جب تک ایران بامعنی مذاکرات کے لیے تیار نہیں ہوتا، ہمیں کوئی دلچسپی نہیں: صدر ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دعویٰ کیا ہے کہ ایران مذاکرات کے بے تاب ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ ’جب تک وہ بامعنی بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتے، ہمیں کوئی دلچسپی نہیں۔‘
وہ اوول آفس میں لبنان کے صدر جوزف عون سے ملاقات کے بعد میڈیا سے بات کر رہے تھے۔
ایران کے بارے میں اے بی سی نیوز کی نامہ نگار میری بروس کے سوال کے جواب میں ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ’آپ نہیں جانتیں کہ پسِ پردہ کیا بات چیت ہو رہی ہے۔‘
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ایران مذاکرات کے لیے بے تاب ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب تک ایران بامعنی انداز میں بات چیت کے لیے تیار نہیں ہوتا امریکہ کو اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔
امریکی صدر نے جوہری ہتھیاروں کو ایران کے ساتھ تنازع کی وجہ قرار دے دیا۔
’یہ سب جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی وجہ جوہری ہتھیار ہیں۔ اگر وہ کسی تنصیب کو دوبارہ فعال کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو ہم اس تنصیب کو نشانہ بنائیں گے۔ ایسی کسی بھی جگہ کو، جہاں وہ جوہری سرگرمیوں کے بارے میں سوچ بھی رہے ہوں گے، ہم پوری طاقت کے ساتھ نشانہ بنائیں گے۔‘
ٹرمپ نے ایران کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’سچ تو یہ ہے کہ انھوں نے ابھی کچھ دیکھا ہی نہیں۔ ہم اب تک نرم رویہ اختیار کیے ہوئے تھے۔‘
جلد مزید ممالک بھی ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو جائیں گے: ٹرمپ کا دعویٰ
اردن کے صدر سے ملاقات کے بعد ابراہیمی معاہدوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کے خیال میں ابراہیمی معاہدے ایک زبردست کامیابی رہے ہیں۔ ’میرا خیال میں آپ بہت جلد مزید کئی ممالک کو اس میں شامل ہوتے دیکھیں گے۔‘
’جیسا کہ آپ جانتے ہیں، اس کا ایک ابتدائی گروپ موجود ہے اور یہ ان کے لیے بہت کامیاب رہا ہے۔ میرے خیال میں لبنان کا بھی اس میں ایک بہت اہم مقام ہے۔‘
بحیرۂ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری ناکہ بندی کی دھمکی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہا کہ اب تک ایسا نہیں ہوا لیکن ممکن ہے کہ ہو بھی جائے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ’ہم معاملات سنبھال لیتے ہیں۔ اگر ایسا کچھ ہوتا ہے تو ہم اس سے نمٹ لیں گے۔‘