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
یاد رہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی کے آغاز کے بعد سے سرک ان مقامات میں شامل رہا ہے جنھیں امریکی حملوں کا اہم ہدف قرار دیا جاتا رہا ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگستھ نے بدھ کے روز بتایا ہے کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ پر امریکہ اب تک تقریباً 37.5 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے، جو مئی میں دیے گئے گذشتہ تخمینے سے تقریباً آٹھ ارب ڈالر زیادہ ہے۔
پیٹ ہیگستھ نے سینیٹ کی اپروپری ایشنز کمیٹی کو بتایا کہ کانگریس کی جانب سے پینٹاگون کے لیے مزید 87 ارب ڈالر کی منظوری انتہائی ضروری ہے، جن میں سے 67 ارب ڈالر مشرقِ وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کے لیے مختص کیے جائیں گے۔