امریکہ میں وسط مدتی انتخابات میں اب ایک ہفتے سے بھی کم وقت باقی ہے، اور یہ انتخابات آئندہ دو برس کے لیے یہ طے کریں گے کہ کانگریس پر کس جماعت کا کنٹرول ہوگا۔ اس سے قبل ہی 4 کروڑ 30 لاکھ سے زیادہ امریکی اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔
یونیورسٹی آف فلوریڈا الیکشن لیب کے اعداد و شمار کے مطابق روزانہ 40 سے 50 لاکھ کے درمیان قبل از وقت ووٹ ڈالے جا رہے ہیں، جو گذشتہ بیشتر انتخابات کے مقابلے میں کہیں زیادہ شرح ہے۔
ڈیٹا بیس چلانے والے پروفیسر مائیک میک ڈونلڈ کے مطابق اب تک اوسط سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ ٹیکساس میں دیکھا گیا ہے۔ ہسپانوی نژاد امریکی برادریوں میں بھی ووٹنگ کی شرح معمول سے نمایاں طور پر زیادہ ہے۔
مجموعی طور پر ووٹر ٹرن آؤٹ 2020 کے مقابلے میں زیادہ رہنے کی راہ پر گامزن دکھائی دیتا ہے، اور ممکن ہے کہ 2018 کا ریکارڈ بھی ٹوٹ جائے، جس نے 1914 کے بعد کسی بھی وسط مدتی انتخاب میں سب سے زیادہ ووٹر ٹرن آؤٹ کا ریکارڈ قائم کیا تھا۔
میک ڈونلڈ کے مطابق ٹیکساس میں 2022 کے مقابلے میں تقریباً 17 لاکھ 50 ہزار زیادہ ووٹرز پہلے ہی ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ریاست میں 58 لاکھ سے زائد بیلٹ کاسٹ ہو چکے ہیں۔ ٹیکساس ایک اہم انتخابی میدان بن کر ابھرا ہے، جہاں کے نتائج یہ طے کر سکتے ہیں کہ ڈونلڈ ٹرمپ کی صدارت کے باقی عرصے میں سینیٹ کا کنٹرول کس جماعت کے پاس ہوگا۔
ان ریاستوں کے اعداد و شمار جہاں ووٹرز کو سیاسی وابستگی درج کرانا ضروری ہے، ظاہر کرتے ہیں کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے حامیوں کی ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ رپبلکن ووٹرز کی قبل از وقت ووٹنگ کی تعداد مجموعی طور پر 2022 کے برابر ہے۔
میک ڈونلڈ کے مطابق ایسے ووٹرز کی جانب سے بھی قبل از وقت ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے جنہوں نے کسی سیاسی جماعت سے وابستگی ظاہر نہیں کی، تاہم دستیاب اعداد و شمار سے یہ معلوم نہیں ہوتا کہ انہوں نے کس امیدوار کو ووٹ دیا۔
جمعرات کے اعداد و شمار کے مطابق قبل از وقت ڈالے گئے ووٹوں میں سے 44 فیصد ڈیموکریٹس، 31.2 فیصد ریپبلکنز اور 24.7 فیصد غیر وابستہ ووٹرز کے تھے۔ تاہم یہ اعداد و شمار صرف ان تقریباً نصف ریاستوں سے متعلق ہیں جہاں سیاسی وابستگی درج کرنا لازمی ہے۔
شمالی کیرولائنا، جارجیا اور فلوریڈا وہ تین ریاستیں ہیں جہاں رجسٹریشن کے وقت نسلی شناخت بھی درج کرنی ہوتی ہے۔ ان ریاستوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ ہسپانوی اور سیاہ فام برادریوں کی ووٹنگ میں اضافہ ہوا ہے، جبکہ سفید فام ووٹرز کی شرکت 2022 کی قبل از وقت ووٹنگ کے برابر ہے۔
میک ڈونلڈ کے مطابق، ’یہ فطری بات ہے کیونکہ نسلی اقلیتوں کی برادریاں زیادہ تر ڈیموکریٹک اتحاد کا حصہ ہوتی ہیں، جبکہ سفید فام ووٹرز عموماً ریپبلکن اتحاد سے وابستہ ہوتے ہیں۔‘
ٹیکساس میں ووٹرز کے لیے سیاسی وابستگی یا نسلی شناخت درج کرنا ضروری نہیں، تاہم اعداد و شمار میکسیکو کی سرحد سے متصل بعض اضلاع میں ووٹنگ میں نمایاں اضافے کی نشاندہی کرتے ہیں، جہاں 90 فیصد سے زیادہ آبادی ہسپانوی نژاد افراد پر مشتمل ہے۔
میک ڈونلڈ کہتے ہیں، ’جب میں ان اضلاع کو دیکھتا ہوں تو مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سے بعض صرف قبل از وقت ووٹنگ ہی کے دوران 2022 کے مجموعی ٹرن آؤٹ سے آگے نکل جائیں گے۔‘
حالیہ برسوں میں قبل از وقت ووٹنگ میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کی ایک بڑی وجہ کووڈ وبا تھی، جب مزید ریاستوں نے ذاتی طور پر اور ڈاک کے ذریعے ووٹنگ سمیت قبل از وقت ووٹنگ کی سہولتیں فراہم کیں۔
2020 کے انتخابات میں، جب امریکی ووٹرز ایک ساتھ صدر اور قانون سازوں کا انتخاب کر رہے تھے، تمام ووٹوں میں سے دو تہائی سے زیادہ قبل از وقت ڈالے گئے تھے، جن میں سے تقریباً نصف ووٹ ڈاک کے ذریعے کاسٹ کیے گئے تھے۔
میک ڈونلڈ کے مطابق، اب ووٹرز قبل از وقت ووٹنگ کے باوجود زیادہ تر ذاتی طور پر ووٹ ڈالنے کو ترجیح دیتے ہیں، اور وہ پہلے کے مقابلے میں اپنے ووٹ بھی زیادہ جلدی جمع کرا رہے ہیں۔