آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے

مجھے مرکزی ویب سائٹ یا ورژن پر لے جائیں

کم ڈیٹا استعمال کرنے والے ورژن کے بارے میں مزید جانیں

لائیو , قطری وفد مذاکرات کے لیے تہران پہنچ گیا: ایران تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں، جرمن چانسلر

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے تصدیق کی ہے کہ ایک قطری وفد جمعہ 30 اکتوبر کی صبح تہران پہنچا ہے، جہاں وہ ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔ دوسری جانب جرمن چانسلر فریڈرک مرٹز کا کہنا ہے تمام فریقوں کو تسلیم کرنا چاہیے کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔

خلاصہ

لائیو کوریج

  1. سکیورٹی فورسز کا بلوچستان کے ضلع خاران میں پانچ ڈرون مار گرانے کا دعویٰ, محمد کاظم، بی بی سی اردو، کوئٹہ

    بلوچستان حکومت کے محکمہ داخلہ کے معاون برائے میڈیا بابر یوسفزئی کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز نے ضلع خاران میں ڈرون حملوں کی ایک کوشش ناکام بناتے ہوئے پانچ ڈرونز مار گرائے ہیں۔

    سرکاری سطح پر بلوچستان میں ایک ہی علاقے میں پانچ ڈرونز مار گرانے کا یہ پہلا دعویٰ ہے۔

    بابر یوسفزئی نے ایک بیان میں کہا کہ ڈرون حملے کی کوشش ناکام بنانا سکیورٹی فورسز کی ایک بڑی کامیابی ہے۔

    پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی کے دوران افغانستان کی جانب سے بلوچستان کے بعض علاقوں میں ڈرون حملوں کے واقعات سامنے آئے، تاہم خاران میں مار گرائے جانے والے ڈرونز کے بارے میں حکام نے کسی مخصوص تنظیم یا گروہ کا نام نہیں لیا۔

    البتہ معاون برائے میڈیا کی جانب سے جاری بیان میں ان حملوں کے ذمہ داروں کے لیے وہی اصطلاح استعمال کی گئی ہے جو سرکاری حکام کالعدم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

    بیان کے مطابق سکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے پانچوں ڈرونز کو مار گرایا اور حملہ آور اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہے۔

  2. ایران تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں: جرمن چانسلر

    جرمن چانسلر فریڈرک مرٹز نے ایران پر ممکنہ نئے امریکی حملوں سے متعلق قیاس آرائیوں کے درمیان جنگ کے سفارتی حل پر زور دیا ہے۔

    جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق جنوبی کوریا کے اپنے دورے کے اختتام پر جمعہ کے روز انھوں نے کہا کہ ’میں صرف تمام فریقوں سے یہ درخواست کر سکتا ہوں کہ وہ اس بات کو تسلیم کریں کہ اس تنازع کا کوئی فوجی حل موجود نہیں۔‘

    مرٹز کا کہنا تھا کہ جرمنی جنگ کو جلد از جلد ختم کرنے کے لیے مختلف ذرائع کے ذریعے سفارتی کوششوں میں اضافہ کر رہا ہے۔

    جرمن چانسلر کا یہ بھی کہنا کہ ان کا ملک معاشی طور پر جنگ کے جلد خاتمے میں دلچسپی رکھتا ہے، اور توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتیں پہلے ہی یورپ کو 100 ارب یورو سے زیادہ کا نقصان پہنچا چکی ہیں۔

  3. آبنائے ہرمز کے غیر مجاز راستے سے گزرنے کی کوشش کرنے والا تیسرا آئل ٹینکر بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا: پاسدارانِ انقلاب کا دعویٰ

    ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ دو ملین سے بیرل زائد تیل لے جانے والا ایک سپر ٹینکر آبنائے ہرمز میں بحری بارودی سرنگ سے ٹکرا گیا ہے جس کے بعد اس میں آگ لگ گئی۔

    پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ کے مطابق ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کے ’غیر مجاز‘ قرار دیے گئے راستے سے جمعہ کے روز گزرنے کی کوشش کے دوران حادثے کا شکار ہونے والا یہ تیسرا آئل ٹینکر ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کی بحریہ نے کہا ہے کہ ٹینکر آبنائے ہرمز کے دہانے پر اب بھی کھڑا ہے اور اس میں اب بھی آگ لگی ہوئی ہے۔

    پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے ٹینکر کا نام اور اس کی دیگر تفصیلات نہیں بتائی گَئی ہیں۔ بیان میں ٹینکر کے عملے کی صورتِ حال کے متعلق بھی کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔

    پاسدارانِ انقلاب کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

    اس سے قبل پاسداران انقلاب کی بحریہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے مشرقی اور مغربی حصوں میں دو آئل ٹینکر ایک ایسے راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران حادثے کا شکار ہو گئے جسے ایران غیر مجاز قرار دیتا ہے، اور بعد ازاں آبنائے کے جنوبی پانیوں میں رک گئے۔

    پاسداران انقلاب کے مطابق دونوں آئل ٹینکروں نے اپنے نیویگیشن اور مقام معلوم کرنے والے نظام بند کر رکھے تھے اور وہ ’امریکی فوج کی حمایت سے‘ آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

  4. میری 377 کنال زمین نیلام کی جا رہی ہے: پی ٹی آئی رہنما زلفی بخاری

    پاکستان تحریکِ انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما اور سابق وفاقی وزیر زلفی بخاری کا کہنا ہے کہ ان کی 377 کنال زمین نیلام کی جا رہی ہے۔

    زلفی بخاری نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اسسٹنٹ کشنر جنڈ کی جانب سے جائیداد کی نیلامی کا ایک اشتہار شیئر کیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ ڈپٹی ڈائریلٹر قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکم کے تحت 11 نومبر کو زلفی بخاری کی ضلع اٹک کی تحصیل جنڈ میں واقع جائیداد بذریعہ عوامی نیلامی فروخت کی جائے گی۔

    سابق وزیر کا کہنا ہے کہ ’پہلے میری تقریباً 800 کنال زرعی اراضی نیلام کی گئی، اسلام آباد اور اٹک میں میرے گھر سیل کیے گئے اور اٹک کی زمین بھی نیلام کر دی گئی۔ اب جنڈ میں مزید 377 کنال زمین نیلامی کے لیے پیش کر دی گئی ہے۔‘

    پی ٹی آئی رہنما کا کہنا ہے کہ ’اگر عمران خان سے وفاداری کی یہی قیمت ہے تو میں ہر قیمت ادا کرنے کے لیے تیار ہوں، لیکن خان صاحب کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا۔‘

    انھوں نے اپنے ایک پیغام میں کہا ہے کہ آپ جائیداد ضبط کر سکتے ہیں، روزگار کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں اور ذاتی مشکلات پیدا کر سکتے ہیں، لیکن جبر کے ذریعے کسی سے سیاسی اطاعت حاصل نہیں کر سکتے۔‘

  5. آبنائے ہرمز کے قریب حملے کا شکار ہونے والے جہاز کے 25 اہلکاروں کو ریسکیو کر لیا گیا

    عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے کہا ہے کہ عمانی بحریہ نے پانامہ کے پرچم تلے چلنے والے ایک تجارتی جہاز کے 25 اہلکاروں کو بحفاظت نکال لیا ہے۔ جہاز حملے کے بعد آگ لگنے سے متاثر ہوا تھا۔

    خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق یہ واقعہ عمان کے علاقے مسندم کے ساحل سے تقریباً 1.6 بحری میل کے فاصلے پر پیش آیا، جہاں جہاز کو نشانہ بنایا گیا۔

    عمان کے میری ٹائم سکیورٹی سینٹر نے جمعہ کو جاری بیان میں کہا کہ بحریہ نے مرکز کے ساتھ رابطے اور تعاون کے ذریعے جہاز کے عملے کو منتقل کیا اور انھیں ضروری طبی سہولیات فراہم کیں۔

    بیان میں حملے کی نوعیت، ممکنہ ذمہ داروں یا جہاز کی موجودہ صورتحال کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

  6. ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی: ٹرمپ

    امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ان کے خیال میں ایران کے ساتھ جنگ جلد ختم ہو جائے گی، تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ جنگ کس طرح ختم ہو گی۔

    ٹرمپ نے آج، امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات سے قبل، کنساس سٹی کے ایک مقامی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا: ’یہ معاملہ جلد نمٹ جائے گا۔ ہمیں اس بات کی ضمانت درکار ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔‘

    ٹرمپ اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ امریکہ انتخابات کے انعقاد سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کرے گا۔

  7. وارننگ نظرانداز کرنے والے دو آئل ٹینکر آبنائے ہرمز میں حادثے کا شکار ہو کر رک گئے: پاسداران انقلاب کا دعویٰ

    ایران کے پاسداران انقلاب کی بحریہ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کے مشرقی اور مغربی حصوں میں دو آئل ٹینکر ایک ایسے راستے سے گزرنے کی کوشش کے دوران حادثے کا شکار ہو گئے جسے ایران غیر مجاز قرار دیتا ہے، اور بعد ازاں آبنائے کے جنوبی پانیوں میں رک گئے۔

    پاسداران انقلاب کے مطابق دونوں آئل ٹینکروں نے اپنے نیویگیشن اور مقام معلوم کرنے والے نظام بند کر رکھے تھے اور وہ ’امریکی فوج کی حمایت سے‘ آبنائے ہرمز سے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے۔

    بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ متعدد ریڈیو وارننگز کو نظر انداز کرنے کے بعد یہ جہاز ایک غیر محفوظ علاقے میں داخل ہوئے، جہاں انھیں حادثہ پیش آیا۔

    پاسداران انقلاب نے ان جہازوں کے رک جانے اور ان میں لگنے والی آگ کی ذمہ داری بھی امریکہ اور ایرانی قواعد و ضوابط کی مبینہ خلاف ورزی پر عائد کی ہے۔

    تاہم جاری کردہ بیان میں آئل ٹینکروں کے نام، رجسٹریشن یا عملے کی صورتحال کے بارے میں کوئی تفصیل نہیں دی گئی، اور اس واقعے کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

  8. انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ میں ہیلی کاپٹر لاپتہ، پائلٹ سمیت چھ افراد سوار تھے

    انڈیا کی ریاست اتراکھنڈ کے ضلع چمولی میں بدری ناتھ سے دہرادون جانے والا ایک ہیلی کاپٹر لاپتا ہونے کے بعد حادثے کا شکار ہو گیا۔ ہیلی کاپٹر میں پائلٹ سمیت چھ افراد سوار تھے۔

    اطلاعات کے مطابق ٹرانس بھارت ایوی ایشن کا ہیلی کاپٹر بدری ناتھ سے دہرادون کے علاقے سہسرا دھارا جا رہا تھا کہ جوشی مٹھ وادی کے اوپر پرواز کے دوران اس سے رابطہ منقطع ہو گیا۔

    اتراکھنڈ کے وزیرِ اعلیٰ پشکر سنگھ دھامی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ جوشی مٹھ کے قریب چائی گاؤں کے علاقے میں ہیلی کاپٹر حادثے کی اطلاع موصول ہوئی ہے۔ ان کے مطابق ضلعی انتظامیہ، محکمہ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ایس ڈی آر ایف مشترکہ طور پر امدادی کارروائیاں کر رہے ہیں اور وہ خود صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔

    اتراکھنڈ سول ایوی ایشن ڈویلپمنٹ اتھارٹی (یوکاڈا) کے مطابق ہیلی کاپٹر نے دوپہر تقریباً 1:14 بجے بدری ناتھ سے پرواز بھری تھی، جس کے بعد جوشی مٹھ وادی کے اوپر اس سے رابطہ ختم ہو گیا۔

    فی الحال چمولی ضلعی انتظامیہ اور ایس ڈی آر ایف کی ٹیمیں تلاش اور امدادی کارروائیوں میں مصروف ہیں۔

    ابتدائی اطلاعات میں جوشی مٹھ کے ایس ڈی ایم کے حوالے سے ہیلی کاپٹر کی کریکش لینڈنگ کی خبر دی گئی تھی، تاہم یوکاڈا کی تفصیلی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پرواز کے دوران ہیلی کاپٹر لاپتا ہوا اور اس کا درست مقام معلوم نہیں ہو سکا۔ اس لیے ابھی یہ واضح نہیں کہ ہیلی کاپٹر حادثے کا شکار ہوا، ہنگامی لینڈنگ کی یا اس کے ساتھ کوئی اور واقعہ پیش آیا۔

  9. آبنائے ہرمز سے نکلنے والے ایک آئل ٹینکر کے ڈھانچے کے ساتھ دھماکہ خیز مواد لگا کر اسے نشانہ بنایا گیا ہے: یو کے ایم ٹی او

    برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز سینٹر (یو کے ایم ٹی او) نے ایک رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز سے نکلنے والے ایک آئل ٹینکر کے ڈھانچے کے ساتھ دھماکہ خیز مواد لگا کر اسے نشانہ بنایا ہے جس کے نتیجے میں آئل ٹینکر میں آگ لگ گئی ہے۔

    رپورٹ کے مطابق عمان کے شہر خصب کے شمال مشرق میں 25 ناٹیکل میل کے فاصلے پر ایک چھوٹی کشتی ٹینکر کے قریب آئی اور اس کے ڈھانچے کے بائیں جانب دو دھماکا خیز آلات نصب کیے۔

    یو کے ایم ٹی آو کا کہنا ہے کہ ان دھماکا خیز مواد کے پھٹنے سے انجن روم میں آگ بھڑک اٹھی اور ٹینکر عارضی طور پر ناکارہ ہو گیا۔ تاہم آگ پر قابو پا لیا گیا اور جہاز نے اپنی اگلی بندرگاہ کی جانب سفر جاری رکھا۔

    عملے کے تمام ارکان محفوظ ہیں اور کسی قسم کے ماحولیاتی نقصان کی نھی اطلاع نہیں ہے۔

  10. بریکنگ, ایران۔امریکہ رابطوں میں پیش رفت کی کوششیں، قطری وفد تہران پہنچ گیا

    ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا نے تصدیق کی ہے کہ ایک قطری وفد جمعہ 30 اکتوبر کی صبح تہران پہنچا ہے، جہاں وہ ایرانی حکام کے ساتھ مذاکرات کرے گا۔

    ارنا کے مطابق اس وفد کی قیادت قطری وزیرِ اعظم اور وزیرِ خارجہ کے ایک سینئر مشیر کر رہے ہیں۔ وفد کے دورے کے دوران دوطرفہ تعلقات اور خطے کی تازہ صورتحال پر مشاورت کی جائے گی۔

    اس سے قبل خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک باخبر عہدے دار کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ قطری ثالث ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ معاہدے تک پہنچنے کی کوششوں کے تحت، واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے، تہران کا دورہ کر رہے ہیں۔

    روئٹرز کے مطابق مذاکرات سے واقف ایک عہدے دار نے بتایا کہ قطری وفد نے گذشتہ اتوار (25 اکتوبر) کو تہران کے دورے کے دوران ایران کو ایک مجوزہ امن منصوبہ پیش کیا تھا۔ تاہم ایک سینئر ایرانی عہدے دار نے ان تجاویز کو ناقابلِ قبول قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ تہران اپنے جوہری مؤقف پر قائم رہے گا۔

    رپورٹ کے مطابق واشنگٹن چاہتا ہے کہ مذاکرات کے آغاز ہی سے جوہری معاملہ ایجنڈے میں شامل ہو، جبکہ تہران کا اصرار ہے کہ امریکہ پہلے ایرانی بندرگاہوں کے محاصرے کا خاتمہ کرے اور ایرانی تیل کی برآمدات پر عائد پابندیاں اٹھائے۔

    ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے بدھ کو کہا تھا کہ تہران ثالثوں کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہے تاکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے مجوزہ سات روزہ منصوبے پر عمل درآمد کے امکانات کا جائزہ لیا جا سکے۔

    دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی میڈیا میں نائب صدر جے ڈی وینس کے ایران سے رابطوں کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ان رابطوں کا مقصد طبی سامان کی فراہمی سے متعلق بات چیت تھا، تاہم امریکی میڈیا نے ان روابط کو امن مذاکرات بحال کرنے کی کوششوں سے جوڑا ہے۔

    ارنا نے اپنی رپورٹ میں ایران اور امریکہ کے درمیان کسی ممکنہ مذاکرات میں قطری وفد کے کردار کا کوئی ذکر نہیں کیا۔

  11. آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز پر حملوں کی اطلاعات پر تیل کی قیمتوں میں اضافہ

    آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکرز کے بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کی اطلاعات پر عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان ہے۔ جمعے کو برینٹ کروڈ آئل کی قیمت ایک ڈالر 20 سینٹ بڑھ کر 116 ڈالر ہو گئی ہے۔

    قطر کے نشریاتی ادارے الجزیرہ کے مطابق اس ماہ کے دوران برینٹ کروڈ آئل کی قیمتوں میں تقریباً 11 فیصد اضافے کا امکان ہے۔

  12. ایران اور یوکرین کی جنگ کے سائے میں جی 20 وزرائے خارجہ کا اجلاس

    جی 20 کے وزرائے خارجہ کا اجلاس آج امریکی ریاست جارجیا کے شہر اٹلانٹا میں منعقد ہونے والا ہے۔

    یہ اجلاس امریکہ کے اہم وسط مدتی انتخابات سے صرف چند روز قبل ہو رہا ہے، اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو اپنے جی 20 ہم منصبوں کی میزبانی کریں گے، جن میں روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف بھی شامل ہیں۔

    یہ اجلاس ایسے وقت میں منعقد ہو رہا ہے جب شرکا کے درمیان اہم امور پر شدید اختلافات کی توقع کی جا رہی ہے۔ یوکرین اور ایران سے متعلق جنگوں کے ساتھ ساتھ توانائی کی قیمتوں میں شدید اضافے نے ممالک کے درمیان کشیدگی کو مزید بڑھا دیا ہے۔

    توقع نہیں کی جا رہی کہ جی 20 کا یہ اجلاس، جس میں چین، انڈیا، روس، جاپان، جرمنی اور فرانس سمیت بڑی معیشتیں شامل ہیں، کوئی نمایاں پیش رفت حاصل کر سکے گا، کیونکہ روس کی یوکرین کے خلاف جنگ اور ایران سے متعلق تنازع کے اثرات پر اختلافات بدستور موجود ہیں۔

    ٹرمپ انتظامیہ، جو جلد جی 20 کی گردشی صدارت برطانیہ کے حوالے کرنے والی ہے، کا مؤقف ہے کہ یہ فورم اپنی بنیادی ذمہ داری سے دور ہو گیا ہے۔

    واشنگٹن نے وعدہ کیا ہے کہ جی 20 کو دوبارہ اپنے اصل مقصد، یعنی عالمی اقتصادی ترقی کے فروغ، کی طرف واپس لایا جائے گا۔ امریکی حکام کا استدلال ہے کہ سلامتی اور اقتصادی خوشحالی ایک دوسرے سے الگ نہیں کی جا سکتیں اور دونوں کا گہرا تعلق ہے۔

  13. سعودی قیادت کے اتحاد کا مکہ میں حوثیوں کے ڈرون کو تباہ کرنے کا دعویٰ

    سعودی عرب کی قیادت میں قائم فوجی اتحاد نے اعلان کیا ہے کہ مکہ کے علاقے میں ایک ڈرون کو مار گرایا گیا ہے۔

    اتحاد نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا ’حوثی ملیشیا کی جانب سے بھیجا گیا ایک ڈرون مکہ کے علاقے میں روکا گیا اور تباہ کر دیا گیا۔‘

    اتحاد کے مطابق ڈرون کو مکہ کے فضائی علاقے میں داخل ہونے سے پہلے ہی نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں مزید کوئی تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

  14. کرپٹو کی بڑی کمپنی بائنانس ممکنہ طور پر تاریخ کے سب سے بڑے ہیک کا شکار

    کرپٹو کرنسی کی بڑی کمپنی بائنانس نے جمعرات کو کہا ہے کہ 6.3 ارب ڈالر مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے ایک ایسے سائبر حملے سے متاثر ہوئے ہیں جو ممکنہ طور پر تاریخ کا سب سے بڑا کرپٹو ہیک ثابت ہو سکتا ہے۔

    دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج نے بتایا کہ متاثرہ اثاثوں میں سے تقریباً نصف کو دیگر پلیٹ فارمز کے تعاون سے منجمد کر دیا گیا ہے، جبکہ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ’تمام نقصانات کا ازالہ کرے گی۔‘

    بائنانس کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ممکنہ طور پر کمپنی کے ایک انجینئر کا لیپ ٹاپ ہیک ہو گیا تھا، جس کے نتیجے میں حملہ آور کو غیر مجاز طور پر رقوم منتقل کرنے کا موقع ملا۔

    دو کرپٹو تجزیاتی اداروں نے اس حملے کا تعلق شمالی کوریا کے ہیکنگ گروپ ٹریڈر ٹریٹر سے جوڑا ہے۔ یہ حملہ 2025 میں بائی بٹ ایکسچینج سے 1.5 ارب ڈالر کی کرپٹو چوری کے ریکارڈ سے بھی بڑا بتایا جا رہا ہے۔

    مصنوعی ذہانت پر مبنی تحقیقاتی کمپنی ٹی آر ایم لیبز نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ بائنانس پر حملے کی کئی خصوصیات ماضی کے شمالی کوریا سے منسلک سائبر حملوں، بشمول بائی بٹ ہیک، سے مشابہت رکھتی ہیں۔

    ٹی آر ایم لیبز کے عالمی سربراہ برائے پالیسی ایری ریڈبورڈ نے بی بی سی سے گفتگو میں کہا کہ بائنانس پر حملہ ’ایک اہم موڑ‘ ہے اور اس نوعیت کا واقعہ ماضی میں کرپٹو صنعت نے نہیں دیکھا۔

    انھوں نے مزید کہا کہ حملہ آور اب بھی چوری شدہ اثاثوں کی ایک بہت بڑی مقدار اپنے قبضے میں رکھتا ہے، جس کا مطلب ہے کہ رقوم کا سراغ لگانے اور انھیں واپس حاصل کرنے کی کوششیں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔

    ایک اور کرپٹو تجزیاتی کمپنی چین اینالیسس نے بھی کہا ہے کہ اسے ’بہت زیادہ یقین‘ ہے کہ شمالی کوریا کا یہی گروہ اس حملے میں ملوث ہے۔

    چین اینالیسس کے سربراہ برائے تحقیق ایرک جارڈین نے تمام کرپٹو ایکسچینجز کو چوکس رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ان پلیٹ فارمز پر موجود اثاثوں کی بھاری مالیت انھیں ہیکرز کے لیے انتہائی پرکشش ہدف بناتی ہے۔

    بائنانس نے بی بی سی کے ان سوالات کا براہ راست جواب نہیں دیا جن میں حملے کے شمالی کوریا سے ممکنہ تعلق کے بارے میں پوچھا گیا تھا، تاہم کمپنی نے کہا ’ہم قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ قریبی تعاون کر رہے ہیں تاکہ ان مجرموں کی شناخت کی تصدیق کی جا سکے اور انھیں انصاف کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔‘

    یہ واقعہ بائنانس ڈاٹ کام سے متعلق ہے، جبکہ نسبتاً چھوٹے پلیٹ فارم بائنانس ڈاٹ یو ایس نے کہا ہے کہ امریکی صارفین کو خدمات فراہم کرنے والا اس کا پلیٹ فارم اس مسئلے سے متاثر نہیں ہوا۔

  15. کینیڈا کی خلیج فارس میں تین جزائر پر متحدہ عرب امارات کے ملکیت کے دعوے کی حمایت

    کینیڈا کے وزیرِاعظم مارک کارنی نے خلیج فارس کے تین متنازع جزائر پر متحدہ عرب امارات کے دعوۂ ملکیت کی حمایت کی ہے۔

    یہ حمایت ابوظہبی کے ولی عہد شیخ خالد بن محمد بن زاید آل نہیان کے کینیڈا کے دورے کے موقع پر سامنے آئی۔

    اس ملاقات کے بعد 28 اکتوبر کو جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں دونوں ممالک نے مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کو فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

    مشترکہ اعلامیے کی آخری شق میں تنبِ بزرگ، تنبِ کوچک اور ابوموسی کے جزائر کا ذکر کرتے ہوئے ان پر اماراتی دعوے کی حمایت کی گئی اور ایران کی جانب سے ان جزائر کے مبینہ ’قبضے‘ کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا۔

    اعلامیے میں کہا گیا ’دونوں ممالک تنبِ بزرگ، تنبِ کوچک اور ابوموسی کے جزائر پر قبضے کے خاتمے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اسے متحدہ عرب امارات کی قومی خودمختاری اور اقوام متحدہ کے منشور کی خلاف ورزی سمجھتے ہیں۔‘

    دوسری جانب، ایران ان تینوں جزائر کو اپنے ملک کا اٹوٹ حصہ قرار دیتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا ہے کہ یہ جزائر ماضی میں برطانوی قبضے میں تھے۔

    ایران کا کہنا ہے کہ اس کی بحریہ نے 1971 میں متحدہ عرب امارات کے قیام سے قبل ان سٹریٹیجک اہمیت کے حامل جزائر کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔

  16. ٹرمپ ایران کے ساتھ تنازعے کو ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے: جے ڈی وینس

    امریکہ کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ فوجی تنازعے کو ’لامتناہی جنگ‘ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔

    انھوں نے مشرقِ وسطیٰ میں امریکی حکومت کی فوجی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ طویل جنگوں کی مخالفت کا مطلب ہر قسم کی فوجی طاقت کے استعمال کی مخالفت نہیں ہے۔

    وینس ٹیکساس کی ریاست کے شہر فورٹ ورتھ میں ووٹرز کے ساتھ سوال و جواب کی ایک نشست میں گفتگو کر رہے تھے، جسے فاکس نیوز نے نشر کیا۔

    وہ ایک رپبلکن ووٹر کے سوال کا جواب دے رہے تھے، جس نے پوچھا تھا کہ آیا ٹرمپ انتظامیہ نے بیرونِ ملک مہنگی جنگوں کے خاتمے کا اپنا وعدہ پورا کیا ہے یا نہیں۔

    امریکی نائب صدر نے عراق میں اپنی فوجی خدمات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ’میں مشرقِ وسطیٰ میں فوجی مہم جوئی سے متعلق عوام کی مایوسی کو سمجھتا ہوں۔‘

    انھوں نے مزید کہا کہ ’ہم تقریباً سات ماہ سے کسی نہ کسی شکل میں ایران کے معاملے میں مصروف ہیں۔ امریکہ 47 برس سے ایران سے نمٹ رہا ہے، اور میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے معاملے کو ایک لامتناہی جنگ میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے۔‘

    وینس نے مزید کہا کہ بیرونِ ملک طویل فوجی مداخلتوں کی مخالفت کا یہ مطلب نہیں کہ امریکہ فوجی طاقت کے استعمال سے مکمل طور پر گریز کرے۔

    انھوں نے زور دیا کہ ٹرمپ امریکی اہداف حاصل کریں گے اور اس کے بعد حکومت اپنی دیگر ترجیحات پر توجہ مرکوز کر سکے گی۔

  17. امریکہ کے وسط مدتی انتخابات: قبل از وقت ووٹنگ میں ریکارڈ اضافہ، ’4 کروڑ 30 لاکھ سے زائد ووٹ پہلے ہی ڈالے جا چکے ہیں‘, میکس مٹزا، بی بی سی نیوز

    امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں اب ایک ہفتے سے بھی کم وقت باقی ہے، اور یہ انتخابات آئندہ دو برس کے لیے یہ طے کریں گے کہ کانگریس پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا۔ اس سے قبل ہی 4 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ امریکی اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔

    یونیورسٹی آف فلوریڈا الیکشن لیب کے اعداد و شمار کے مطابق روزانہ 40 سے 50 لاکھ کے درمیان قبل از وقت ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جو گذشتہ بیشتر انتخابات کے مقابلے میں کہیں زیادہ شرح ہے۔

    ڈیٹا بیس چلانے والے پروفیسر مائیک میک ڈونلڈ کے مطابق اب تک اوسط سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ ٹیکساس میں دیکھا گیا ہے۔ ہسپانوی نژاد امریکی برادریوں میں بھی ووٹنگ کی شرح معمول سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔

    مجموعی طور پر ووٹر ٹرن آؤٹ 2020 کے مقابلے میں زیادہ رہنے کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے، اور ممکن ہے کہ 2018 کا ریکارڈ بھی ٹوٹ جائے، جس نے 1914 کے بعد کسی بھی وسط مدتی انتخاب میں سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔

    میک ڈونلڈ کے مطابق ٹیکساس میں 2022 کے مقابلے میں تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار زیادہ ووٹرز پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ریاست میں 58 لاکھ سے زائد بیلٹ کاسٹ ہو چکے ہیں۔ ٹیکساس ایک اہم انتخابی میدان بن کر ابھرا ہے، جہاں کے نتائج یہ طے کر سکتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے باقی عرصے میں سینیٹ کا کنٹرول کس جماعت کے پاس ہوگا۔

    ان ریاستوں کے اعداد و شمار جہاں ووٹرز کو سیاسی وابستگی درج کرانا ضروری ہے، ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں کی ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ رپبلکن ووٹرز کی قبل از وقت ووٹنگ کی تعداد مجموعی طور پر 2022 کے برابر ہے۔

    میک ڈونلڈ کے مطابق ایسے ووٹرز کی جانب سے بھی قبل از وقت ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے جنہوں نے کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ظاہر نہیں کی، تاہم دستیاب اعداد و شمار سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے کس امیدوار کو ووٹ دیا۔

    جمعرات کے اعداد و شمار کے مطابق قبل از وقت ڈالے گئے ووٹوں میں سے 44 فیصد ڈیموکریٹس، 31.2 فیصد ریپبلکنز اور 24.7 فیصد غیر وابستہ ووٹرز کے تھے۔ تاہم یہ اعداد و شمار صرف ان تقریباً نصف ریاستوں سے متعلق ہیں جہاں سیاسی وابستگی درج کرنا لازمی ہے۔

    شمالی کیرولائنا، جارجیا اور فلوریڈا وہ تین ریاستیں ہیں جہاں رجسٹریشن کے وقت نسلی شناخت بھی درج کرنی ہوتی ہے۔ ان ریاستوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہسپانوی اور سیاہ فام برادریوں کی ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سفید فام ووٹرز کی شرکت 2022 کی قبل از وقت ووٹنگ کے برابر ہے۔

    میک ڈونلڈ کے مطابق، ’یہ فطری بات ہے کیونکہ نسلی اقلیتوں کی برادریاں زیادہ تر ڈیموکریٹک اتحاد کا حصہ ہوتی ہیں، جبکہ سفید فام ووٹرز عموماً ریپبلکن اتحاد سے وابستہ ہوتے ہیں۔‘

    ٹیکساس میں ووٹرز کے لیے سیاسی وابستگی یا نسلی شناخت درج کرنا ضروری نہیں، تاہم اعداد و شمار میکسیکو کی سرحد سے متصل بعض اضلاع میں ووٹنگ میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں 90 فیصد سے زیادہ آبادی ہسپانوی نژاد افراد پر مشتمل ہے۔

    میک ڈونلڈ کہتے ہیں، ’جب میں ان اضلاع کو دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض صرف قبل از وقت ووٹنگ ہی کے دوران 2022 کے مجموعی ٹرن آؤٹ سے آگے نکل جائیں گے۔‘

    حالیہ برسوں میں قبل از وقت ووٹنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ کووڈ وبا تھی، جب مزید ریاستوں نے ذاتی طور پر اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سمیت قبل از وقت ووٹنگ کی سہولتیں فراہم کیں۔

    2020 کے انتخابات میں، جب امریکی ووٹرز ایک ساتھ صدر اور قانون سازوں کا انتخاب کر رہے تھے، تمام ووٹوں میں سے دو تہائی سے زیادہ قبل از وقت ڈالے گئے تھے، جن میں سے تقریباً نصف ووٹ ڈاک کے ذریعے کاسٹ کیے گئے تھے۔

    میک ڈونلڈ کے مطابق، اب ووٹرز قبل از وقت ووٹنگ کے باوجود زیادہ تر ذاتی طور پر ووٹ ڈالنے کو ترجیح دیتے ہیں، اور وہ پہلے کے مقابلے میں اپنے ووٹ بھی زیادہ جلدی جمع کرا رہے ہیں۔

  18. لیجنڈری اداکار سر پیٹرک سٹیورٹ 86 برس کی عمر میں چل بسے

    معروف سٹیج اور سٹار ٹریک کے لیجنڈری اداکار سر پیٹرک سٹیورٹ 86 برس کی عمر میں چل بسے ہیں

    ان کی وفات پر دنیا بھر سے خراجِ عقیدت پیش کیا جا رہا ہے۔

    سر ایئن میک کیلن نے انھیں ایسا شخص قرار دیا ’جس کی تعریف کی جا سکتی تھی اور میرے معاملے میں، جس سے محبت بھی کی جا سکتی تھی۔‘

    سٹار ٹریک میں ان کے ساتھی اداکاروں نے بھی انھیں خراجِ تحسین پیش کیا۔ ولیم شیٹنر نے کہا کہ سٹیورٹ ’ہماری بہترین اقدار کی نمائندگی کرتے تھے‘، جبکہ جارج ٹاکی نے انھیں ’ایسا لیجنڈ قرار دیا جس کا کوئی متبادل نہیں۔‘

    سٹیورٹ کا ایوارڈ یافتہ کیریئر سات دہائیوں پر محیط تھا، اور فلم و ٹی وی کے علاوہ انھوں نے ویسٹ اینڈ اور براڈوے کے سٹیج پر بھی نمایاں کردار ادا کیے۔

    رائل شیکسپیئر کمپنی، جہاں انھوں نے اپنے فنکارانہ سفر کے ابتدائی دن گزارے، نے انھیں ’عظیم الشان شخصیت‘ قرار دیا ہے، جبکہ لاس اینجلس میں مداح ہالی ووڈ واک آف فیم پر موجود ان کے ستارے کے پاس جمع ہو رہے ہیں۔

    سوشل میڈیا پر جاری ایک بیان کے مطابق سر پیٹرک سٹیورٹ بدھ کے روز لاس اینجلس میں اپنے گھر پر وفات پا گئے۔

    اکیڈمی آف موشن پکچر آرٹس اینڈ سائنسز نے سوشل میڈیا پر خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’اس بات میں کچھ غیر معمولی تھا کہ سر پیٹرک سٹیورٹ انتہائی طاقتور کرداروں کو بھی گہری انسانی خصوصیات کے ساتھ پیش کرنے کی صلاحیت رکھتے تھے۔‘

    آسکر ایوارڈز پیش کرنے والی اکیڈمی نے اپنے بیان میں کہا کہ ’سر پیٹرک سٹیورٹ نے اپنے کرداروں میں ایسی نرمی اور حساسیت پیدا کی کہ ہمیں محسوس ہوتا تھا جیسے ہم انھیں ذاتی طور پر جانتے ہوں۔‘

    بیان میں مزید کہا گیا ’اس منفرد اور پہچانی جانے والی آواز کے پیچھے ایک ایسا اداکار تھا جو سمجھتا تھا کہ عظیم ترین ہیرو بھی غیر یقینی کا شکار ہو سکتے ہیں، کہ طاقت اور کمزوری ایک ساتھ موجود ہو سکتی ہیں، اور یہ کہ ہمدردی کبھی کمزوری نہیں ہوتی۔‘

    اگرچہ سر پیٹرک سٹیورٹ نے کبھی آسکر ایوارڈ نہیں جیتا، لیکن انھوں نے اپنے کیریئر کے دوران متعدد اعزازات حاصل کیے، جن میں ایک گریمی ایوارڈ اور دو لارنس اولیویئر ایوارڈز شامل ہیں۔

  19. اربوں ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی مشتبہ بائنانس ہیک کے بعد منجمد

    کرپٹو کرنسی کی بڑی کمپنی بائنانس نے جمعرات کو کہا ہے کہ اس نے تقریباً 3 ارب ڈالر (2.24 ارب پاؤنڈ) مالیت کے ڈیجیٹل اثاثے منجمد کر دیے ہیں تاکہ سکیورٹی سے متعلق ایک مسئلے کی تحقیقات کے دوران انھیں چوری ہونے سے روکا جا سکے۔

    کمپنی نے آن لائن جاری کیے گئے متعدد اعلانات میں بتایا کہ سکیورٹی جانچ مکمل ہونے تک تمام ڈپازٹس اور رقم نکالنے کی سہولت عارضی طور پر معطل کر دی گئی ہے، جبکہ کمپنی نے یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ ’تمام نقصانات کا ازالہ کرے گی‘۔

    بائنانس کے سابق سربراہ چانگ پینگ ژاؤ، جو اب بھی کمپنی کے اکثریتی شیئر ہولڈر ہیں، نے کہا: ’ایسا لگتا ہے کہ بائنانس پر واقعی ہیکر حملہ ہوا ہے۔‘

    کرپٹو کرنسی کی دو دیگر بڑی کمپنیوں، ٹیتھر اور سرکل، نے بھی کہا ہے کہ انھوں نے بائنانس پر ممکنہ ہیکر حملے کے جواب میں مجموعی طور پر تقریباً 2.4 ارب ڈالر مالیت کے اثاثے منجمد کر دیے ہیں۔

    بائنانس نے کہا کہ منجمد کیے گئے فنڈز کی مالیت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے کیونکہ اس کی ٹیمیں قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر مزید اثاثوں کی نشاندہی اور ضبطی کے لیے کام کر رہی ہیں۔

    کمپنی نے کہا، ’ہم چوبیس گھنٹے کام کر رہے ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ایک تفصیلی رپورٹ جاری کریں گے۔ تازہ معلومات کے لیے صرف بائنانس کے سرکاری ذرائع پر اعتماد کریں۔‘

    کمپنی نے مزید کہا کہ صارفین کے فنڈز محفوظ ہیں۔

    بائنانس روزانہ لین دین کے حجم کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا کرپٹو کرنسی ایکسچینج ہے۔

    ان اعلانات کے بعد بٹ کوائن کی قیمت میں تقریباً پانچ فیصد کمی دیکھی گئی۔ ایتھیریم اور سولانا سمیت دیگر بڑی کرپٹو کرنسیوں کی قیمتیں بھی نمایاں طور پر گر گئیں۔

    سرکل کے چیف ایگزیکٹو جیریمی الیئر نے کہا کہ ان کی کمپنی ’بائنانس سے متعلق ممکنہ سکیورٹی خلاف ورزی کی رپورٹس پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے‘ اور اس واقعے سے منسلک 80 کروڑ ڈالر سے زیادہ مالیت کے اثاثے منجمد کر چکی ہے۔

    سرکل یو ایس ڈی سی نامی کرپٹو کرنسی کی جاری کنندہ اور شریک تخلیق کار کمپنی ہے، جو دنیا کی بڑی امریکی ڈالر سے منسلک کرپٹو کرنسیوں میں شمار ہوتی ہے۔

    ٹیتھر کے چیف ایگزیکٹو پاؤلو آردوئنو نے کہا کہ ان کی کمپنی نے ’بائنانس ایکسچینج پر ممکنہ ہیکر حملے سے متعلق‘ تقریباً 1.6 ارب ڈالر منجمد کر دیے ہیں۔

    انھوں نے کہا، ’صنعت اور اپنے شراکت داروں کا تحفظ ہماری اولین ترجیح ہے۔‘

    ٹیتھر یو ایس ڈی ٹی نامی کرپٹو کرنسی جاری کرتی ہے۔

    بائنانس کی جانب سے حملے کی تصدیق سے چند گھنٹے قبل ہی کرپٹو صنعت کے متعدد مبصرین ممکنہ ہیکر حملے کے بارے میں خدشات ظاہر کر چکے تھے۔

    حملے کے اصل حجم اور اثرات ابھی تک واضح نہیں ہیں۔

    2025 میں ہیکرز نے دبئی میں قائم کرپٹو کرنسی ایکسچینج بائی بٹ سے 1.5 ارب ڈالر مالیت کی کرپٹو کرنسی چوری کر لی تھی۔ اس ریکارڈ ساز حملے کا الزام شمالی کوریا سے منسلک ہیکرز پر عائد کیا گیا تھا۔

  20. ایران اور امریکہ معاہدے کے قریب ہیں: امریکہ کے سفیر برائے ترکی

    ترکی میں امریکہ کے سفیر اور ڈونلڈ ٹرمپ کے شام اور عراق کے لیے خصوصی نمائندے ٹام باراک کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اور تہران فوجی کشیدگی میں کمی سے متعلق ایک معاہدے تک پہنچنے کے بہت قریب ہیں۔

    باراک نے جمعرات کو دوحہ میں سی این این سے گفتگو کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ دو ہفتوں کے دوران کشیدگی کم کرنے اور فوجی جھڑپوں کو روکنے کے لیے اہم اقدامات کیے جائیں گے۔

    انھوں نے کہا، ’ہم بہت قریب پہنچ چکے ہیں، اتنے قریب کہ یہ کہہ سکیں کہ آئیے ایک وقفہ لیں اور کشیدگی کی شدت کم کریں‘۔

    باراک نے قطر، پاکستان اور امریکہ کے دیگر اتحادیوں کی سفارتی کوششوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان ممالک نے تہران اور واشنگٹن کے درمیان سیاسی عمل پر اتفاق رائے پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    انھوں نے زور دیا کہ فوری طور پر ایک جامع معاہدہ ممکن نہیں، تاہم دشمنی میں وقفہ پیدا کرکے مزید مذاکرات اور نئے علاقائی انتظامات کی تشکیل کے لیے راہ ہموار کی جا سکتی ہے۔

    ان کے مطابق اس وقت مقصد یہ ہے کہ فریقین پہلے کشیدگی کی شدت کم کریں، پھر خطے کے ممالک کو موقع دیا جائے کہ وہ اپنی رفتار اور حالات کے مطابق زیادہ پائیدار حل تلاش کرنے کی کوشش کریں۔

    باراک نے یہ بھی کہا کہ فوجی طاقت کا استعمال ایک ایسا معاملہ ہے جسے امریکی صدر اور حکومت کے دیگر عہدیدار انتہائی سنجیدگی سے لیتے ہیں، لیکن اس وقت تمام ممکنہ متبادل راستے اختیار کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ایسی کسی کارروائی سے بچا جا سکے۔