آپ اس وقت اس ویب سائٹ کا ٹیکسٹ پر مبنی ورژن دیکھ رہے ہیں جو کم ڈیٹا استعمال کرتا ہے۔ مرکزی ویب سائٹ جہاں تمام تصاویر اور ویڈیوز موجود ہیں دیکھیے
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں کشیدگی پر برطانوی اراکینِ پارلیمنٹ کا خط اور دفتر خارجہ کا جواب: ’بہتر ہوگا وہ اپنے ملک میں مثبت کردار ادا کریں‘
برطانیہ میں حزبِ اختلاف کے رکنِ پارلیمنٹ اور آل پارٹی پارلیمنٹری گروپ برائے کشمیر کے چیئرمین عمران حسین نے کہا ہے کہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کی تشویش میں اضافہ ہوا ہے اور اس حوالے سے وزیرِ خارجہ کو لکھے گئے ایک خط کی حمایت 50 سے زائد پارلیمنٹیرینز نے کر دی ہے۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان میں عمران حسین کا کہنا تھا کہ کشمیر میں مبینہ طور پر جاری لاک ڈاؤن، مواصلاتی بندش، گرفتاریوں اور بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث صورتحال تشویشناک ہے۔ انھوں نے برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سفارتی ذرائع استعمال کرتے ہوئے کشیدگی میں کمی، مواصلات کی بحالی اور مذاکرات کے ذریعے پرامن حل کی کوشش کرے۔
پاکستان نے اس خط اور کچھ اراکین برطانوی پارلیمنٹ کے تبصروں پر ردعمل دیتے ہوئے انھیں ’غیرضروری اور بلاجواز‘ قرار دیتے ہوئے اسے ملک کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیا ہے۔
یاد رہے کہ پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں چند دنوں سے صورتحال کشیدہ ہے اور اس کا سبب حال ہی میں کالعدم قرار دی گئی جموں کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کے درمیان سات اور آٹھ جون کی درمیانی شب ضلع راولا کوٹ میں سی ایم ایچ کے سامنے ہونے والی پُرتشدد جھڑپیں ہیں۔
کشمیر پولیس کے مطابق ان جھڑپوں کے نتیجے میں کشمیر پولیس اور فرنٹیئر کانسٹیبلری کے چار اہلکار اور تین مظاہرین ہلاک ہوئے ہیں۔
یاد رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے 9 جون (منگل) کو کشمیری مہاجرین کی 12 نشستوں کے خاتمے سے متعلق اپنے مطالبے کے حق میں کشمیر بھر میں احتجاج کا اعلان کر رکھا ہے۔ تاہم اس سے قبل ہی کشمیر حکومت نے اس کمیٹی کو کالعدم قرار دینے کے بعد اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز کر دیا ہے۔
کشمیری نژاد برطانوی اراکین پارلیمان کے خط میں کیا مطالبات کیے گئے ہیں؟
برطانوی پارلیمنٹ کے سرکاری لیٹر ہیڈ پر لکھے گئے اس خط، جس کی تاریخ 8 جون 2026 درج ہے، میں وزیرِ خارجہ سے کہا گیا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام ’جموں و کشمیر میں مبینہ مواصلاتی بلیک آؤٹ اور سکیورٹی صورتحال پر وضاحت فراہم کی جائے۔‘
خط کے مطابق برطانیہ میں مقیم کشمیری نژاد افراد نے ارکانِ پارلیمنٹ سے رابطہ کیا ہے اور ’شکایت کی ہے کہ وہ خطے میں اپنے اہلِ خانہ سے رابطہ نہیں کر پا رہے، جس سے شدید بے چینی پھیل رہی ہے۔‘
End of سب سے زیادہ پڑھی جانے والی
اس کے علاوہ خط میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ بعض رپورٹس کے مطابق گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں، حتیٰ کہ ’برطانوی شہری بھی اس سے متاثر ہوئے ہیں، جبکہ حکام اور جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے درمیان مذاکرات تعطل کا شکار ہوئے ہیں۔‘
ارکانِ پارلیمنٹ نے برطانوی حکومت سے یہ بھی پوچھا ہے کہ وہ اس صورتحال میں برطانوی شہریوں کے تحفظ، اطلاعات کی نگرانی اور کشیدگی کم کرنے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے۔
خط میں حکومت پر زور دیا گیا ہے کہ وہ ’کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارتی سطح پر اقدامات کرے، فوری طور پر مواصلاتی بندش ختم کرانے میں کردار ادا کرے۔ فریقین کے درمیان مذاکرات کی بحالی میں معاونت کرے اور انسانی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کرے۔‘
عمران حسین کا کہنا تھا کہ ’مسئلے کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات میں ہے اور کشمیری عوام کے حقوق کو ہر صورت مقدم رکھا جانا چاہیے۔‘
’یہ تبصرے غیر ضروری اور گمراہ کن ہیں‘: دفتر خارجہ
پاکستان کی حکومت نے ان بیانات کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’غیر ضروری اور گمراہ کن‘ قرار دیا ہے۔
اسلام آباد سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ’برطانیہ میں بعض افراد کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے کیے گئے تبصرے داخلی معاملات میں مداخلت کے مترادف ہیں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’پاکستان اور آزاد کشمیر کی حکومتیں شہریوں کے جمہوری حقوق، آزادیِ اظہار اور پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتی ہیں۔‘
حکومتی بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ ’قانون نافذ کرنے والے اداروں پر حملوں یا سرکاری املاک کو نقصان پہنچانے جیسے اقدامات کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔‘
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’برطانیہ میں مقیم کچھ افراد کی جانب سے آزاد جموں و کشمیر کے حوالے سے کیے گئے غیر ذمہ دارانہ اور غلط معلومات پر مبنی اشاروں پر تشویش ہے۔ ان افراد کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ پاکستان اور آزاد جموں و کشمیر کے داخلی معاملات میں مداخلت سے گریز کریں اور بہتر ہوگا کہ وہ اپنے رہائشی ملک میں مثبت کردار ادا کریں۔‘
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ’بعض برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کی جانب سے کیے گئے سوالات اور تبصرے بھی بلاجواز ہیں، جو اس مسئلے کے تاریخی پس منظر سے لاعلمی اور عدم توجہی کو ظاہر کرتے ہیں۔ ان لوگوں کے لیے جو اب بھی نوآبادیاتی دور کے ذہن میں سوچتے ہیں، یہ واضح کرنا ضروری ہے کہ پاکستان ایک خودمختار اور جمہوری ریاست ہے، جو دوسرے ممالک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت پر یقین رکھتی ہے اور دوسروں سے بھی اسی رویے کی توقع کرتی ہے۔‘
مزید کہا گیا ہے کہ ’برطانوی حکومت کو چاہیے کہ وہ کالعدم تنظیموں کی حمایت کرنے والوں کو آگاہ کرے اور انھیں خبردار کرے کہ وہ ایسے اقدامات سے باز رہیں، اور آزاد جموں و کشمیر اور پاکستان کے آئین میں درج جمہوری عمل، عدالتی فیصلوں اور قانون کی بالادستی کا احترام کریں۔‘
پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے وزیرِاعظم فیصل ممتاز راٹھور نے گذشتہ روز بی بی سی اردو کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہا ہے کہ ’ہم کوئی ایسا راستہ تلاش کر رہے ہیں کہ افہام و تفہیم سے مسئلہ حل ہو، کیونکہ ریاست کو ہرا کر وہ (جوائنٹ ایکشن کمیٹی) بھی جیت نہیں سکتے اور اگر ریاست جیت بھی جائے تو انسانی جانوں کے ضیاع کے بدلے حاصل ہونے والی جیت کو، میں جیت تصور نہیں کروں گا۔‘
جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ آیا وہ اپنی حکومت کی جانب سے کالعدم قرار دیے جانے کے بعد بھی جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے بات کرنے کو تیار ہیں؟ تو اُن کا کہنا تھا کہ ’جب طالبان سے بات چیت ہو سکتی ہے، تو اُن سے کیوں نہیں؟‘